برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکا اور ایران سے جنگ بندی کی طرف واپس مڑنے کا مطالبہ کردیا۔
انقرہ میں نیٹو اجلاس سے خطاب میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہُرمُز کو مستقل کھلا رکھنے کی بات کرنی چاہیے، ورنہ برطانیہ سمیت دنیا کے ہر ملک میں معاشی و اقتصادی صورتحال بدترین ہوجائے گی۔
اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کو ممکنہ طور پر آج رات نشانہ بنا سکتے ہیں، تہران سے معاہدے میں بہت مشکلات رہیں، تہران کئی دہائیوں تک دنیا کو دھمکاتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایران سے خوش نہیں ہوں، ایران نے کل جہازوں پر ڈرون حملے کیے، معاہدہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے آگے ایک دیوار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی جھوٹ بولتے ہیں، انہوں نے دھوکا کیا، لوگوں کو مارتے ہیں، یہ 47 سال سے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں، اوباما نے ایران کو رقم دی، اوباما کی ڈیل بدترین تھی۔