ایران کے سابق وزیرِ خارجہ اور سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی ملکیت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ایران سے نہیں چھین سکتی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت آبنائے ہرمز کو ایران کی ملکیت سے الگ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جرأت مندانہ اور دانشمندانہ قیادت میں ایران کی خودمختاری کے دائرے میں آئی ہے۔
علی اکبر ولایتی نے اسے 40 روزہ جنگ کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران پر ایک نئی فضائی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران نے متبادل بحری راستے استعمال کرنے والے آئل ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد یہ نئی کارروائیاں کی گئیں۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں امریکی اہداف کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کے دعوے بھی شامل ہیں۔