چین میں سیلاب نے ایک اور خطرہ کھڑا کر دیا، ٹائفون مایساک کے بعد گوانگ شی کے ایک گاؤں میں قائم سانپوں کا فارم سیلابی پانی میں ڈوب گیا، جس کے نتیجے میں 900 سے زائد سانپ فرار ہو گئے، جن میں زہریلے کوبرا بھی شامل ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق 6 جولائی کو صوبہ گوانگ شی میں سیلابی پانی فارم میں داخل ہوگیا، جس کے باعث سانپ اپنے باڑوں سے نکل کر بہہ گئے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک کوبرا کو گدلے پانی سے سر باہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بعض افراد کو سانپوں نے ڈس لیا، جبکہ سیلاب کی وجہ سے انہیں بر وقت طبی امداد حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
حکام نے سانپوں کو پکڑنے کے لیے امدادی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں، اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر اپنے گھروں میں سانپ دیکھیں تو خود انہیں پکڑنے کی کوشش نہ کریں بلکہ فوری طور پر مقامی حکام کو اطلاع دیں تاکہ ماہر عملہ کارروائی کر سکے۔
بیشتر سانپ سیلابی ریلے میں بہہ چکے ہیں، جبکہ اب صرف چند سانپ پانی پر تیرتے ملبے اور کچرے پر موجود ہیں۔ اب تک پکڑے جانے والے زیادہ تر سانپ غیر زہریلے آبی سانپ ہیں۔
واضح رہے کہ طوفان مایساک 2026 میں چین سے ٹکرانے والا پہلا طاقتور سمندری طوفان ہے، جس کے باعث شدید بارشوں، ڈیموں کے متاثر ہونے اور ہزاروں افراد کے انخلا کی نوبت آ چکی ہے۔
قدرتی آفت کے بعد اب علاقے کے لوگوں کو ایک نئے خوف کا سامنا ہے۔