تفہیم المسائل
سوال: عرصہ دارز سے بعض ادویات کیپسول Softgel کی صورت میں دستیاب ہیں ۔ کیپسول اور Softgel کے خالی خول جیلیٹن سے بنتے ہیں جو کہ جانوروں کے گوشت، چربی اور ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے، یہ مواد حرام یا حلال بھی ہو سکتے ہیں۔
خصوصاً درآمد شدہ ادویات کی صورت میں حرام ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے کیونکہ مغربی ممالک میں نہ صرف خنزیر کا گوشت بکثرت پایا جاتا ہے، بلکہ دوسرے جانوروں کا ذبیحہ بھی اکثر شرعی طریقے پر نہیں ہوتا۔
بیرون ملک اکثر ادویات کے غیر طبّی اجزاء پیکنگ پر لکھے ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ رواج بالکل نہیں ہے اور نہ پیکنگ پر حلال یا کروشر لکھا جاتا ہے۔کیپسول یا Softgel میں بند دوا استعمال کرنا حلال کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں اور اس کا کاروبار کرنا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟
جواب: حلال جانوروں کی کھال اور ہڈّی سے بنا ہوا جیلیٹن حلال ہے، البتہ حرام جانوروں کی کھال اور ہڈّی سے بنے ہوئے جیلیٹن کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کی ماہیت اور حقیقت بدل چکی ہے، تو استعمال کرنا جائز ہے ورنہ نہیں، کیونکہ تبدیلیٔ ماہیت سے حرام جانور کے اجزاء پاک وحلال ہوجاتے ہیں، تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: مفہومی ترجمہ: ’’اگر نمک کی کان میں گدھا یاخنزیر گرکر تحلیل ہوچکے ہوں اور جزوِ نمک بن چکے ہوں، تو اب تبدیلیِ ماہیت کے سبب وہ ناپاک نہیں ہیں، بلکہ وہ نمک کے حکم میں ہیں اور نہ وہ گندگی ناپاک ہے ،جو کنوئیں میں گری پھر(تحلیل ہو کر) کالی مٹی کی شکل میں کیچڑ بن گئی، پس ماہیت بدلنے کے سبب وہ بھی کیچڑ کے حکم میں ہے (اورپاک ہے) ، اسی پر فتویٰ ہے‘‘۔
اس کے تحت علّامہ شامی ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اس چیز کی ماہیت وحقیقت کے بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے، یہ علّت (Cause)سب چیزوں کے لیے ہے اوریہ امام محمد ؒ کا قول ہے اور اس کے ساتھ’’حلیہ‘‘میں ’’ذخیرہ اور محیط‘‘ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ یہ امام ابوحنیفہؒ کا بھی قول ہے۔
علّامہ ابن ھمام نے ’’فتح القدیر‘‘ میں لکھا ہے:’’ اکثر مشایخ نے اسی کو اختیار کیا ہے اور یہی قول مختار ہے‘‘، کیونکہ شریعت نے اسی حقیقت پر وصفِ نجاست کو مرتب کیا ہے اور اپنے مفہوم کے بعض اجزاء کے نہ ہونے سے حقیقت کی بھی نفی ہوجاتی ہے، تو جب کسی چیز کے تمام اجزاء (اپنی سابقہ وضع وہیئت کے ساتھ) معدوم ہوجائیں، تو اس کی حقیقت معدوم کیوں نہیں ہوگی؟ پس یقیناً نمک گوشت اور ہڈی نہیں ہے، تو جب یہ نمک بن جائے تو نمک کا حکم مرتب ہوتا ہے۔
شرع میں اس کی نظیر یہ ہے کہ نطفہ (منی) نجس ہے اور وہ (ماں کے رحم میں) جب منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے، تب بھی وہ نجس ہوتا ہے اور پھر جب وہ گوشت کالوتھڑا بن جاتا ہے تو پاک ہوجاتا ہے۔ پھل وغیرہ سے کشید کیا ہوا رس پاک ہوتا ہے، پھر جب پھلوں کا رس سڑ جانے سے خمر(شراب) بن جاتا ہے، تو نجس ہوجاتا ہے (کیونکہ اب اس کی حقیقت بدل گئی ہے)،پھر یہی شراب جو حرام اور نجس ہے، جب (نمک اور لیموں ڈالنے سے) سِرکہ بن جاتا ہے، تو(اپنی حقیقت کے بدل جانے سے) پاک ہوجاتا ہے ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ، جلد:1، ص:463، بیروت)‘‘۔
خنزیر نجس العین ہے، ایسا جیلیٹن جو خنزیر کی کھال یا ہڈی سے بنایا گیاہو ،تو تبدیلیِ ماہیت کے بغیر اس کے کسی بھی جزو سے کسی بھی شکل میں نفع اٹھانا جائز نہیں ہے، لہٰذ ا جب تک قطعی اور یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس میں تبدیلیِ ماہیت آگئی ہے، اُس وقت تک خنزیر، اس کے کسی جزویا اس سے بنائی گئی مصنوعات کے بارے میں حِلَّت وطہارت کا حکم نہیں دیا جاسکتا، بلکہ حُرمت ونجاست کا سابقہ حکم برقرار رہے گا۔
علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور حموی نے نقل فرمایا: بے شک خنزیر کا گوشت بطور علاج جائز نہیں ہے، اگرچہ اس سے (صحت یاب ہونا) یقینی ہو ، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ، جلد 1،ص:326)‘‘۔ امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ لکھتے ہیں:’’ خنزیر نجس العین ہے اور اس کا ہرجزوِ بدن ایساناپاک کہ اصلاً صلاحیتِ طہارت نہیں رکھتا، (فتاویٰ رضویہ ،جلد4،ص:475)‘‘۔
تبدیلیِ ماہیت یعنی کسی شے کا اپنی حقیقت وماہیت چھوڑ کر دوسری حقیقت وماہیت میں بدل جانا ممکن ہے اور کوئی بھی حرام اور ناپاک شے تبدیلیِ ماہیت کے بعد حلال اور پاک ہوسکتی ہے، امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کایہی قول ہے، جمہور اَئمۂ اَحناف نے اسی کو اختیار کیا ہے اور یہی قول مختار ہے۔