• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس نے کہا : ننھا بچہ بولنا سیکھ رہا تھا، جب اس کی ماں نے اسے کلمہ پڑھنا سکھایا ۔ اس کے بعد عجیب واقعہ ہوا۔ بچہ چپ ہی نہیں ہوا، کلمہ پڑھتا رہا، پڑھتا گیا۔ وہ جیسے کلمے کا ورد کرنے لگا۔ ماں باپ خوشی سے نہال ہو گئے ۔لوگ ننھے کلمہ گو کو دیکھنے آتے۔ انہی دنوںگھر کے دو افراد میں تلخ کلامی ہوئی ۔ اچانک ایک تتلاتی ہوئی آواز بلند ہوئی ۔ سب نے حیرت سے دیکھا۔ننھا چراغ اپنی انگشتِ شہادت سے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کلمہ پڑھ رہا تھا ۔کسی کو کیا معلوم تھا کہ اس انگلی نے ہزاروں جھگڑے نمٹانے ہیں۔

چراغ دین بڑا ہو رہا تھا ۔ایک لمحے کیلئے وہ کلمے سے جدا نہ ہوتا۔ اسکی آواز میں ایک عجیب سوز تھا ۔ سننے والے جھوم اٹھتے ۔انہی دنوں غیر مسلموں کا ایک وفد شکایت لے کر آیا۔ چراغ سے کہو ہماری بستی سے نہ گزرا کرے ۔ ہمارے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ۔یہ اسکی بھرپور جوانی کا واقعہ ہے ۔ گھنٹا گھر چوک میںدو گروہوں میں تصادم کا سماں تھا ، جب چراغ وہاں پہنچا۔ اس نے کلمے کی آواز بلند کی اور انگشتِ شہادت اٹھائی۔وہ رک کر اسکی طرف دیکھنے لگے ۔ کڑکتی دھوپ ، بہتے پسینے میں ،دو گھنٹے کلمہ گونجتا رہا۔ بندوق برداروں کو جیسے اپنی آخرت نظر آنے لگی۔ آخر بندوقیں جھک گئیں ۔چراغ کے بال سفید ہو چکے تھے ، جب وہ پیدل حج کرنے نکلا ۔ چند ماہ بعد گونج دار آوازوںکے شور میں ایک ہجوم شہر میں داخل ہوا ۔ شہر والوں نے دیکھا ،کئی ہزار کا ریلا کلمہ پڑھتے ہوئے شہر میں داخل ہوا ۔

102 سالہ چراغ دین کی کمر جھک چکی تھی ۔ کلمہ مگر جاری تھا ۔ لاٹھی کے سہارے گھر کے باہر وہ ٹہل رہا تھا ، جب موٹر سائیکل نے ٹکر ماری ۔ فٹ پاتھ سے سر لگا ۔ بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچایا گیا ۔ تین دن وہ کومے میں رہا۔سب مایوس ہو چکے تھے،جب اچانک اس نے آنکھ کھولی ۔ بڑے بیٹے نے اس کا ہاتھ تھاما ۔ بوڑھا چراغ رونے لگا ۔وہ روتا رہا ،چیختا رہا ۔ بچوں نے پوچھا :آخر ہوا کیا ہے ۔آہوں اور سسکیوں کے درمیان ،ٹمٹماتے ہوئے چراغ نے کہا : میں کلمہ بھول گیا ہوں ۔ وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ سب سکتے میں تھے ۔ چراغ کی زبان پہ کلمہ نہیں چڑھ رہا تھا ۔تیزی سے اس کا حافظہ ساتھ چھوڑ رہا تھا ۔ ا سکی زندگی کے یہ آخری چند ماہ بے پناہ غم میں بسر ہوئے ۔ بار بار وہ کلمہ بھول رہا تھا ۔وہ کلمہ ،جو اس کے خون میں دوڑتا تھا۔ وہ کلمہ، جس پہ اس کی نجات کا دارومدار تھا ۔ شہر میں بات پھیل رہی تھی ۔ افسوس کرنیوالوں کا تانتا بندھا تھا ۔آخر سب چلے گئے۔ ایک بوڑھا رہ گیا اور بھولے ہوئے کلمے کی کسک ۔

اک ماہیا تیری یاد نہ بُھلدی

باقی ہر شے جگ دی بُھل گئی آں

 اسے اتنا یاد تھا کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے ۔ تنہائی میں کبھی اپنے خدا سے وہ فریاد کرتا ۔ اسے لگتا، ابھی آنکھ کھلے گی ، سب پہلے جیسا ہوگا ۔ اس رات آندھی آئی۔ دروازہ کھلا رہ گیا ۔ چراغ باہر نکلا تو سینکڑوں جگنو جگمگا رہے تھے ۔ پھر بارش ہونے لگی ۔ چراغ نے اپنے آنسو پونچھے اور آسمان کی طرف دیکھا:یہ اوپر کون رو رہا ہے ؟ ستارے جھلملا رہے تھے ۔ سورج طلوع ہوا ۔اسے لگا نور پھوٹ رہا ہے ۔اس نے دیکھا، ہر پھول پہ تتلیاں منڈلا رہی ہیں۔

گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میرؔ

بلبل پکاری دیکھ کےصاحب پرے پرے

یکا یک ساری کائنات چراغ سے بات کرنے لگی۔ہر جگہ اسے خدا نظر آیا ۔اچانک چراغ دین روشنی میں نہا گیا ۔ اس نے مگر سراٹھایا توبادل چھا گئے

میں ویکھاں، میرا یار نہ ویکھے

میں نہ ویکھاں، تے او ویکھے

چراغ نے اپنے اندر جھانکا ۔ خدا تواس کے خون میں دوڑ رہا تھا ۔" اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔" سورۃ ق ، 14۔ خواجہ غلام فرید نے کہا تھا :

ماہی تے تیرے، اندر وسدا

تینوں ایویں ای پین بُھلیکھے

اور بلہے شاہ نے یہ کہا تھا: 

رب رب کردے بڈھے ہوگئے ملاں پنڈت سارے

رب دا کھوج کھرا نہ لبھا اتے سجدے کر کر ہارے

رب تے تیرے اندروسدا اہدے قرآن وچ اشارے

بلھے شاہ رب اوہنوں ملدا جیہڑا یار توں تن من وارے

تن من تووار دیا تھا ،کلمہ پھر بھی یاد نہ آیا ۔بوڑھی آنکھیں بہہ نکلیں ۔ اچانک رونے کی آواز آئی۔ میرے علاوہ اور کون غم کا مارا ہے یہاں ؟  چراغ نے دیکھا :ایک بچہ رو رہا ہے ۔ اس کی سفید بلی کیچڑ میں لت پت ہے ۔چراغ کے ایک پوتے کی شادی ہو رہی تھی ۔ بچہ بیرونِ ملک سے مہمان آیا تھا ۔ غم زدہ چراغ دین نے بچے کے غم کو اپنے سینے میں محسوس کیا۔ صابن ملا، بلی نہلا دی۔بلی نہا کر صاف ہو گئی ، بچہ خوش ہو گیا ۔ کلمہ بھولنے کے بعد پہلی بار چراغ دین مسکرایا ۔ چراغ کا بیٹا یہ سب دیکھ رہا تھا ۔ اگلے دن پھردستک ہوئی ۔بلی پھر گندی ہو چکی تھی۔چراغ دین نے بلی نہلائی۔ دودھ جیسی سفید بلی کو بھی جیسے مزا آنے لگا تھا ۔ وہ باہر جاتی ،کیچڑ میں کھیل کر پھراندر آجاتی ۔سارا رمضان چرا غ دین بلی دھوتا رہا۔ ایک دن رات گھر والوں نے بلی کی عجیب وحشت ناک آوازیں سنیں تو دوڑ کر آئے۔ چراغ دین مر چکا تھا۔کون جانے مرتے دم کلمہ نصیب ہوا یا نہیں ۔روتی ہوئی بلی اور سوتے ہوئے بچے کو اٹھا کر اس کے ماں باپ فوراً روانہ ہو گئے ۔ اس رات چراغ دین کے بیٹے نے خواب دیکھا۔ بوڑھا چراغ خدا کی بارگاہ میں سر جھکائے کھڑا تھا۔ فرشتوں نے شکایت کی،چراغ کو کلمہ یاد نہیں ۔ ’’کلمہ تو اسے غلطی سے بھول گیا ہے ’’پروردگار مسکرایا‘‘ ایسا کرو، اسے بلی نہلانے پہ بخش دو‘‘

تازہ ترین