• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مناسب وقت تک دھوپ میں رہنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہو سکتا ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ مناسب وقت تک دھوپ میں رہنے سے ڈیمنشیا کی بیماری کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ دراصل پوشیدہ نقصانات سے بے خبری پر مبنی طرزِ زندگی ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری) جیسی بیماری کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔

اس حوالے سے چین میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دن کی روشنی میں کتنا وقت گزارا گیا، یہ ڈیمنشیا کے خطرے سے وابستہ ہے۔چین کی مختلف جامعات کے محققین نے تقریباً 87 ہزار 600 افراد کا آٹھ سال تک جائزہ لیا۔ 

تحقیق میں شامل افراد کی اوسط عمر 62 سال تھی اور انہوں نے اپنی کلائیوں پر ایکٹی گرافی ڈیوائسز پہن رکھی تھیں، جو ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور دن میں سورج کی روشنی کے ایکسپوژر کا ریکارڈ رکھتی تھیں۔

ایکٹی گرافی ڈیوائس میں روشنی کی مقدار ناپنے کے لیے بلٹ اِن لائٹ سینسر اور ایکسیلیرو میٹر موجود ہوتا ہے۔ ایکسیلیرو میٹر کسی شخص کی حرکت یا رفتار میں ہونے والی تبدیلیوں کو ناپتا ہے، مثلاً کوئی چیز کتنی تیزی سے رفتار پکڑ رہی ہے، سست ہو رہی ہے یا اپنی سمت تبدیل کر رہی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 741 افراد میں ڈیمینشیا (یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں کی بیماری) کی تشخیص ہوئی۔ نتائج کے مطابق، جو لوگ زیادہ تر وقت گھر کے اندر مدھم روشنی والے ماحول میں رہتے تھے، ان میں ابتدائی طور پر ڈیمینشیا کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ تاہم، اگر وہ نسبتاً زیادہ روشن ماحول میں رہنے لگے تو ان کے اس خطرے میں 15 سے 25 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دن کے وقت اوسطاً ایک ہزار Lux یا اس سے زیادہ روشنی میں رہنا جو کہ ایک معتدل روشن کمرے یا کمرے سے باہر ابر آلود دن کی روشنی کے برابر ہوتی ہے۔ مدھم روشنی میں رہنے والے افراد کے مقابلے میں ڈیمینشیا کے خطرے میں 16 فیصد کمی سے منسلک تھا۔

روزانہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ایسی روشنی میں گزارنا جس کی شدت 3 ہزار لکس یا اس سے زیادہ ہو، کھلی فضا میں قدرتی روشنی کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ ڈیمنشیا کے خطرے میں 18 فیصد کمی سے منسلک پایا گیا۔ اسی طرح روزانہ 40 سے 45 منٹ انتہائی تیز روشنی سات ہزار لکس یا اس سے زیادہ میں رہنا ڈیمنشیا کے خطرے میں 17 فیصد تک کمی سے منسلک ہے۔

روزانہ صفر اعشاریہ 7 گھنٹے (تقریباً 42 منٹ) سے کم تیز قدرتی دن کی روشنی میں رہنا، ڈیمنشیا کے خطرے کی پیش گوئی کرنے والا ایک زیادہ مضبوط عامل ثابت ہوا، جو کہ ڈیمنشیا کے چھ معروف خطرے کے عوامل، جیسےکہ موٹاپا، الکحل کا استعمال اور دماغی چوٹ سے بھی زیادہ مؤثر تھا۔

دن کی روشنی کا حفاظتی اثر ان افراد میں اور بھی زیادہ نمایاں تھا جو رات کے وقت روشنی کے زیادہ سامنا کرتے تھے، کیونکہ رات کی روشنی نیند میں خلل ڈال سکتی ہے۔ متاثرہ اور کم معیار کی نیند کا تعلق بھی ڈیمنشیا کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔

یہ تحقیق جو کہ طبی جریدے جنرل سائیکاٹری میں شائع ہوئی ہے اسکے مطابق اگر کوئی شخص رات کے وقت زیادہ روشنی میں رہتا ہو، پھر بھی اگر وہ دن کے وقت کافی مقدار میں تیز روشنی حاصل کرے تو اس میں ڈیمنشیا کا خطرہ 30 سے 38 فیصد تک کم دیکھا گیا۔اسی طرح وہ افراد جو رات کو دیر رات تک جاگتے ہیں، اگروہ دن کے وقت زیادہ سورج کی روشنی میں رہیں تو ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ 40 فیصد تک کم پایا گیا۔

صحت سے مزید