ڈاکٹر عبادت بریلوی 14 اگست 1920ءکو بریلی میں پیدا ہوئے۔ جوبلی کالج لکھنؤ اور لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم پائی۔ دہلی کے اینگلو عریبک کالج سے وابستہ ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد اپریل 1950ءمیں لاہور چلے آئے جہاں اورینٹل کالج سے وابستہ ہوئے۔ اسی ادارے میں شعبہ اردو کے صدر اورڈین فیکلٹی آف آرٹس کے منصب پر فائز رہے۔ 1970ءمیں اورینٹل کالج کے پرنسپل کے منصب پر تقرر ہوا۔ 1980ء میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہوئے۔ دسمبر 1998ءمیں وفات پانے والے ڈاکٹر عبادت بریلوی نے چالیس سالہ تدریس کے دوران اردو تنقید اور تحقیق کی سو کے قریب تصانیف دان کیں ۔ تنقید میں ڈاکٹر صاحب کا ایک اپنا اسلوب ہے۔ وہ مجرد اصطلاحات کی بجائے سہل انداز میں متن کی اس طرح وضاحت کرتے چلے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا مصنف کے علم سے مرعوب ہوئے بغیر موضوع کے پس منظر اور فنی نکات سے آشنا ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیا میں پھر سے گزرے وقتوں اور اوجھل ہو چکے چہروں کا تذکرہ کرر ہا ہوں ، جنہیں ہماری زی جنریشن پہچانتی ہے اور نہ جاننا چاہتی ہے۔ کیا نئے پاکستان کا جھنڈا اٹھانے کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی روایت سے لاتعلق ہو جائیں نیز موبائل فون سے دل بہلائیں۔ یورپی ادب کے ایک جدید نام مارسل پراؤست نے سات جلدوں میں ’گزرے وقتوں کی بازیافت‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا تھا۔ مارسل پراؤست جولائی1871 میں پیدا ہوا تھا۔ اس برس پیرس کے محنت کشوں نے جرمن فوج سے شکست کھانے والی فرانسیسی حکومت سے بغاوت کر کے پیرس میں اپنی حکومت قائم کر لی تھی جسے ’پیرس کمیون‘ کہا جاتا تھا۔ زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپناسنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ انہیں اپنے سنہ 22 ء سے واسطہ پڑتا ہے۔ اتفاق سے مارسل پراؤست نے بھی 1922 ہی میں وفات پائی تھی۔ مارسل پراؤست کے ناول کی پہلی جلد کا آخری جملہ جدید ادب کا لافانی حوالہ بن چکا۔ ’کسی خاص شکل کو یاد کرنے کے معنی ہیں کسی خاص لمحے کا افسوس کرنا اور دکھ کی بات یہ ہے کہ گھر اور گلیاں اور کوچے بھی برسوں کی مانند گزرتے چلے جاتے ہیں‘۔ڈاکٹر عبادت بریلوی کے صاحبزادے ڈاکٹر فرحان عبادت یار خان گورنمنٹ کالج لاہور میں بے خبر صحافی کے ہم عصر تھے۔ گزشتہ دنو ں ڈاکٹر فرحان نے ازرہ الطاف ڈاکٹر صاحب کی خودنوشت ’یاد عہد رفتہ‘ عنایت کی۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کی خوبصورت نثر کے ساتھ کچھ روزگزارنے کا خوشگوار تجربہ نصیب ہوا۔ اگرچہ مشتاق احمد یوسفی نے ’زرگزشت‘ کے پیش لفظ میں سوانح عمری کو مزاح کے خانے میں رکھا ہے لیکن یوسفی صاحب کی ہر بات سے اتفاق کرنا ہم پر فرض نہیں۔ خودنوشت سوانح ہمیں کسی فرد کی زندگی کے نشیب و فراز ہی سے آگاہ نہیں کرتی بلکہ اس اجتماعی زندگی سے بھی متعارف کراتی ہے جس میں صاحب سوانح نے اپنی زندگی بسر کی۔ اس زاویے سے ڈاکٹر عبادت بریلوی کی خودنوشت چشم کشا ہے۔ ڈاکٹر عبادت نے دلی کے اینگلو عریبک کالج میں کوئی سات برس تدریس کے فرائض انجام دیے۔ متحدہ ہندوستان میں ان کے تجربہ تدریس ، فسادات کے دوران قلعہ کہنہ دلی میں پناہ گیر کے مشاہدات اور پھر پاکستان میں ڈاکٹر عبادت بریلوی کے تجربات ہمیں اپنی اجتماعی افتاد سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔ ’یاد عہد رفتہ‘واضح طور پر دو حصوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ پہلے حصے میں سید علی عباس حسینی ، پروفیسر احتشام حسین ، مولانا ابوالکلام آزاد، مولوی عبدالحق ، حسرت موہانی ،ڈاکٹر ذاکر حسین اورہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنر زاہد حسین اور پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر سری پرکاش کی شرافت اور انسان دوستی سے واسطہ پڑتا ہے۔ دلی کے کناٹ پیلس میں مسلمانوں کی دکانیں لٹ رہی ہیں۔ ہر شخص ہاتھ آنے والی کوئی بھی چیز اٹھائے بھاگ رہا ہے۔ ’اتنی دیر میں پنڈت جواہر لال نہرو کی کار آگئی۔ وہ کار سے باہر آئے اور مجمع میں سے کسی کے ہاتھ سے ڈنڈا چھین کر بلوائیوں کی طرف مارنے کے لیے دوڑے ‘۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کا ایک بیان ملاحظہ کیجیے ۔’ جاٹوں کے مشتعل مجمع نے جامعہ ملیہ پر حملہ کر دیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین اساتذہ کے ساتھ جامعہ کی عمارت میں محصور تھے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کو فون کیا کہ’ آخری وقت آگیا۔ جاٹوں کا مجمع بپھرا ہوا ہے۔ میں نے سوچا کہ آپ کو بتا دوں اور خدا حافظ بھی کہہ دوں‘۔ تھوڑی دیر میں پنڈت نہرو کی کار جامعہ میں داخل ہوئی۔ جلدی سے کار سے باہر آئے اور کہا کہ میں مجمع کی طرف جاؤں گا۔ سب نے منع کیا، وہ نہیں مانے۔ حملہ آور مسلح مجمع مشعلیں اٹھائے دریائے جمنا کی طرف سے نعرے لگاتا جامعہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جواہر لال قریب پہنچے تو مشعلوں کی روشنی میں کچھ لوگوں نے انہیں پہچان لیا اور باآواز بلند کہا ۔ پنڈت جی آرہے ہیں۔ پنڈت جی آرہے ہیں۔ یہ آوازیں سن کر مجمع رک گیا۔ پنڈت جواہر لال نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کی کہ تم لوگ ایسے لوگوں پر حملہ کرنا چاہتے ہو جو آزادی کی لڑائی میں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے۔ جنہوں نے صحیح معنوں میں ہم لوگوں کو انسان بنایا ہے۔ انسانیت اور محبت کا درس دیا ہے۔ پنڈت جواہر لال کی تقریر سن کر مجمع منتشر ہو گیا‘۔ ان تجربات سے گزرنے والے عبادت بریلوی اپریل 1950 میں لاہور پہنچے تو مال روڈ کے درختوں ، چائے خانوں ، تہذیبی ماحول اور ادبی محفلوں کے سحر میں مبتلا ہو گئے۔دہلی میں اساتذہ کے احترام کا تجربہ رکھنے والے عبادت بریلوی کو اورینٹل کالج میں ڈاکٹر سید عبداللّٰہ،شیخ امتیاز علی اور خیرات محمد ابن رسا سے واسطہ پڑا۔ ڈاکٹر عبادت نے ازرہ وضع داری نام نہیں لیا لیکن تدریسی سازشوں کی اوٹ سے ڈاکٹر وحید قریشی کا چہرہ بھی جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔ طالب علموں کے بھیس میں ایک تنظیم کےپرجوش پیروکار درس گاہوں پر قابض نظر آتے ہیں۔ ان گستاخ طبع پارساؤں کے ہاتھوں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کی مال رو ڈ پر توہین بھی ہماری تعلیمی تاریخ کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اپنی زندگی کے تیس برس متحدہ ہندوستان میں اور اڑتالیس برس پاکستا ن میں گزارے۔ ان کی خودنوشت محض تاریخ کے دو ادوار کا بیان نہیں ، معاشرت کے دو مختلف نمونوں کا آئینہ پیش کرتی ہے۔