• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دانیال ظفر نے اپنی اداکاری پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

— تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
— تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار علی ظفر کے بھائی، ابھرتے ہوئے اداکار و گلوکار دانیال ظفر کا کہنا ہے کہ غم ایک انتہائی ذاتی احساس ہے اور اسے کسی ایک پیمانے پر ناپا نہیں جا سکتا، لیکن لوگ صرف چیخ و پکار کو ہی اداکاری سمجھتے ہیں۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکار نے اپنی ڈرامہ سیریل زنجیریں کے چند پسِ پردہ مناظر شیئر کیے اور اپنی پرفارمنس پر ہونے والی تنقید کا جواب بھی دے دیا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ میرا ’آپریشن کرائی موڈ‘ ناکام ہو گیا، پرفارمنس کے دوران ایک آنسو پر قابو پانے کی کوشش کرتے کرتے میں بچوں کی طرح رونے لگا، جس سے میری پرفارمیٹو مردانگی کو دھچکا ضرور پہنچا، لیکن اپنی کمزوریوں اور جذبات کو قبول کرنے کا حوصلہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔

غم کے اظہار پر بات کرتے ہوئے دانیال ظفر نے کہا کہ دکھ ایک انتہائی ذاتی احساس ہے اور اسے کسی ایک پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا، ہر شخص اپنے درد اور غم کا اظہار مختلف انداز میں کرتا ہے، کچھ لوگ خاموش رہتے ہیں، کچھ انکار کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں، بعض بے حسی، خالی پن یا آنسوؤں کے ذریعے اپنے جذبات کا ظاہر کرتے ہیں، جبکہ کچھ افراد بغیر آنسو بہائے بھی گہرے غم سے گزرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ ہر شخص ایک ہی انداز میں سوگ منائے یا اپنے جذبات کا اظہار کرے۔


دانیال ظفر نے اس موقع پر اداکاری کے فن پر بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ باریک اور حقیقت سے قریب تر اداکاری کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، بہت سے لوگ صرف چیخ و پکار، شدت سے بھرپور مکالموں اور ڈرامائی انداز کو ہی حقیقی اداکاری سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقی انسانی جذبات عموماً خاموش، پُرسکون اور نہایت محتاط انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اداکار کا کہنا ہے کہ جذباتی مناظر میں گلیسرین کے مسلسل استعمال نے بھی ناظرین کی توقعات کو ایک خاص سمت دے دی ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف آنسو بہانا ہی حقیقی جذبات کی علامت ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قدرتی، حقیقت پسندانہ اداکاری کو بھی کبھی وہ پذیرائی مل سکے گی جس کی وہ مستحق ہے؟

اپنے پیغام کے اختتام پر دانیال ظفر نے کہا کہ مجھے اسکول کے زمانے سے ہی تنقید کا سامنا رہا ہے، تاہم منفی تبصرے مجھ پر اثر انداز نہیں ہوتے۔

انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ذرا اور کوشش کریں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید