• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر قانونی طریقہ سے گاڑیاں کلیئر کروانے کے لیے رقم دینا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کچھ لوگ پڑوسی ملک سے غیر قانونی طور پر یہاں گاڑی لاتے ہیں، یہ گاڑی جن علاقوں سے گزرتی ہے، وہاں ایک ایجنٹ متعین ہوتا ہے جو انتظامیہ کی جانب سے مامور ذمے داروں سے معاملات طے کرتا ہے اور پھر یہ ایجنٹ گاڑی لانے والے سے کمیشن کے طور پر اضافی رقم وصول کرتا ہے جس پر گاڑی لانے والا راضی ہوتا ہے، یہ ایجنٹ اپنے علاقے کی چیک پوسٹ پار کرنے کی بھی ضمانت دیتا ہے، طے شدہ رقم چیک پوسٹ والوں کو دیتا ہے اور زائد رقم خود رکھتا ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ چیک پوسٹ پر(مامور اہل کاروں اور پولیس والوں) کو جو رقم ایجنٹ دیتے ہیں، یہ رشوت کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟ اور ایجنٹ بطور کمیشن جو زائد رقم اپنے پاس رکھتے ہیں کیا یہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: غیرقانونی طریقے سے گاڑیوں کی اسمگلنگ کے لیے چیک پوسٹ والوں کو رقم دینا ”رشوت“ ہے، جس کا لین دین ناجائز ہے، یعنی جس طرح چیک پوسٹ والوں کے لیے یہ رقم لینا ناجائز اور اپنی مفوضہ ذمہ داری کی ادائیگی میں خیانت ہے، اسی طرح گاڑی والے اور ایجنٹ کے لیے یہ رقم دینا بھی ناجائز ہے؛ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔ ( سنن أبی داؤد، کتاب الأقضیۃ، باب فی کراھیۃ الرشوۃ، 3/ 300، رقم الحدیث: 3580، ط: المکتبۃ العصریۃ)

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنم میں جائیں گے۔ (مسند البزار، ‌‌مسند عبد الرحمن بن عوفؓ: 3/ 247، ط: مکتبۃ العلوم والحکم - درر الحکام في شرح مجلۃ الأحکام، الکتاب السادس عشر القضاء، 4/ 590، ط: دارالجيل)

اقراء سے مزید