1909ءمیں برطانیہ سے ایک ٹیم بلتستان کی طرف روانہ ہوئی ۔ اس مہم کا مطمح نظرK2 پہاڑ کو سر کرنا تھا اور اسکے سربراہ تھے پرنس لوئچی امادیو جو ڈیوک آف آبروزی کے نام سے مشہور ہیں۔ انکے ساتھ معروف طبیب ، کوہ نورد اور سائنس دان فلیپو ڈی فلیپی بھی تھے۔ ڈیوک کا تعلق اٹلی کے شاہی خاندان سے تھا ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور ویکیپیڈیا کے مطابق "ڈیوک دراصل یورپ میں اشرافیہ کا ایک لقب ہے، جو عموماً شہزادے یا بادشاہ کے بعد سب سے اعلیٰ درجہ رکھتا ہے"۔1954 میں اٹلی کی ایک کوہ پیما ٹیم نے پہلی بار K2 سر کیا تھا۔ 2004 میں اس فتح کی گولڈن جوبلی منائی گئی جس میں 1954کی مہم کے واحد زندہ فاتح کوہ پیما لینو لیسیڈلی سکردو آئے اور آگے کے ٹو بیس کیمپ تک گئے ۔ بعد ازاں اٹلی کی فنڈنگ سے IUCN اورAKCSP سینکھور شگر میں کمیونٹی اشتراک سے روایتی طرز تعمیر کا ایک سکول تعمیر کیاجس کانام ڈیوک آف آبروزی کی نسبت سے رکھا گیا۔اب آئیں فلیپو ڈی فلیپی کی طرف ،اٹلی کےہی یہ صاحب طبیب اور سائنس دان تھے مگرشوق ِ کوہ نوردی کا تھا۔ 1909 کی مہم میں یہ بطور طبیب اور سائنسدان بلتستان آئے اور قراقرم کی بلندیوں تک ڈیوک کے ہم قدم رہے۔
فلیپی 1914 میں دوسری بار بلتستان آئے اور ان دونوں مہمات کی تفصیلات دو شاندار کتابوں کی شکل میں شائع ہوئیںجوکوہ پیمائی کی دنیا میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہیں۔ان دونوں مہمات کی منظر کشی کا کام مشہور زمانہ فوٹوگرافر ویٹورو سیلا نے کیا تھا اور انکی شاندار بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کی آج بھی دھوم ہے۔ اب یہ سوال کہ فیصل آباد کے محمد عبدہ کا ڈیوک آف آبروزی سے کیا تعلق بنتا ہے اور فیپلو ڈی فلیپی کے رشحات قلم سے ان کا کیا واسطہ ہے؟۔ اس کیلئےمحمد عبدہ کی بظاہر سادہ سی شخصیت میں چھپی پرتوں کو جب ٹٹولا جائے تو ایک حیرت انگیز شخص سامنے آتا ہے۔ ان میں جہاں ایک مہم جو کوہ نورد کا رنگ نمایاں ہے وہیں دوسری جانب وہ ایک صاحب قرطاس و قلم ہیں۔ محمد عبدہ کا تعلق تو فیصل آباد سے ہے مگر اب ان کا ٹھکانہ جنوبی کوریا ہے ۔ ان کا دل وہاں کسی کی زلف گرہ گیرکا اسیر ہوا اور وہ وہیں کے ہوگئے۔البتہ قراقرم اور ہمالیہ کی ہر وادی اور بلند پہاڑی دروں میں آبلہ پائی کر چکے ہیں ۔ اس جنوں خیزی کانتیجہ کئی سفر ناموں کی شکل میں منصہ شہود پر ہے۔ علاؤہ ازیں کوہ پیمائی سے متعلق قدیم تاریخ ، سفر نامے اور مضامین کا ترجمہ کر کے انہیں اہل شوق تک پہنچانا ان کا جنون ہے ۔ہم اہل گلگت بلتستان انکے خصوصی شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس خطے سے متعلق مشتشرقین اور مشہور کوہ پیماؤں کی نہایت اہم کتابوں کا اردو ترجمہ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں ایرک شپٹن کی کتاب Blank on the Map کا ترجمہ "خلا کے اس پار" کے علاؤہ Among the Karakorum Glaciers کا "قراقرم کے گلیشیئرز میں" اور "قراقرم کی دریافت" جیسے بلند پایہ شہہ پارے شامل ہیں۔محمد عبدہ کی تازہ ترین ترجمہ کی جانیوالی کتاب Karakorum and Western Himalaya 1909 جو فلیپو ڈی فلیپی کی ہے، تحقیقاتی سفر نامہ کشمیر ، دراس، لداخ ، وادی سندھ، اسکردو سے لیکر K2 اور Broad Peak تک کی بلندیوں تک جانے کی مہم جوئی کا قصہ ہے۔
1909 میں اس مہم کی سربراہی ڈیوک آف آبروزی نے کی تھی۔ یہ کوہ پیما ٹیم سری نگر سے زوجی لا کے ذریعے دراس داخل ہوئی اور پھر کارگل سے ہوتے ہوئے کھرمنگ کے راستے سکردو پہنچی ۔اس قافلےنے سکردو چھومک سے دریائے سندھ کو کشتیوں کے ذریعے پار کیا اور پھر داسو شگر تک گھوڑوں میں سفر کیا۔ داسو سے آگے برالدو کی برفانی چوٹیوں تک ان کا پیدل سفر تھا۔ طولتی کھرمنگ میں ان کا استقبال راجہ کھرمنگ نے کیا، گول تھورگو میں راجہ سکردو جبکہ لمسہ شگر میں راجہ شگر چشم براہ رہے۔ ان تینوں جگہوں کھرمنگ ، سکردو اور شگر میں ڈیوک آف آبروزی کے اعزاز میں پولو مقابلے بھی منعقد کئے گئے جن کی کچھ اہم تصاویر بھی کتاب میں موجود ہیں۔ڈیوک آف آبروزی کا منتخب کردہ راستہ آج بھی آبروزی ریج کے نام سے مشہور ہے اور اکثر کوہ پیما اسی راستے سے K2 سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔محمد عبدہ چونکہ خود پروفیشنل ٹریکر ہیں اور کئی بار قراقرم کی مختلف بلندیوں تک جاچکے ہیں۔اس پر مستزاد وہ رائٹر بھی ہیں لہٰذا ان کا ذاتی سفرنامہ ہو یا کسی قدیم مشہور سفرنامے کا ترجمہ وہ سفر کی باریکیوں سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں بیان کرنے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں۔ خود نوشتہ سفر نامے ہوں یا کوئی ترجمہ محمد عبدہ لفظوں کے کھیل کے قائل نہیں بلکہ سادگی میں پرکاری کا ہنر جانتے ہیں۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ مقامی جگہوں کے ناموں کے اصل ہجوں کیلئے بڑی احتیاط برتتے ہیں اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہیں۔ اگرچہ اس نئے ترجمے میں کچھ جگہوں کا املا پھر بھی تشنہ طلب رہ گیا ہے۔ایک اور اندرونی خبر یہ ہے کہ محمد عبدہ نے 1835 میں بلتستان اور استور پہنچنے والے پہلی مغربی سیاح G. T. Vigne کی کتاب Travels in Kashmir, Ladakh and Iskardo کا بھی اردو ترجمہ کر رکھا ہے اور صرف اسی پر اکتفا نہیں بلکہ پندرہ دیگر اہم کتابوں کے تراجم بھی مکمل ہیں اور اشاعت کیلئے ارباب بست و کشاد کی توجہ کے منتظر ہے۔گلگت بلتستان کی دو اہم علمی درسگاہوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف بلتستان کے ساتھ ساتھ محکمہ ٹوارزم اور دیگر نجی اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس شخصیت کی پذیرائی کی جائے اور ان کی اہم ترجمہ شدہ کتابوں کو چھاپ کر نئی نسل کو اپنی تاریخ و تہذیب سے شناسا ئی فراہم کی جائے ۔