آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: اس سال دس محرم جمعے کے دن آیاہے، ہم نے سنا ہے کہ صرف جمعے کے دن روزہ رکھنا پسندیدہ نہیں ہے، نیز یہ بھی سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بتایا گیا کہ یہود بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میں آئندہ سال رہا تو نو تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔ اس تناظر میں یہ سوال ہے کہ کیا صرف عاشوراء کا روزہ رکھنا جب کہ وہ جمعے کے دن ہو، درست ہے یانہیں؟
جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جمعے کے دن روزہ نہ رکھے، مگر یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد روزہ ملا لے۔ (صحیح بخاری ج: 3صفحہ: 42، باب صوم يوم الجمعۃ، ط: دار طوق النجاۃ)
دیگر احادیث کی روشنی میں شارحینِ حدیث نے اس حدیث کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ خاص جمعے کے دن روزہ رکھنے کو فضیلت کا سبب سمجھ کر اس کا معمول بنالینا یا اسے مستحب سمجھنا درست نہیں ہے، مکروہ ہے، البتہ اگر کبھی اتفاقاً جمعے کے دن روزہ رکھ لیا اور اسے محض جمعے کے دن کی وجہ سے فضیلت کا باعث نہ سمجھا یا جمعے کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھ لیا تو کسی قسم کی کراہت نہیں ہوگی۔
اسی طرح اگر جمعے کا دن کسی ایسی تاریخ میں آجائے جس میں روزے کی فضیلت حدیث سے ثابت ہے، مثلاً: یومِ عرفہ جمعے کے دن آجائے، تو بھی جمعے کے دن روزہ رکھنے میں کسی قسم کی کراہت نہیں ہے، کیوں کہ اس صورت میں صرف جمعے کے دن کی وجہ سے روزہ رکھنا نہیں ہے، بلکہ اُس تاریخ میں روزہ رکھنے کی فضیلت اور ثواب حاصل کرنا مقصود ہے، لہٰذا عاشوراء اگر جمعے کے دن آجائے تو عاشوراء کے روزے کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے صرف جمعے کے دن روزہ رکھنا جائز ہے، اس میں کراہت نہیں ہوگی۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب صوم يوم الجمعۃ،11/ 106،ط:دار الفکر)
عاشوراء کے روزے کی فضیلت کئی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، رقم الحدیث: 2755)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عاشوراء کے روزے کے بارے میں مجھے امید ہے کہ وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ (جامع ترمذی، کتاب الصیام عن رسول اللہ ﷺ، باب ماجاء فی الحث علیٰ صوم یوم عاشوراء، رقم الحدیث: 752)
رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے رمضان المبارک کا روزہ فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ فرض روزے کی حیثیت سے رکھا ہے، اور رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد آپ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے عاشوراء کے دن نفل روزہ رکھنا ثابت ہے۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)
رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے آخری سال صحابۂ کرامؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اس دن تو یہودی بھی روزہ رکھتے ہیں (لوگوں کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آپ ﷺ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی موافقت سے منع فرماتے ہیں، اور عاشوراء کا روزہ رکھنے میں یہود کی موافقت نظر آرہی ہے تو ہمارے لیے کیا حکم ہوگا؟) آپ ﷺ نے فرمایا: اگر آئندہ سال میں رہا تو اِن شاء اللہ نویں تاریخ کو (بھی) روزہ رکھوں گا۔ حضرت ابن ِعباسؓ فرماتے ہیں کہ آئندہ سال محرم سے پہلے ہی آپ ﷺ کاوصال ہوگیا۔ (صحیح مسلم)
اس لیے زیادہ بہتر صورت تو یہ ہے کہ عاشوراء کے روزے کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھا جائے، تاہم صرف عاشوراء کا روزہ رکھنا بھی بغیر کراہت کے درست ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے ساتھ نو تاریخ کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار تو فرمایا تھا، لیکن پوری زندگی بہرحال آپ ﷺ نے صرف عاشوراء کا روزہ رکھا ہے، لہٰذا صرف عاشوراء کے روزے سے ان شاء اللہ فضیلت حاصل ہوجائے گی۔
قاضی شوکانی اور علّامہ انور شاہ کشمیری رحمہما اللہ نے عاشوراء کا روزہ رکھنے کی تین صورتیں ذکر فرمائی ہیں:
(1) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے۔
(2) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے۔
(3) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی صورت سب سے افضل ہے، اور دوسری صورت کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری صورت بھی بلاکراہت جائز ہے۔ ( العرف الشذی شرح سنن الترمذی ، کتاب الصوم، باب ماجاء فی الحث علیٰ صوم يوم عاشوراء، ج:2، ص:دار التراث العربی - نیل الاوطار، کتاب الصيام،باب صوم المحرم وتاکيد عاشوراء، ج:4، ص:290، ط:دار الحديث)