• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں کئی دنوں سے اپنے ایک بچپن کے دوست جاوید کے ساتھ مارا مارا پھر رہا تھا جس سے میری ملاقات برسوں بعد ہوئی تھی۔میرے اس دوست کو کسی زمانے میں امیر بنے کا جنون تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ اسکی خواہش اللہ نے پوری کر دی ہے۔ اب اسکے گھر کے ہر فرد کے پاس عالی شان کا رہے اور اسلام آباد کے سب سے مہنگے سیکٹر میں اسکی محل نما کوٹھی ہے۔ میری اس سے ملاقات بہت غیر متوقع طور پر ہوئی۔ میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کے ریستوران میں چائے پی رہا تھا جہاں اچانک میری نظر جاوید پر پڑی جو ایک ٹیبل پر اکیلا بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا، چائے کی پیالی اس کے سامنے دھری تھی جو پڑے پڑے ٹھنڈی ہو چکی تھی، وہ کسی گہری سوچ میں غرق دکھائی دیتا تھا۔ وہ پرائمری اور میٹرک میں میرا کلاس فیلو رہا تھا، مگر اب وہ عمر میں مجھ سے دس پندرہ سال بڑا لگ رہا تھا۔ اسکے چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں اور سارے بال سفید ہو چکے تھے، میں نے اسے اس کے گال پر لگے اس گھاؤ سے پہچانا جو بچپن سے اس کی شناخت چلا آ رہا تھا ؟اس نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے میرے ساتھ لپٹ گیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کا لاہور میں آنا جانا رہتا ہے اور یہاں اسے رہائش اور ٹرانسپورٹ کا بہت مسئلہ ہوتا ہے چنانچہ وہ کسی پوش علاقے میں ایک کوٹھی خریدنا چاہتا ہے جسے وہ فرنش کر کے وہاں کوئی چوکیدار ملازم رکھ دے جو گھر کی دیکھ بھال کرے اور جب وہ یا اس کی فیملی کے افرادلاہور آئیں تو انہیں ہوٹل میں نہ ٹھہرنا پڑے۔ مجھے اسکی زبانی پتہ چلا کہ اسکی چھ بیٹیاں ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی کہ انکے شایانِ شان رشتہ نہیں ملتا ، اسے اولا دنرینہ نہ ہونے کا کوئی غم نہیں تھا اس کا کہنا تھا کہ اس کے ہونے والے داماد اس کے بیٹوں کی طرح ہونگے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔

میں نے اسے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے وہ ہوٹل میں نہیں ٹھہرے گا چنانچہ میں شہر میں دو تین کام نمٹا کر دو گھنٹے بعد اسے پک کروں گا۔ وہ میرا انتظار کرے، میں واپس آیا تو چائے کی وہی ٹھنڈی پیالی اس کے سامنے دھری تھی اور وہ بڑی محویت کے عالم میں لابی میں نصب شیشے کی کیپسول لفٹس کو اوپر نیچے جاتے دیکھ رہا تھا !اگلے روز میں نے جاوید کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسے شہر کے سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلر کے پاس لے گیا۔ پراپرٹی ڈیلر نے جاوید سے پوچھا کیا آپ بتائیں گے آپ کا بجٹ کتنا ہے، تاکہ میں اس کے مطابق آپ کو زحمت دوں ؟ جاوید کو اسکی یہ بات اچھی نہ لگی۔ اس نے کہا " بجٹ آپ کا نہیں ! میرا مسئلہ ہے آپ کے پاس جو بہترین رہائش گاہ ہے ۔ آپ وہ دکھا ئیں پراپرٹی ڈیلر ہمیں سب سے مہنگے علاقے میں لے گیا اور ایک عالی شان کوٹھی کے باہر لا کھڑا کیا۔ یہ دو کنال کی کوٹھی تھی۔ اس میں پانچ بیڈ روم، ڈرائنگ ، ڈائٹنگ ، لاؤنج سرونٹ کوارٹر سب کچھ تھا نہایت قیمتی ماربل کے فرش ، اعلیٰ درجے کا لکڑی کا کام ، امپورٹڈ ہینڈلز، لان میں ڈھاکے کی لش گرین گھاس اور خوبصورت آبشار، میں یہ سب کچھ دیکھتا ہی رہ گیا۔ مگر جاوید کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔ پراپرٹی ڈیلر نے اندازہ لگایا کہ صاحب کو گھر پسند نہیں آیا چنانچہ اس نے کہا"اگر آپ کو یہ گھر پسند نہیں تو میرے پاس اور بھی بہت سے اچھے گھر ہیں"جاوید نے متکبرانہ لہجے میں جواب دیا" آپ کویہ بات گھر دکھانے سے پہلےسوچنا چاہئے تھی۔ میرے بچے اتنے چھوٹے لان کے عادی نہیں ہیں اور اسکا پورچ تو مضحکہ خیز ہے، مسٹر ڈیلر ، جب یہاں کوئی پارٹی ہوگی تو مہمان باقی گاڑیاں کسی پارکنگ میں کھڑی کرنے جایا کریں گے؟ اور سب سے بڑی بات اس کا شیڈ لیئر نہایت تھرڈ کلاس ہے"۔اس پر ڈیلر کھسیانا سا ہو کر رہ گیا مگر اس نے چہرے کے تاثرات سے یہی ظاہر کیا کہ جاوید کے ان ریمارکس سےوہ بے مزہ نہیں ہوا۔ اس نے ہمیں دو گھر اور دکھائے جو اس گھر سے کہیں زیادہ عالی شان تھے جو ہم دیکھ چکے تھے مگر جاوید کو نہ صرف یہ کہ وہ پسند نہ آئے بلکہ اس نے سخت جھنجھلاہٹ کے انداز میں مجھے مخاطب کیا اور کہا ختم کرو یہ سب کچھ واپس گھر چلتے ہیں۔ ان گھروں کے مالکان کے ذوق کا اندازہ میں نے ان کے شیڈ لیئرز سے لگا لیا ہے۔“میں جان گیا کہ شیڈ لیئر جاوید کی کمزوری ہے۔ اسکے بعد میں اسے روزانہ کسی ڈیلر کے پاس لے کر جاتا اور وہ قیمتی سے قیمتی کوٹھی میں بھی شیڈ لیئر کا نقص نکال کر اسے رد کر دیتا، آخری دن بالآخر اسے ایک کوٹھی پسند آئی جسے محل کہنا زیادہ مناسب ہو گا اسکی پسندیدگی کی بنیادی وجہ اس گھر میں لگے شیڈ لیئرز تھے مالک کی ڈیمانڈ دس کروڑ روپے تھی مگر ڈیلر کا کہنا تھا کہ آٹھ تک سودا ہو جائیگا۔ جاوید نے اس دوران ایک لینڈ کروزر بھی پسند کرلی تھی۔

ڈیلر نے بیعانے کی بات کی تو جاوید کو اس بے اعتباری پر سخت غصہ آیا اور وہ پیر پٹختا ہوا شو روم سے باہر آ گیا،تاہم کوٹھی کی پسندیدگی سے مجھے یوں لگا جیسے اسکے ذہن سے نہیں میرے ذہن سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ وہ اب اسلام آباد واپس جا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ ہفتے کے بعد وہ واپس آئیگا اور کوٹھی اور کار دونوں کی پے منٹ کر دئیگا۔ لیکن اس نے مجھے کہا کہ ڈیلروں کوفی الحال یہی تاثر دو کہ صاحب کوکوئی چیز پسند نہیں آئی۔ اس کا خیال تھا کہ اسکا اشتیاق دیکھ کر کہیں ڈیمانڈ میں اضافہ نہ کر دیا جائے!جاوید نے پروگرام کے مطابق گزشتہ روز صبح کی فلائٹ سے واپس لاہور میری طرف آنا تھا۔ میرا ڈرائیور اسے لینے ایئر پورٹ گیا ہوا تھا۔ ناشتے کے دوران میری نظر اخبار میں شائع شدہ جاوید کی تصویر پر پڑی تو حیرت اور صدمے سے میری آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔ تصویر کے ساتھ شائع شدہ خبر میں بتایا گیا تھا کہ چھ جوان بیٹیوں کے باپ جاوید نے جو سی ڈی اے میں کلرک تھا، غربت سے تنگ آ کر پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی ۔ اسکے ذہن پر اس بات کا شدید بوجھ تھا کہ وہ اپنی غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کر سکا چنانچہ وہ کچھ عرصے سے ذہنی توازن کھو بیٹھا اور گھر سے غائب رہتاتھا۔ اب بھی وہ کئی دنوں بعد واپس گھر آیا تھا صبح جب اسکی بیٹی اس کیلئے چائے لے کر آئی تو وہ پنکھے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ رسی اس کے گلے میں دھنس چکی تھی اور آنکھیں باہر کو نکلی ہوئی تھیں !خبر کے ساتھ جاوید کی پنکھے سے لٹکی ہوئی تصویر بھی تھی۔ میں نے یہ انسانی شیڈ لیئر اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا!

تازہ ترین