تفہیم المسائل
سوال: ہماری مسجد میں نمازِ جنازہ مسجد سے باہر فنائے مسجد میں ادا کی جاتی ہے، وہاں تک جانے، صف بندی کرنے میں وقت لگتا ہے، کچھ نمازی جنازہ پڑھے بغیر چلے جاتے ہیں۔
شدید گرمی اور دھوپ کے سبب بزرگ نمازی پریشان ہوجاتے ہیں۔ نمازیوں کی رائے ہے کہ دیگر مساجدکی طرح ہماری مسجد میں بھی محراب کے آگے جگہ بناکر میت، امام اور چند نمازی مسجد سے باہر ہوں اور بقیہ مسجد کے اندر، اس طرح نمازِ جنازہ پڑھی جائے، فنائے مسجد میں جنازہ پڑھنے کی جگہ ہوتے ہوئے اصل مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ ( محمد شاہد تنویر قادری، کراچی)
جواب: فقہ حنفی کی رُو سے مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ میت مسجد کے اندر ہو یا بیرونِ مسجد، یہی اَرجح واَصَحّ ومختار ہے۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ترجمہ:’’جماعت قائم ہونے والی مسجد میں تنہا میت مسجد سے باہر ہو یا اس کے ساتھ امام اور کچھ لوگ بھی مسجد سے باہر ہوں تو نمازِ جنازہ مکروہِ تحریمی ہے اور ایک قول کے مطابق مکروہِ تنزیہی ہے اور مختار مطلق کراہت ہے، یہ کراہت اس پر مبنی ہے کہ مسجدیں فرض نماز اور اس کی متابعت میں نوافل، ذکر اور درس وتدریس کے لیے بنائی گئی ہیں(نہ کہ جنازے کے لیے) اور سنن ابوداؤد کی حدیث میں چونکہ کراہت مطلق ہے، اس لیے یہی قول حدیث سے مطابقت رکھتا ہے‘‘۔
اس کی شرح میں علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب میّت مسجد سے باہر ہو تو(پھر)مسجد میں نمازِ جنازہ (ادا کرنا) مکروہ نہیں ہے اور علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ کے قول (بِنَاء ً عَلٰی أَنَّ الْمَسْجِدَ۔۔الخ) کو اگر ہم اس پر محمول کریں کہ مسجد آلودہ نہ ہو، تو اس صورت میں نمازِ جنازہ مکروہ نہیں ہوگی، جبکہ تنہا میت یا اس کے ساتھ کچھ لوگ مسجد سے باہر ہوں، ’’شرح المنیہ ‘‘میں یہی کہا گیا ہے اور ’’المبسوط‘‘ اور ’’محیط‘‘ کا میلان بھی اسی طرف ہے اور اسی پر عمل ہے اور یہی مختار ہے ،(رد المحتار:ج: 2، صـ:225)‘‘۔
البتہ بعض فقہائے اَحناف کے نزدیک اُن مساجد میں کہ جہاں مسجد سے باہر جنازہ گاہ، گراؤنڈ، کشادہ جگہ موجود نہ ہو ، گلیاں تنگ ہوں، وہاں ضرورت کے تحت مسجد کے اندر نمازِ جنازہ اداکی جاسکتی ہے، اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ میت کے ساتھ کچھ نمازی مسجد سے باہر(محراب سے آگے) جب کہ باقی سب مسجد کے اندر ہوں، علامہ محمد بن محمد بن محمود بابرتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اگر جنازہ، امام اور بعض مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور باقی افراد مسجد میں ہوں تو (اس طرح) نمازِ جنازہ ادا کرنا بالاتفاق مکروہ نہیں ہے،(البنایہ، جلد:3،ص:231)‘‘۔
بعض تنگ شہری علاقوں میں مسجد کے باہر کھلی جگہ ہوتی ہی نہیں، جہاں نمازِ جنازہ پڑھی جاسکے، ایسی صورت میں بعض مقامات پر لوگ سڑکوں یا گلیوں کو بلاک کر کے وہاں پر جنازہ پڑھتے ہیں، جبکہ شارعِ عام اور دوسرے کی زمین پر بلااجازت جنازہ پڑھنا مکروہ ہے، علامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ترجمہ:’’سڑک پر اور لوگوں کی زمین پر(بلااجازت ومنظوری) نماز جنازہ پڑھنا مکرو ہ ہے، (فتاویٰ عالمگیری، ج:1، ص:165)‘‘۔
سڑک پر چونکہ حقِّ مُرور(Right of Passage)سب کا ہوتا ہے، اس لیے اسے بلاک کرنے سے سب کا عمومی حق متاثر ہوتا ہے اور حدیث مبارک میں ہے: ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے:’’کوڑے کا ڈھیر، مَذبَح، مقبرہ، عام راستہ، حمام اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور بیت اللہ کی چھت پر، (سنن ترمذی:346)‘‘۔
ان میں بیت اللہ کی چھت پر ممانعت کا سبب ادب ہے، قبرستان میں نماز کی ممانعت سے مراد ہے کہ نمازی کا رخ قبر کی جانب ہو، اگر قبرستان کے اندر یا مُتّصل مسجد بنی ہوئی ہے، تو اس میں نماز جائز ہے۔
اگر مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ نہ ہو تو گنجان آبادی والے علاقوں میں بایں طور پر کہ میت اور کچھ نمازی مسجد سے باہر ہوں ، نمازِ جنازہ مسجد میں ادا کی جاسکتی ہے اوراس صورت میں کراہت مرتفع ہوجائے گی، لیکن جہاں مسجد سے باہر نمازِ جنازہ کے لیے کشادہ جگہ(مثلاً میدان، پارک ) موجود ہو تو نمازِ جنازہ مسجد میں نہ پڑھی جائے تاکہ حدیث پر بھی عمل ہو اور فقہ حنفی کے صحیح ترین، راجح ترین اور مختار قول پر بھی عمل ہوجائے، الغرض مسجد سے باہر جنازے کے لیے جگہ دستیاب ہونے کی صورت میں مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھانا درست نہیں ہے۔
جب آپ کے ہاں فنائے مسجد میں جگہ موجود ہے، تو مسجد کے اندر نمازِ جنازہ پڑھانا جائز نہیں اور یہ عذر بھی درست نہیں ہے کہ ’’ وہاں تک جانے، صف بندی کرنے میں وقت لگتا ہے، کچھ نمازی جنازہ پڑھے بغیر چلے جاتے ہیں ‘‘ ، نمازِ جنازہ فرض کفایہ ہے، چند نمازیوں کے شامل ہونے سے ادا ہوجاتا ہے ، نیز نمازِ جنازہ چند منٹوں میں ادا ہوجاتی ہے، اگر وسائل ہوں تو اُس جگہ سایہ کا کوئی انتظام کرلیں۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com