یروشلم (اے ایف پی) غزہ میں جنگ بندی کے باوجود جنگ کے بعد کے انتظامات سے متعلق منصوبہ بندی تاحال سیاسی اتفاقِ رائے، سکیورٹی ضمانتوں اور مالی وسائل کی کمی کے باؤعث تعطل کا شکار ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل اب بھی حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوج کے انخلا اور فلسطینی انتظامیہ کے قیام سے قبل وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اب حماس کی غیر مسلحی کو منصوبوں پر عمل درآمد کی لازمی شرط نہیں سمجھا جا رہا۔ رپورٹ کے مطابق رفح میں ایک آزمائشی انسانی امدادی زون، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، اور نئی فلسطینی پولیس فورس کے قیام پر غور جاری ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق ان منصوبوں پر عملی پیش رفت محدود ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو میں کئی برس اور دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔