• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ممتاز شاعر، نغمہ نگار قتیل شفائی کو چاہنے والوں نے آج بہت یاد کیا

قتیل شفائی:  فائل فوٹو
قتیل شفائی:  فائل فوٹو 

ممتاز شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے گیت سدا بہار، 25 ویں برسی پر چاہنے والوں نے انہیں بہت یاد کیا۔

نئی جہت کے قتیل اور مدھر گیتوں اور غزلوں کے خالق قتیل شفائی کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس گزر گئے ہیں، ان کا انتقال  11جولائی 2001 ء کو لاہور میں ہوا، ان کا اصل نام محمد اورنگزیب تھا، تاہم انہوں نے اپنا قلمی نام قتیل شفائی رکھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل ہری پور میں پیدا ہونیوالے قتیل شفائی نے پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔

قتیل شفائی نے پاکستان اور بھارتی فلموں کیلئے اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے جو پہلے کی طرح آج بھی یکساں مقبول ہیں۔

انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور 20 ایورڈ بھی دیے گئے۔ لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔

فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا، انہیں 1994ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

اس کے علاوہ آدم جی ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ و دیگر ایوارڈ بھی انہوں نے حاصل کیے۔ بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کی اور صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔

ان کی تصانیف میں ہریالی، گجر، جلترنگ، روزن، جھومرم، مطربہ، چھتنار، گفتگو، پیراہن، آموختہ، ابابیل، برگد، گھنگرو، سمندر میں سیڑھی، پھوار، صنم اور پرچم شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید