جب تک ہماری رگوں میں خون ہے ہم اپنا پرچم سب سے اونچا رکھیں گے۔امریکہ کے یوم آزادی چار جولائی سے ایران کی شاہراہیں ہر عمر کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ایرانی خواتین اور مردوں سے یہ للکار سن رہی ہیں۔ تہران مشہد اوربالآخر قم میں 86 سالہ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کو مقدس مٹی کے حوالے کر دیا گیا ۔ان پانچ دنوں میں ایران کے غیور عوام نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ
ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد ز عشق
ثبت است برجریدہ عالم دوام ما
پابندیوں کے ذریعے ایک ملک کو 47 سال تک تنہا کر دینے والوں کو 70سے زیادہ قوموں کے اعلیٰ سرکاری اور غیر سرکاری وفود نے آخری رسوم میں شرکت کر کے پیغام دے دیا کہ ایران اکیلا نہیں ہے ۔پانچ دن یہی پیغام جاپان سے کینیڈا تک کی فضاؤں پر نشر ہوتا رہا کہ ایران اب بھی یہاں ہے مغربی ایشیا میں ایران اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے، شاعر مشرق اقبال کی روح کو بھی تسکین پہنچی ہوگی کہ " تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا "۔امریکہ اسرائیل کہتے تھے کہ ایران کے عوام خامنہ ای اور ان کے رفقاء کو تخت سے اتار دیں گے ۔یہ رجیم ایرانیوں کی نمائندہ نہیں ہے۔ پانچ دن 12 سے 20 ملین ایرانی صبح سے شام تک یہ آشکار کرتے رہے کہ یہی حکومت ایران کی جائز اور قانونی حکومت ہے۔ 21ویں صدی میں ایسے مظاہر کم ہی دکھائی دیتے ہیں جب اپنے کسی رہبر سے اتنی یگانگت کا اظہار کیا جائے ۔مرگ بر امریکہ مرگ بر اسرائیل مرگ بر ٹرمپ مرگ ہر نیتن یاہو کی صدائیں گونجتی رہیں ۔انتقام انتقام۔ رہبر کا خوںبہا۔ ہم شہیدوں کی ملت ہیں۔ لبیک یا خامنہ ای۔رہبر ما زندہ است۔ تا خون در رگ ماست پرچم بالا می ماند۔ لاؤڈ سپیکر سے بار بار آواز اتی رہی۔ بیا ئید نالہ کنیم۔ آؤ گریہ زاری کریں ان پانچ دنوں پر فلمیں بنیں گی کتابیں لکھی جائیں گی تاریخ کی یہ شہادت صدیوں یاد رہے گی ایران کے ہر شہر سے وطن پرست تاریخ کے اوراق میں اپنا دوام ثبت کرنے کیلئے تہران پہنچے تھے۔ 1989 میں امام خمینی کے جنازے میں شرکت کرنیوالی نسل بھی تھی۔ اس کے بعد کی نسلیں بھی اوآئی سی کا سرکاری وفدآیا یا نہیں۔ لیکن اسکے رکن ممالک کی اکثریت ایران سے اپنی اخوت کے اظہار کیلئے موجود تھی ۔امریکہ اسرائیل نے تو ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے کم از کم 50اعلیٰ رفقا کو جدید ٹیکنالوجی، میزائلوں ڈرونوں، طیاروں سے بم گرا کر جسمانی طور پر ختم کر دیا تھا مگر شرکت کرنیوالے ملکوں کے نمائندوں نے بچ جانیوالے ایرانی رہنماؤںکے انتظام تدبر اور بصیرت کا مشاہدہ کیا کہ ڈیڑھ کروڑ سے کچھ زیادہ عام لوگوں کے اپنے اپنے شہر سے تہران پہنچنےکیلئے کیا انتظامات تھے ۔اتنی بڑی تعداد کیلئے کھانے پینے کی سہولتیں کیسی تھیں۔ رہائش کیلئے اسکولوں مسجدوں یونیورسٹیوں کے دروازے کھولے گئے ۔گرمی شدت کی تھی۔ اس لیے بار بار چھڑکاؤ کرنے والے ٹینکر بھی 6000 کی تعداد میں تھے۔مغربی میڈیا نے اس تجہیز و تدفین کے اخراجات کا اندازہ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 25 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ ان کو اور کوئی اعتراض نہیںسوجھا تو کہہ رہے ہیں کہ اقتصادی طور پر بدحال ملک نے اتنا خرچہ کیوں کیا ۔ عبدالمجید سالک نے صحیح کہا تھا۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ایران صدیوں سے جانتا ہے کہ اپنے غم کو طاقت میں کیسے بدلا جائے۔ سارے ممالک خاص طور پر مسلم ملک ان پانچ ایام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ایرانی عوام کی استقامت کا جذبہ اپنی جگہ مگر یہ خواندگی کا بھی ثمر ہے۔ جسکی شرح ایران میں بہت بلند ہے ۔اسکولوں یونیورسٹیوں کا معیارِ تعلیم وقت کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے اور اپنے مسلک کے تناظر میں بھی۔ آج کی قیادت کو ہی دیکھ لیں کہ جدید علوم میں کوئی ماسٹر ہے ،کوئی پی ایچ ڈی ۔ جدید ٹیکنالوجی میں بھی ایران پیچھے نہیں ہے۔ کلوننگ کے ذریعے ایک بھیڑ تخلیق کر چکا ہے ۔علاج معالجے کی تحقیق میں بھی بہت آگے ہے فرد کو عزت دی گئی ہے اسی لیے ایران کا انقلاب 47 سال بعد بھی اپنی جگہ پختہ ہے اور اب مغرب خوفزدہ ہے کہ اس ماتمی سفارت کاری Funeral diplomacyسے ایران کہیں اپنے انقلاب کو برآمد نہ کرنے لگے خلیج کی ریاستیں اور عرب ممالک بھی پہلے ایران کی مزاحمت اور اب ان پانچ دنوں کے جذبےکو دیکھ کر اپنی مغرب نواز پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوں گے پاکستان کے سرکاری وفد میں سیاسی اور عسکری اعلیٰ قیادت کے علاوہ قومی سیاسی پارٹیوں کے قائدین سینٹ کے چیئرمین نے الگ الگ وفود میں اور بہت سے پاکستانیوں نے اپنے طور پر بھی شرکت کی پاکستانی وفد نے بھی قریب سے دیکھا کہ وحدتِ خیال کیا ہوتی ہے۔ اجتماعی زیاں کا احساس کیا ہوتا ہے عوام اور ریاست جب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں تو تمام تر مشکلات کے باوجود ریاست اور عوام کس طرح اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامتے ہیں۔ہماری سیاسی قیادت بھی یقینا ً یہ دیکھ رہی ہوگی کہ ایک ملک جو 47 سال سے امریکہ اقوام متحدہ یورپی یونین کی سماجی، اقتصادی، سیاسی، تجارتی، سفارتی پابندیوں کا شکار ہے جسے اپنا تیل، گیس بھی بیچنے کی آزادی نہیں ، اس نے کس طرح امریکہ اسرائیل ،یہود و نصاریٰ کا اکیلے مقابلہ کیا ۔ کس طرح عالمی بینک،آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او دوسرے شعبوں کے عالمی اداروں کی مدد کے بغیر زندہ رہ کر بتایا ۔مغربی میڈیا غم گساروں کی نقل و حرکت کیلئے 11 ہزار بڑی بسوں کا اہتمام بتا رہا ہے اس جنازے کے انتظامات کی جزئیات پر اگر غور اور تحقیق کی جائے تو دنیا یہ اندازہ بخوبی کر سکتی ہے کہ اس اندوہ کے عالم میں ایسے بہترین انتظامات کرنے والا ملک ہی 47 سال کی پابندیوں کا مقابلہ کر سکتا تھا،اس نے کوئی سودے بازی نہیں کی ۔اب پھر 11 جولائی سے وہی سنگین مسائل آبنائے ہرمز، ایٹمی پروگرام ،عالمی پابندیاں ،منجمد اثاثے، لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا مذاکرات کا موضوع ہونگے۔ مذاکرات اسلام آباد یا دوحہ میں ہوں گے۔ ایران نے یورپ کے کسی ملک کو آخری رسوم میں شرکت کی دعوت نہیں دی ۔اس لیے امکان نہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات دوبارہ ہوں۔ یورپ کو ایشیا کیلئے بامعنی اور اہم ہونے کیلئے ایران سے کچھ پابندیاں خود ختم کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔چین نے اپنی خاموش سفارت کاری اور تدبر سے مسلم دنیا میں اپنا ایک با اثر مقام بنا لیا ہے ۔اب عالمی سطح پر نئی صف بندیاں ہونگی نئے بلاک وجود میں آئیں گے ایران کو اب اخلاقی سیاسی اور سفارتی برتری حاصل ہو گئی ہے دنیا اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔