• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی قوم کی علمی، سائنسی اور معاشی ترقی کا انحصار اس کے اعلیٰ تعلیمی نظام (Higher Education System) اور اس سے وابستہ تحقیقی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی جامعات کو صرف تدریسی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں علم کی تخلیق، سائنسی جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے مراکز میں تبدیل کیا۔ پاکستان میں بھی اکیسویں صدی کے آغازمیں ایک ایسی ہی انقلابی اصلاح متعارف کرائی گئی جس نے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ اصلاح ٹینیور ٹریک نظام (Tenure Track System - TTS) کی صورت میں سامنے آئی، جس نے جامعات میں قابلیت، تحقیق، جدت طرازی اور بین الاقوامی معیار کو ترقی کا بنیادی پیمانہ بنا دیا۔

سن 2000ء سے 2002ء کے دوران تین برس تک وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور وفاقی وزیر تعلیم کی حیثیت سے خدمات انجام دینےکےبعد،جب مجھے اعلیٰ تعلیمی کمیشن (Higher Education Commission - HEC) کا چیئرمین مقرر کیا گیا تو میری اولین ترجیح یہ تھی کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ایک ایسا کارکردگی پر مبنی تنخواہی نظام متعارف کرایا جائے جو تدریس اور تحقیق میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرے۔اسی سوچ کے نتیجے میں پاکستان میں ٹینیور ٹریک نظام (Tenure Track System - TTS) کا آغاز ہوا، جو آج ملک کی اعلیٰ تعلیم کی تاریخ میں متعارف کرائی جانے والی سب سے اہم اور انقلابی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے۔

اس نظام نے جامعات میں ترقی اور مراعات کے روایتی تصور کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس سے قبل ترقی کا انحصار زیادہ تر سینارٹی اور مدتِ ملازمت پر ہوتا تھا، جبکہ نئے نظام کے تحت اہلیت، تحقیقی فضیلت ، جدت طرازی اور بین الاقوامی مسابقت کو بنیادی معیار قرار دیا گیا۔اس اصلاح کو صرف تنخواہوں کے نئے ڈھانچے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسکے ساتھ ساتھ تحقیقی بنیادی ڈھانچے، بعد از گریجویٹ تعلیم (Postgraduate Education)، ڈیجیٹل لائبریریوں (Digital Libraries) اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد(Faculty Development) میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کی گئی۔ نتیجتاً پاکستان کی جامعات، جو پہلے زیادہ تر تدریسی ادارے سمجھی جاتی تھیں، بتدریج تحقیق پر مبنی مراکزِ امتیاز (Centres of Excellence) میں تبدیل ہونے لگیں۔

صرف دو دہائیوں کے اندر پاکستان نے سائنسی تحقیقی اشاعتوں (Scientific Publications)، پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کنندگان، بین الاقوامی تحقیقی تعاون اور عالمی سطح پر اپنی علمی شناخت کے حوالے سے غیر معمولی ترقی حاصل کی۔ شی ماگو ممالک کی درجہ بندی (Scimago Country Rankings) میں پاکستان کا مقام متعدد سائنسی شعبوں میں نمایاں طور پر بہتر ہوا۔ اس غیر معمولی پیشرفت کے پسِ منظر میں سب سے اہم کردار ان اساتذہ کا تھا جو ٹینیور ٹریک نظام (TTS) کے تحت تعینات ہوئے اور جنکی تحقیقی کارکردگی روایتی بنیادی تنخواہ اسکیل (Basic Pay Scale - BPS) کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔

ٹینیور ٹریک نظام (Tenure Track System) کے نفاذ سے قبل پاکستان کی تقریباً تمام جامعات کے اساتذہ بنیادی تنخواہ اسکیل(Basic Pay Scale - BPS) کے تحت ملازمت کرتے تھے، جو دراصل سرکاری سول سروس کے نظام سے اخذ کیا گیا تھا۔اس نظام میں ترقی کا انحصار بنیادی طور پر مدتِ ملازمت، سروس قوانین اور انتظامی کارروائیوں پر ہوتا تھا، نتیجتاً اعلیٰ درجے کی سائنسی تحقیق اور نمایاں علمی کامیابیوں کو وہ مالی اور پیشہ ورانہ اعتراف حاصل نہیں ہو پاتا تھا جسکی وہ مستحق تھیں، جس کے باعث مسلسل اور معیاری تحقیق کی حوصلہ افزائی بھی متاثر ہوتی تھی۔ اس نظام کے منفی اثرات پورے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے تھے۔ تحقیقی اشاعتوں کی تعداد صرف 700سالانہ تھی، ڈاکٹریٹ (R&D) تعلیم کی رفتار سست تھی، بین الاقوامی تحقیقی تعاون محدود تھا،یعنی پاکستانی جامعات میں وہ متحرک تحقیقی ثقافت موجود نہیں تھی جو دنیا کی ممتاز جامعات کا نمایاں وصف سمجھی جاتی ہے۔اس صورتِ حال کا ایک اور افسوسناک نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے بے شمار باصلاحیت نوجوان سائنسدانوں نے اپنے علمی مستقبل کیلئے بیرونِ ملک اداروں کو ترجیح دی، جہاں بہتر تحقیقی مواقع،جدید لیبارٹری سہولیات اور زیادہ پرکشش مالی مراعات دستیاب تھیں۔ اس مسلسل قابل ترین اذہان کی بیرونِ ملک منتقلی (Brain Drain) نے ملک کو اپنے متعدد ذہین ترین محققین اور سائنس دانوں سے محروم کر دیا، جسکے اثرات قومی سائنسی ترقی پر طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔پاکستان میں ہر سال پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنیوالے محققین کی تعداد بھی صرف 200تھی، جسکے باعث ملک جدید تحقیقی جامعات کی ضروریات کے مطابق اعلیٰ تربیت یافتہ اور قابل علمی افرادی قوت تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا۔ بیشتر جامعات کی لیبارٹریاں جدید آلات سےآراستہ نہیں تھیں، ممتاز بین الاقوامی تحقیقی جرائد تک رسائی محدود تھی، جبکہ مسابقتی تحقیقی گرانٹس کے حصول کے مواقع بھی نہایت کم تھے۔ایسے حالات میں ٹینیور ٹریک نظام (Tenure Track System - TTS)کا نفاذ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا۔ یہ نظام ماضی کی روایتی جامعاتی پالیسیوں سے یکسر مختلف تھا اور اسے شمالی امریکہ (North America) سمیت دنیا کی ممتاز تحقیقی جامعات (Leading Research Universities) میں رائج بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ماڈلز کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا۔

اس نظام کے تحت پروفیسر کے عہدے پر تعینات ہونیوالے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 4500 امریکی ڈالرمقرر کی گئی، ساتھ ہی انہیں 75 فیصد ٹیکس استثنابھی دیا گیا جسکی وجہ سے انکی مجموعی مالی مراعات اُس وقت حکومت کے وفاقی وزراء کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا زیادہ تھیں۔ تاہم ان غیر معمولی مراعات کا مکمل انحصار کارکردگی پر تھا۔ اسسٹنٹ پروفیسر (Assistant Professor) سے ایسوسی ایٹ پروفیسر (Associate Professor) اور پھر پروفیسر (Professor) کے عہدوں تک ترقی کے ہر مرحلے پر امیدواروں کو مجموعی طور پر چھ بین الاقوامی جائزوں(Six International Evaluations) سے گزرنا پڑتا تھا۔

اس انقلابی نظام نے ملک بھر کے ہزاروں ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کو سائنس ، انجینئرنگ اور سماجی علوم میں تدریسی و تحقیقی ملازمت اختیار کرنے کی ترغیب دی، جسکے نتیجے میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی منظرنامے میں ایک بنیادی اور دیرپا تبدیلی رونما ہوئی۔ (جاری ہے)

تازہ ترین