تقسیم ہندوستان کے بعد ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ قیام پاکستان کے بعد مئی 1950ء میں ایران کیساتھ فرینڈ شپ ٹریٹی اور پھر مارچ 1956ء میں کلچرل ٹریٹی پر دستخط کئے گئے۔ پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی شاہ ایران نے دوستی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1955ء اور پھر 1961ء میں پاکستان کے افغانستان کیساتھ تعلقات نہایت کشیدہ ہوگئے اور امریکی مداخلت بھی بے نتیجہ رہی تو شاہ ایران نے افغان فرماں روا ظاہر شاہ سے رابطہ کرکے مصالحت کروائی۔ ’’پشتونستان ‘ ‘کی سازش ناکام ہونے کے بعد جب بلوچستان کو عا لمی گریٹ گیم کا حصہ بنانیکی کوشش کی گئی اور گریٹر بلوچستان کی آڑ میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی کوشش کی گئی، تب بھی شاہ ایران پاکستا ن کی مدد کو آئے۔ ایرانی نژاد مصنف آلیکس وطن خواہ (Alex Vatanka)اپنی تصنیف Security, Diplomacy and American Influence میں لکھتے ہیںکہ شاہ ایران نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ سوویت یونین کابل کے ذریعے آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جسکا حتمی مقصد گریٹر بلوچستان کا قیام اور بالآخر ایران اور پاکستان دونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ خدشہ یہ تھا کہ افغان فرماں روا داؤد کی سوویت نواز پالیسیاں جنوب مغربی ایشیا کے پورے خطے میں ڈومینو افیکٹ کی طرح ایک کے بعد ایک تبدیلی لانے کیلئے بنائی گئی تھیں۔ شاہ ایران نے اپنے قریبی درباری، اسداللّٰہ عالم کو صورتحال کا جائزہ لینے کو کہا۔ اسداللّٰہ عالم نے لکھا ’’افغانستان کی پوزیشن مزید مضحکہ خیز ہو چکی ہے، اپنے طویل عرصے سے بیان کردہ پشتونستان کے عزائم کے علاوہ، اب انہوں نے پاکستانی بلوچستان پر بھی دعویٰ کر دیا ہے۔ بھارت اور سوویت یونین نے انہیں اس پر اکسایا ہے۔ یہ احمق (افغان) یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر وہ کسی طرح بلوچستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں اور یوں سمندر تک رسائی حاصل کر لیں، تو سوویت یونین فوراً آگے بڑھ کر اسکے ثمرات خود سمیٹ لے گا۔‘‘سویت یونین کے علاوہ عراق بھی گریٹر بلوچستان کی سازش کا حصہ تھا۔اسلام آباد میں عراقی سفارتخانے کے ذریعے گولہ بارود اور اسلحہ کی بہت بڑی کھیپ بلوچستان میں تخریب کاری کیلئے بھجوائی جارہی تھی۔ ایرانی انٹیلی جنس نے پاکستانی خفیہ اداروں کو خبر کردی تو 10فروری 1973ء کواسلام آباد میں کئے گئے بہت بڑے سرچ آپریشن کے دوران میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی میں اسلحے کی بہت بڑی مقدار برآمد کرلی گئی۔ اس واقعہ کے بعد عراقی سفارتخانہ بند کرکے عراقی سفیر کو پاکستان سے بیدخل کردیا گیا۔ سردار شیر باز خان مزاری اپنی خود نوشت ’’A Journey to Disillusionment‘‘ میں لکھتے ہیں کہ بلوچ مزاحمت کار پہاڑوں پر قائم اپنی پناہ گاہوں سے گوریلا جنگ جاری رکھے ہوئے تھے مگر شاہ ایران نے اپنی فوج کے ہمراہ ویت نام جنگ میں استعمال ہونے والے امریکہ ساختہ 30کوبرا ہیلی کاپٹر بھیج کر اس جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔3ستمبر 1974ء کو شاہ ایران کی مدد سے آپریشن چمالانگ شروع کیا گیا جس نے بلوچ گوریلوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ایک ہی دن میں 125بلوچ مزاحمت کار مارے گئے جبکہ 900کو گرفتار کرلیا گیا۔
محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں پاکستان اور ایران کے تعلقات نہایت مثالی رہے جب شاہ ایران کے اقتدار کا سنگھاسن ڈول رہا تھا اور تہران میں عوام بغاوت پر مائل تھے تو جنرل ضیاالحق کو مشورہ دیا گیا کہ اس مشکل وقت میں ایران کا دورہ کرکے شاہ ایران کا ساتھ دیں، جنرل ضیاالحق نے 9تا11ستمبر 1978ء ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ کرنیکا اعلان کردیا۔ 8ستمبر کو تہران میں قتل عام ہوا جسے یوم سیاہ قرار دیا گیا مگر اسکے باوجود جنرل ضیاالحق نے دورہ ملتوی نہ کیا اور 9ستمبر کی شام چار بج کر 35منٹ پر انکے جہاز نے مہر آباد ہوائی اڈے پر لینڈ کیا۔اس شام جب دونوں حکمرانوں کی ملاقات ہوئی تو شاہ ایران کا رنگ اُترا ہوا تھا۔خاکستری چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں، اضطراب اور کرب کے آثار نمایاں تھے۔عزم و حوصلے کا فقدان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے جنرل ضیاالحق کو بتایا کہ یہ تحریک غیر ملکی ایما پر شروع کی گئی ہے اور اس میں سی آئی اے کا ہاتھ ہے۔جنرل ضیاالحق کے معتمد خاص جنرل خالد محمود عارف اپنی کتاب Working With Ziaمیں اس سفارتی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایران شاہ کیخلاف نفرت اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا تو تہران میں پاکستان کے سفیر غیاث الدین احمد کو خیال سوجھا کہ جنرل ضیاالحق فی الفور ایران کا دورہ کریں اور ابتلا و آزمائش میں شاہ ایران کے ساتھ یک جہتی اور دوستی کا مظاہرہ کریں۔ پاکستانی سفیر کا تجزیہ تھا کہ شاہ ایران بہت جلد اس طوفان پر قابو پالیں گے کیونکہ ملک کی مسلح افواج ان کے ساتھ ہیں ۔چنانچہ ضیاالحق نے دورہ ایران کا اعلان کردیا جو ایک سفارتی غلطی ثابت ہوا ۔
جنرل ضیاالحق کے دورہ ایران کے چند ماہ بعد ہی محمد رضا شاہ پہلوی کو ملک سے فرار ہونا پڑا اور انقلاب آگیا۔ اس عوامی انقلاب کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی قیادت ضیاالحق کے دورہ کے باعث تحفظات اور اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار رہی اور کئی برس تک دونوں ملکوںکے تعلقات سردمہری کا شکار رہے۔ بعدازاں دوطرفہ تعلقات معمول کی سطح پر تو آگئے مگر 1979ء کے انقلاب کے بعد اسکا اتحاد بھارت کیساتھ رہا۔2016ء میں بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو ایران سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے پکڑے گئے توبہت بڑے جاسوسی نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔پھر چا بہار بندرگاہ کا انتظام بھارت کے حوالے کر دیا گیا تو بدگمانیوں میں مزید اضافہ ہوا لیکن پاکستان نے ہر مشکل اور کڑے وقت میں اپنے برادر ملک کا ساتھ دیا۔جون 2025ء میں امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے اس جارحیت کی پرزور مذمت کی جس پر ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ 28فروری2026ء کو ایران کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن Epic Furyجس میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنائی شہید ہوگئے اس دوران بھارت نے اسرائیل کا ساتھ دیامگرپاکستان نے ثالث کا کردار اداکرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروائی۔اُمید ہے اب پاک ایران تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔