نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں، کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
کروشیا کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کے فروغ کی اہم پیش رفت ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کروشیئن وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ میرا دورۂ پاکستان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کرداد ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور کروشیا کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر استوار ہیں۔