• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والدین کی زمین پر بیٹا تعمیر کرے تو ان کے فوت ہونے کے بعد اخراجات کی واپسی کا حکم، ترکہ کی تقسیم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، سب شادی شدہ اور سب کا الگ الگ اپنا ذاتی گھر بھی ہے، صرف چھوٹا بھائی شروع سے تاحیات والدین کے ساتھ رہا اور اس نے ان کے وصال تک تمام تر خدمت و کفالت کی، اب جب کہ والدین وصال فرما گئے (اللہ ان کی بخشش و مغفرت فرمائے) تو اُن کا واحد تر کہ مکان اُن کی اولاد میں بطور وراثت تقسیم کرنے کا معاملہ در پیش ہے، لہٰذا برائے مہربانی شرعی اصولوں کے تحت درج ذیل سوالات کا جواب عنایت فرمادیں، تا کہ اس کی روشنی میں ہم وراثت تقسیم کر سکیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو سکے۔

(1) مرحوم والدین کا واحد ترکہ ایک 80 گز کا مکان ہے، جس کی زمین والدین نے خرید کر مکان بنایا تھا، بعد میں بوقت ضرورت چھوٹے بیٹے نے اپنی فیملی کے لیے اس مکان کو توڑ کر نئی تعمیرات کیں، جس کے تمام تر تعمیری اخراجات چھوٹے بیٹے نے ہی اُٹھائے تھے اور اب یہی تعمیر شدہ مکان والدین کے ترکہ میں ملا ہے، تقسیم وراثت کے وقت چھوٹا بیٹا کہتا ہے کہ میں نے تعمیرات کرائی تھیں، لہٰذا پہلے ان تعمیرات کا خرچہ منہا کر کے مجھے دیا جائے، تاکہ میں اپنی فیملی کا کوئی بندو بست کر سکوں، پھر جو باقی ہو وہ سب بھائی بہنوں میں تقسیم کیاجائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا چھوٹے بیٹے کا حق ہے کہ پہلے اسے مکان کی تعمیرات کے اخراجات ادا کیے جائیں؟ پھر بعد میں پلاٹ کی قیمت کے حساب سے تقسیم وراثت کی جائے یا سارے مکان کی قیمت لگا کر اسے سب میں بطور وراثت تقسیم کیا جائے؟

آج اس تعمیر شدہ مکان کی قیمت تقریباً 90,00000 روپیہ لگ رہی ہے، جب کہ آج اس جیسا مکان تعمیر کرانے کے اخراجات تقریباً -/70,00000 روپیہ بتائے جاتے ہیں، اس طرح بقیہ صرف -/20,00000 روپیہ بچتے ہیں، مگر چھوٹا بیٹا ایثار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے صرف 50,00000 روپیہ تعمیری اخراجات میں دے دیں اور بقیہ -/40,00000 روپیہ وراثت میں تقسیم کر دیا جائے۔

(2) اب جب کہ تقسیم وراثت کی بات ہو رہی ہے تو مرحومین کا ایک پوتا یہ دعویٰ اور مطالبہ کرتا ہے کہ میں نے بھی اپنے پاس سے دادی کے علاج معالجے پر 6/5 لاکھ روپیہ خرچ کیا تھا، جب سب کو حصہ دیا جا رہا ہے تو مجھے بھی میرے اخراجات کی یہ رقم ادا کی جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پوتے کا اس طرح کا مطالبہ درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ٹھیک، ورنہ اگر اس کا مطالبہ شریعت کے مطابق ہے تو کیا اس کی مطلوبہ رقم کو بھی پہلے پلاٹ کی قیمت سے منہا کر کے دینا ہو گا اور پھر اس کے بعد بقیہ رقم سے سب کو تقسیم وراثت ہوگی ؟

(3) تمام لین دین کے بعد جو رقم بچ جائے، اسے مرحوم کے ورثاء دو بیٹیوں میں کس حساب سے کتنا کتنا تقسیم کیا جائے ؟(4) اور اسے مرحوم کے ورثاء دو بیٹوں میں کس حساب سے کتنا کتنا تقسیم کیا جائے ؟

(5) کیا بہو اور داماد کا بھی مرحوم کے ورثاء میں شمار ہوگا اور انہیں بھی کچھ حصہ دینا ہوگا ؟(6)تمام حساب کتاب شریعت کے مطابق کرنے کے بعد اگر کوئی ایک بھائی یا بہن سب کی رضا مندی سے سارا تر کہ خود لے کر دیگر تین افراد کو ان کے حصے کی رقم ادا کر دے تو ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب: اگر چھوٹے بیٹے نے مکان کی از سر ِ نو تعمیر کرتے وقت تعمیر کے اخراجات واپس لینے کی بات کی تھی تو اس صورت میں مذکورہ مکان میں سے تعمیرات کے اخراجات نکالے جائیں گے اور پھر بقیہ رقم ورثاء میں تقسیم کی جائے گی، لیکن اگر تعمیر کے وقت کسی قسم کی کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی تو اس صورت میں چھوٹا بیٹا ان اخراجات کا مطالبہ نہیں کرسکتا، اس صورت میں مکان تعمیرات سمیت میراث شمار ہوگا اور تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا ۔ (درر الحکام ، الکتاب العاشر: الشرکات، الباب الخامس فی بیان النفقات المشترکۃ، ج:3، ص:314، ط: دارالجیل)

(2) اگر پوتے نے دادی کے علاج پر رقم خرچ کرتے ہوئے صراحت کی تھی کہ وہ قرض کے طور پر خرچ کر رہا ہے یا رقم واپسی کا معاہدہ کیا تھا تو میراث تقسیم کرنے سے پہلے مذکورہ رقم کو منہا کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر پوتے نے دادی کے علاج پر مذکورہ رقم قرض کی صراحت یا واپسی کے معاہدہ کے بغیر خرچ کی تھی تویہ رقم پوتے کی طرف سے اپنی دادی پر تبرع واحسان تھا،لہٰذا اس رقم کو میراث سے منہا نہیں کیا جائے گا۔

(3،4)مرحوم والدین کی میراث میں سے سب سے پہلے ان کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں، اس کے بعد اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی حصہ سے نافذ کیا جائے ، اس کے بعد بقیہ مال کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔

(5) بہو اور داماد کا ساس سسر کی میراث میں شرعاً حصہ نہیں ہے، البتہ اگر ورثاء اپنی خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہے تو دے سکتے ہیں۔

(6) تمام ورثاء کی رضامندی سے کرسکتے ہیں۔

اقراء سے مزید