جس طرح امریکہ نے جھوٹ اور فریب کا سہارا لے کر عراق کو نرغے میں لے کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی بالکل اسی طرح وہ ایران کو بھی پریشان کرنا چاہتا ہے۔ عراق سے فارغ ہو کر اب امریکہ کی جارحیت پسندی نے ایران کا رخ کیا ہے اور دنیا کو یہ سمجھانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ ایران عالم انسانیت کیلئے بڑا خطرہ ہے لیکن آئی اے ای اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹرمحمد البرادعی نے کچھ عرصہ قبل کہا تھاکہ ایران پر کوئی حملہ اس سارے علاقے کو ’’آگ کے گولے‘‘ میں تبدیل کر دے گا انہوں نے کہا تھا کہ میرے خیال میں ایران پر فوجی حملے سے بدتر کوئی اور بات نہیں ہوگی اور شاید تنظیم کا کوئی عہدے دار کام بھی نہ کر سکےـ کسی حملہ کے نتیجہ میں ایران کا موقف اور سخت ہو جائے گا اور ایسی صورت میں ایرانی بالخصوص بیرون ملک مقیم ایرانیوں کی مدد سے ایٹمی اسلحہ بنانے کا ایمرجنسی پروگرام شروع ہو جائے گا ۔مغربی ملکوں کو پہلے ہی خدشہ ہے کہ ایران کا نیو کلیائی پروگرام ایٹم بم بنانے کا بہانہ ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسےنیو کلیائی ٹیکنالوجی بجلی پیدا کرنے کے لیے چاہیے۔ صدر بش نے جہاں بہت سی سوغاتیں اپنے جانشین صدر اوبامہ کے لیے چھوڑی تھیں وہاں ایران کے ناکام ایجنڈے کو بھی شامل کر لیا جائے تو ٹرمپ کی پریشانیوں کی مکمل تصاویر سامنے آ جاتی ہیں۔ بائیڈن نے ایران کے خلاف جنگ کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سفارتی ذرائع سے معاملہ حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم امریکہ اسرائیل کو تباہ کرنے کی ایرانی دھمکیوں کو نہ تو نظر انداز کر سکتا ہے اور نہ ہی آنکھیں بند کر سکتا ہے تو اس کے لیے ایران کو لچکدار رویہ اور ایٹمی پروگرام کو ترک کرنا ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایرانی قیادت نے ایٹمی پروگرام بند کر دیا تو امریکہ بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کا حل تلاش کرے گا ورنہ مستقبل میں ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
حکومت امریکہ جہاں اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے وہاں امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی رپورٹ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ تہران نے 2003 میں نیوکلیائی ہتھیار سازی کا پروگرام بند کر دیا تھا تاہم امریکی "ہاکس" کا کہنا ہے کہ نیو کلیائی ہتھیاروں کے بغیر بھی ایران خطرہ ہے اسی مصرعے میں طرح لگاتے ہوئے سابق صدر بش نے اعلان کیا تھا کہ "ایران خطرہ تھا، ایران خطرہ ہے، ایران خطرہ رہے گا" بش کی ایران کے بارے میں زہر فشانی دیکھتے ہوئے موجودہ صدر ٹرمپ بھی پیچھے رہنے والے نہیں ہیں انہوں نے یروشلم پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ہمارے پاس ایران سے متعلق متفکر رہنے کے لیے کئی اور بھی وجوہات ہیں امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی جانب سے نیشنل انٹیلی جنس سٹیٹمنٹ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران 2020ءتا 2026ء تک ہی اتنا یورینیم افزودہ کر سکے گا جسکی مدد سے ایٹم بم بنایا جا سکے۔ بائیڈن انتظامیہ کے ذریعے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق "ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ 2003ءمیں تہران نے اپنا فوجی نیوکلیئر پروگرام بند کر دیا تھا بہرحال رپورٹ میں بائیڈن کی آنے والی حکومت کیلئے یہ مژدہ بھی سنایا گیا تھا کہ "ہم کسی حد تک اعتماد کے ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تہران نے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے متبادل کو موجود رکھا ہے "ـ میرے حساب سے ایرانی صدر بھی صدام حسین کی طرح واشنگٹن بالخصوص وائٹ ہاؤس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتے ہیں اور وہ اپنی حکومت کو واشنگٹن کے رحم و کرم پر نہیں چلانا چاہتے اور یہ کہ وہ امریکی احکامات کا غلام نہیں بننا چاہتے اس لیے وہ امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔
ایرانی انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ صیہونی حکومت رو بہ زوال ہے جو ایک خشک درخت کی مانند ہے جس میں طوفان کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں مگر ادھر گزشتہ دنوں نیویارک ٹائمز نے امریکی عہدے داروں کے حوالے سے خبر دی تھی کہ اسرائیل نے ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کیلئےبڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کا اہتمام کیا ہے مغربی ملکوں کو شبہ ہے کہ ایران اپنے پروگرام کے ذریعے نیوکلیئر اسلحہ تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایران نے امریکہ کی یہ وارننگ مسترد کر دی ہے کہ عالمی طاقتیں اس امر کا طویل انتظار نہیں کریں گی کہ ایران یہ ثابت کرے کہ وہ نیوکلیئر اسلحہ نہیں بنا رہا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ چھ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہم اپنے "نیوکلیئر حقوق" نہیں سونپ سکتے۔ اس بیان کو دنیا کے سامنے یوں پیش کیا گیا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کر رہا ہے تاکہ یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی میں مزید مہارت حاصل کر سکے ایران نے بارہا کہا ہے کہ اس کی جوہری پروگرام کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے جبکہ مغربی تجزیہ کاروں کا خیال یا سوال یہ ہے کہ جب ایران کے پاس وافر مقدار میں تیل موجود ہے تو پھر اسے بجلی پیدا کرنے کے لیے نیوکلیئر پاور پلانٹ ہی کیوں چاہیے ۔بہرحال میرے حساب سے بین الاقوامی طاقتیں غیر معینہ مدت تک ایران کے تعاون کا انتظار نہیں کر سکتیں ابھی ابھی اوپر میں نے صدام حسین کا ذکر کیا ہے ایک بات جو میں بھول رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات صدام حسین کے بیانات کی یاد دلاتے ہیں اور ایران کے صدر کا انجام بھی صدام حسین جیسا ہی ہوگا میں نے کہیں پڑھا ہے کہ بہت سے فاتح زندگی بھر اپنی فتوحات کا سوگ مناتے رہتے ہیں کہ ان کے مسائل ان کی ناکامی کی بجائے کامیابی سے شروع ہوتے ہیں ۔زندگی میں بڑا ضروری ہے یہ سمجھنا کہ کیا ضروری ہے۔