آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ایک غیر مسلم کمپنی گدھوں کی خریداری کرتی ہے، وہ ان گدھوں کو غیر مسلم ممالک میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، ایک مسلمان یہ کاروبار کرنا چاہتا ہے کہ وہ زندہ گدھے خرید کر اس غیر مسلم کمپنی کو فروخت کرے، وہ مذکورہ کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرنا چاہتا ہے کہ گدھوں کا گوشت کسی مسلمان کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ گدھے خرید کر غیر مسلم کمپنی کو فروخت کرے اور یہ تجارت کرے، جب کہ غالب گمان ہو کہ وہ ان کو گوشت کے طور پر استعمال کریں گے؟ اگر یہ شرط معاہدے میں شامل کردی جائے کہ مسلمانوں کو نہ بیچا جائے، تو کیا اس سے جواز پیدا ہوجائے گا؟
جواب: مسلمان کے لیے زندہ گدھے کی خرید و فروخت جائز ہے، شرعًا اس میں قباحت نہیں ہے۔ غیر مسلم کمپنی مسلمان سے گدھے خریدنے کے بعد اگر اپنے ملک میں ان کا گوشت فروخت کرے یا دیگر مقاصد و استعمال میں لائے تو بھی انہیں زندہ گدھے فروخت کرنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی و نفع حلال ہوگا۔
البتہ گدھے کا گوشت کھانے یا کھلانے کے لیے مسلمان کو اسے ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے گدھے کا گوشت حرام قرار دیا ہے، اور حرام کھانا یا کھلانا دونوں حرام ہیں؛ لہٰذا اگر تجارت کرنی ہو تو زندہ گدھوں کی خرید و فروخت کی جائے۔ اور اگر غیر مسلم کمپنی سے معاہدہ کرتے وقت یہ شرط لگائی جارہی ہے کہ مسلمان کو اس کا گوشت فروخت نہیں کیا جائے گا تو احتیاط کے پہلو سے یہ مزید بہتر ہے۔ (رد المحتار، كتاب البيوع، ج:5، ص:69، ط:سعيد -الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الأشربۃ، ج:5، ص:416، ط:دار الفکر)