روسی صدارتی محل کریملن نے امریکی موقف پر جواب میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کےلئے روسی توانائی تنصیبات پر یوکرینی حملے مددگار نہیں بلکہ تنازع کو مزید طول دینے کا سبب بنیں گے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو غلط فہمی ہے کہ فوجی دباؤ بڑھانے سے امن ممکن ہوگا۔
کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات کے باوجود تعمیری رابطہ برقرار ہے۔
کریملن نے خبردار کیا کہ یوکرین پر نو فلائی زون کے قیام کا مطلب نیٹو کی براہ راست موجودگی ہوگا، جبکہ روس کی خصوصی فوجی کارروائی کا مقصد ہی نیٹو کو یوکرین سے دور رکھنا ہے۔
روس نے امریکا کی جانب سے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کا لائسنس دینے کی اطلاعات پر بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم حقیقت کو نظر سے دیکھتے ہیں ، امریکا پہلے ہی یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم اس لائسنس کی خبر نئی ہے۔
کریملن نے کہا امریکی مؤقف میں تضاد پایا جاتا ہے، وہ کبھی کبھار غلطیاں بھی کرتے ہیں، لیکن پرامن حل تلاش کرنے میں مدد دینے کے اپنے مؤقف پر بھی قائم رہتے ہیں۔