تہذیب، ثقافت، دانش ا ور رواداری میں گندھے ہوئے لوگ سب کو اچھے لگتے ہیں۔وہ زندگی میں بھی محبوب ہوتے ہیں اور دنیا سے رخصت ہو جائیں تو ان کا ذکر چہرے کو میٹھی مسکراہٹ اور دل کو خوشگوار احساس سے بھر دیتا ہے ۔میاں منظور احمد وٹو بھی ایسی ہی شخصیت تھے، جو سیاست کو اختلاف کی جنگ بنانے کی بجائے محبت اور احترام سے دلوں کو جیتنے کا ہنر رکھتے تھے، کئی برس قبل جمخانہ کلب میں ان کے قائم کردہ نیشنل پبلک فورم کے ایک اجلاس میں ان سے باقاعدہ ملاقات ہوئی۔ دھیمے لہجے میں منطق، علمی حوالوں اور دانش سے بھرپور بات چیت اتنی اچھی لگی کہ ہمیشہ کیلئے ایک قلبی وابستگی قائم ہو گئی،جہاں بھی کسی تقریب یا دعوت میں ملاقات ہوتی، بڑی شفقت اور محبت سے حال احوال پوچھتے۔ گزشتہ کئی برسوں سے نظر فرید وٹو کے ذریعے ان سے رابطہ قائم رہا۔ نظر فرید میاں منظور وٹو کو اپنا مرشد سمجھتا ہے اور فنا فی المرشد کی منزل پر فائز ہو چکا ہے۔مہینے میں ایک آدھ بار منظور وٹو صاحب سے اپنے سیل فون سے میری بات کروانا اس کا معمول رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ وجدان ہاؤس میں وٹو صاحب کو مدعو کر کے محفل ِمکالمہ منعقد کی جائے مگر کبھی میری طبیعت آڑے آ گئی اور کبھی وہ اپنی مصروفیات کے باعث وقت نہ دے سکے، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نظر فرید وٹو نے مجھے بتایا کہ وٹو صاحب نے پیغام دیا ہے کہ اس مہینے ہم آپ کی طرف آئیں گے مگر انہی دنوں مجھے کچھ عرصےکیلئے بیرونِ ملک جانا پڑ گیا اور یوں وہ ملاقات اور مکالمہ ہمیشہ کیلئے ادھورا رہ گیا اب اگلے جہان کے کسی پڑاؤ میں ضرور بات ہو گی ۔
البتہ ان سے وابستہ کئی خوشگوار یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ ایک مرتبہ ان کا فون آیا فرمانے لگے ڈاکٹر صاحبہ، میرے پاس ایک بہت قابل نوجوان بیٹھا ہے،ایک میڈیا ہاؤس میں کام کر رہا ہے ،اس نے آپ کے ادارے میں پروڈیوسر کی اسامی کے لیے درخواست دی ہوئی ہے ، کل انٹرویوز ہو رہے ہیں لیکن اسے انٹرویو کی کال موصول نہیں ہوئی ، ذرا دیکھ لیجئے گا، کیا مسئلہ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ضرور دیکھوں گی، اس وقت پنجاب حکومت نے میرٹ کا ایسا عمدہ طریقہ کار طے کر کے فارم میں اندراج کر دیا تھا کہ تعلیمی قابلیت کے حوالے سے امیدوار اپنا میرٹ خود بھی چیک کر سکتا تھا، ہم تمام درخواستیں مع سرٹیفکیٹس پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بورڈ جاب پورٹل کو بھیج دیتے تھے اور وہ ہمیں انٹرویو کے وقت ایک سیٹ کیلئے پانچ لوگوں کی لسٹ انٹرویو کیلئے بھیجتے تھے،انٹرویو لسٹ میں تو اس نوجوان کا نام نہیں تھا تاہم جب اس نوجوان کا فارم دیکھا تو معلوم ہوا کہ اسکے تعلیم و تجربے کے مجموعی نمبر صرف 60 تھے جبکہ انٹرویوکیلئے بلائے گئے امیدواروں کے نمبر 80 سے 85 کے درمیان تھے۔میں نے منظور وٹو صاحب کو فون کر کے پوری صورتحال بتائی کہ ساٹھ اور ستر نمبروں والے سینکڑوں امیدوار اس لئے نہیں بلائے جاسکتے کہ انٹرویو کے صرف پانچ نمبر ہیں وہ پورے بھی دئیے جائیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑنا۔انہوں نے میری بات پوری توجہ سے سنی اور کہا بالکل میرٹ کے مطابق فیصلہ کریں اور تفصیل سے آگاہ کرنے کا بہت شکریہ۔جمخانہ کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے میاں منظور احمد وٹو کی معاملہ فہمی، اختلافِ رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے، دلیل سے بات کرنے اور قومی مسائل کا بات چیت سے حل نکالنے کی صلاحیت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔کئی مقررین کا خیال تھا کہ آج بحرانوں میں گھری ہوئی قوم کو میاں منظور وٹو جیسے بالغ نظر اور بردبار سیاستدانوں کی بہت ضرورت ہے۔ان کے بیٹوں بیٹیوں معظم وٹو ، خرم وٹو ، عائشہ وٹو اور جہاں آرا وٹو نے اپنے احترام اور شائستگی کے آئینہ دار رویے اور گفتگو سے اپنے عظیم والد کی علمی،سیاسی ، ادبی اور اخلاقی میراث کی بھرپور گواہی دی، ان کی گفتگو سن کر میرے ساتھ بیٹھے مجیب الرحمن شامی صاحب کہنے لگے،’میاں منظور احمد وٹو نے اپنی اولاد کی بہت اچھی تربیت کی ہے ،کاش ہمارے تمام سیاست دان اپنی اولاد اور کارکنوں کو یہی سبق دیں کہ اختلاف کا جواب گالی نہیں بلکہ دلیل سے دیا جاتا ہے، سیاست نفرت سے نہیں بلکہ تحمل، رواداری اور شائستگی سے کی جاتی ہے۔‘
اجلاس میں میاں منظور احمد وٹو کی جگہ متفقہ طور پر چوہدری سرور کو چیئرمین نیشنل پبلک فورم منتخب کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ فورم پہلے کی طرح ہر ماہ اجلاس منعقد کرتا رہے گا اور قومی ایشوز پر مکالمے اور فکری تبادلے کی روایت کو زندہ رکھے گا۔تقریب میں چوہدری سرور، محمد اکرم چوہدری، مجیب الرحمن شامی، خرم نواز گنڈاپور،سعید آسی، فرخ سہیل گوئندی، معظم وٹو، خرم وٹو، جہاں آرا وٹو، عائشہ وٹو، نور اللّٰہ صدیقی، انور حسین سمرا، ڈاکٹر امان اللّٰہ، جسٹس (ر) رانا محمد ارشد، خاور سلیم، نظر فرید وٹو، مدثر اقبال، حفیظ اللّٰہ نیازی، میاں کاشف اقبال اور دیگر ممتاز سیاسی ،صحافتی اور علمی، ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ہر انسان نے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے پیچھے ایسی میراث، ایسے اصول اور ایسی یادیں چھوڑ جائے کہ لوگ اس کا احترام کریں، اس کی مثال دیں اور اس کیلئے دعا کریں۔اللّٰہ تعالیٰ میاں منظور احمد وٹو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو اسی طرح خیر، شائستگی اور رواداری کی روایت آگے بڑھانے کی توفیق دے۔آمین