• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوہر کے ملکیتی مکان میں بیوی شوہر کے والدین کو آنے سے نہیں روک سکتی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: مکان شوہر کی ملکیت ہے، اس مکان میں میاں بیوی، بچے اور بیوی کے والد رہتے ہیں، بیوی کی طرف سے یہ پابندی ہے کہ شوہر کے والدین اجازت کے بغیر اس گھر میں نہ آئیں، کیا بیوی کا شوہر کے والدین پر پابندی لگانا جائز ہے، نیز شوہر بڑا مکان خریدنا چاہتا ہے، تاکہ والدین کو ساتھ رکھ سکے، لیکن بیوی منع کرتی ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (محمد شوکت، کراچی )

جواب: مکان میں کسے رہنا ہے، کسے آنا ہے، کسے نہیں آنا، اس کا حتمی اختیار گھر کے سربراہ یعنی شوہر کو حاصل ہے، بیوی اپنی مرضی سے شوہر کے والدین کو گھر آنے سے نہیں روک سکتی، جبکہ شوہر کے مکان میں اُس نے اپنے والد کو ساتھ رکھا ہوا ہے، تو یہ دوہرا معیار کس لیے۔

بیوی تو پھر اپنے شوہر کے ماتحت ہے، یہ پابندی عائد کرنے کا حق بیٹے کو بھی نہیں ہے، اَحادیثِ مبارکہ میں ہے: ترجمہ:’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ مال جو تم کھاتے ہو ،وہ تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی ہے ، (سُنن ابن ماجہ: 2290، سُنن ترمذی :1358)‘‘۔

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’نبی کریم ﷺ کے اصحاب اور بعض اہلِ علم کا اُس پر عمل رہا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ باپ کو اپنی اولاد کے مال میں کھلا اختیار حاصل ہے، جس قدر چاہے وہ اُس میں سے لے سکتا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ اختیارِ تصرُّف ضرورت کی حدتک ہے، (سُنن ترمذی، المجلد الثانی ، ص:347،مطبوعہ: دار الکتب علمیہ، بیروت)‘‘۔

ترجمہ: ’’ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس کچھ مال ہے اور میں صاحبِ اولاد بھی ہوں اور میرے والد چاہتے ہیں کہ وہ میرا مال لے لیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال (دونوں) تمہارے والد کے ہیں ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں مزیدارشاد فرمایا: ترجمہ:’’ بے شک تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے، پس اپنی اولاد کی کمائی سے کھاؤ (اُسے اپنے لیے جس طرح چاہو، استعمال کرو )،(سُنن ابن ماجہ: 2291،2292)‘‘۔ (جاری ہے)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید