• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کا حافظہ عجیب ہوتا ہے۔ وہ واقعات کو صرف محفوظ نہیں رکھتا، ان کی بازگشت بھی آنے والی نسلوں کے کانوں میں انڈیلتا رہتا ہے۔ کبھی دجلہ و فرات کے کنارے سلطنتیں اپنی قوت کے زعم میں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھیں، کبھی رومی عقاب فارس کے افق پر منڈلا رہا تھااورکبھی اسی سرزمین پر ایسے قافلے گزرے جنہوں نے انسان کو بتایا کہ طاقت کا دوام شمشیر میں نہیں، کردار میں ہے۔

انسان نے تاریخ سے واقعات تو یاد رکھےلیکن اس کے اسباق فراموش کر دیے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین سے بارود کی بو اٹھتی ہے تو محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ نے ایک بار پھر اپنے پرانے زخم کھول دیے ہوں۔ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی کسی ایک دن، ایک حملے یا ایک سیاسی بیان کا نتیجہ نہیں۔ یہ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط اس بداعتمادی کا تسلسل ہے جس نے دونوں ملکوں کو مسلسل تصادم کی کیفیت میں رکھا ہوا ہے۔

چند روز کی جنگ بندی نے یقیناً دنیا کو ایک لمحے کے لیے یہ امید دی تھی کہ شاید سفارت کاری نے اس مرتبہ طاقت پر غلبہ پا لیا ہے لیکن جلد ہی یہ امید دم توڑ گئی۔ جنگ بندی کی خاموشی ابھی پوری طرح زمین پر اتری بھی نہ تھی کہ الزامات، جوابی حملوں، عسکری تیاریوں اور دھمکیوں نے اسے پھر سے بارود کی نذر کر دیا۔

سوال یہ نہیں کہ جنگ بندی کیوں ٹوٹ گئی ۔سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی قائم ہوئی تھی؟ جنگ بندی صرف گولہ باری رک جانے کا نام نہیں، بلکہ اس اعتماد کا نام ہے جو دشمنوں کو بھی ایک دوسرے کی نیت پر یقین دلا سکے۔ جہاں اعتماد موجود نہ ہو، وہاں خاموشی بھی جنگ کی ایک شکل ہوتی ہے۔اس کشمکش کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے مقاصد کیا ہیں۔ ایران اپنے نقطۂ نظر سے خود کو ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

اس کا اصرار ہے کہ اسے پرامن جوہری ٹیکنالوجی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اس کی دفاعی صلاحیت اس کی بقا کی ضمانت ہے، اور خطے میں اس کے سیاسی و تزویراتی تعلقات اس کی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔ تہران یہ بھی چاہتا ہے کہ اس پر عائد معاشی پابندیاں ختم ہوں تاکہ اس کی معیشت دوبارہ سانس لے سکے۔ اس کے عوام عالمی تنہائی اور اقتصادی دباؤ سے نکل سکیں، اور اسے بین الاقوامی نظام میں وہ مقام ملے جس کا وہ خود کو مستحق سمجھتا ہے۔دوسری طرف امریکہ کی ترجیحات مختلف ہیں۔

واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو اس حد تک محدود دیکھنا چاہتا ہے کہ مستقبل میں ایٹمی ہتھیار کی تیاری کا امکان نہ رہے۔ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثرورسوخ اور اسرائیل و خلیجی اتحادیوں کے لیے ممکنہ خطرات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا ایسا توازن ضروری ہے جو عالمی توانائی کی رسد کو متاثر نہ ہونے دے۔

یہیں سے اصل تصادم جنم لیتا ہے۔ ایران جن چیزوں کو اپنی سلامتی کی ضمانت سمجھتا ہے، امریکہ انہی کو خطے کے عدم استحکام کی وجہ قرار دیتا ہے۔ اور امریکہ جن مطالبات کو عالمی امن کے لیے ضروری سمجھتا ہے ایران انہیں اپنی خودمختاری میں مداخلت تصور کرتا ہے۔ اس جنگ بندی کے ناکام ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان صرف براہِ راست تعلقات ہی کشیدہ نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس تنازع کا حصہ بن چکا ہے۔ غزہ میں جاری خونریزی، لبنان کی جنوبی سرحد، شام کا بحران، عراق میں سرگرم مسلح دھڑے، یمن کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی حساسیت، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی معمولی واقعے کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایک مقام پر فائر ہونے والا میزائل بعض اوقات پورے خطے کی سیاست کو بدل دیتا ہے۔جدید جنگوں کی نوعیت بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ اب جنگ صرف ٹینکوں اور جنگی جہازوں سے نہیں لڑی جاتی۔

معاشی پابندیاں، سائبر حملے، خفیہ کارروائیاں، ڈرون ٹیکنالوجی، اطلاعاتی جنگ اور سفارتی دباؤ بھی جنگ کے مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ اس لیے اگر توپیں خاموش بھی ہو جائیں تو تنازع ختم نہیں ہوتا۔وہ صرف ایک نئی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تہذیب کی اصل شکست میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی۔ اس لمحے ہوتی ہے جب مکالمہ اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے اور طاقت دلیل کی جگہ لے لیتی ہے۔

بہرحال یہ سامنےکی حقیقت ہےکہ آج دنیا جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں ایران اور امریکہ کی یہ کشمکش صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں رہی۔پوری عالمی سیاست، عالمی معیشت اور انسانی مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔ اگر عقل نے جذبات پر اور انصاف نے طاقت پر غلبہ نہ پایا تو یہ جنگ کسی ایک سرحد تک محدود ہرگزنہیں رہے گی۔ اس کی تپش ان ممالک تک بھی پہنچے گی جو اس جنگ میں براہ راست تو شریک نہیں لیکن اس کے معاشی، سیاسی اور انسانی نتائج بھگتنے پر مجبور ہوں گے۔

تازہ ترین