سندھ طاس کا ذکر چھڑے تو ہمارے ہاں لہجے بھیگ جاتے ہیں۔ اسے سمجھنے کو نہ علمِ نفسیات درکار نہ علمِ معیشت؛ جغرافیے کی سُدھ بُدھ کافی ہے۔ پاکستان اسی عرض بلد پر ہے جس پر صحارا اور عرب کے ریگزار پھیلے ہیں ۔ مون سون کی گھٹا ہم تک پہنچتے پہنچتے تھک جاتی ہے۔ عالمی بینک کی گواہی ہے کہ ہم دنیا کے خشک ترین ملکوں میں سےہیں: سال بھر کی بارش کوئی 240ملی میٹر، جب کہ گندم مانگے ساڑھے چار سو سے اوپر اور چاول ہزار سے سوا۔ آسمان کی دین اور فصل کی طلب کے بیچ کا سارا خسارہ دریا بھرتا ہے۔ قدرت نے مقدمہ خود لکھ رکھا ہے: طاس سے باہر کا پینتیس فیصد ملک خاران، مکرا ن آج بھی صحرا ہے۔ سندھ طاس نہ ہوتا تو ہم بھی وہی ہوتے۔ سو مچھلی کو ساحل سے جو خوف ہے وہ وہم نہیں، علمِ حیات ہے۔
مگر خوف کا جائز ہونا اور خطرے کا بڑا ہونا دو الگ باتیں ہیں، پہلے ہائیڈرو ڈائنامکس Hydrodynamics سمجھئے ۔ پانی کا دین ایک ہے اور قبلہ ایک، زمین کا نشیب: جدھر زمین جھکے، پانی سر جھکائے ادھر چل پڑتا ہے،کوئی فرمان ، کو ئی معاہدہ اس کا قبلہ نہیں بدل سکتا ۔ 1947 کی لکیر نے طاس یوں کاٹا کہ راوی، بیاس، ستلج ہندوستان کے کام آ سکتے تھے، اور سندھ، جہلم، چناب کل بہاؤ کا اسی فیصد، کوئی 135 ملین ایکڑ فٹ ،نشیب سے اتر کر پہلے ہی ہمارے کھیتوں کے نام لکھے جا چکے تھے۔ عالمی بینک نے نو برس کی ثالثی میں بس وہ تقسیم صاف کاغذ پر اتار دی جو جغرافیہ کب کا لکھ چکا تھا۔ اسی لیے یہ معاہدہ 1965 اور 1971 سے، سیاچن اور کارگل سے، سب سے گزر کر سلامت رہا، حسنِ ظن سے نہیں کہ اعتبار کبھی تھا ہی نہیںبلکہ اس لیے کہ پانی الٹا نہیں بہتا۔
جغرافیہ یہاں دیوتا ہے جو نہ ٹویٹ پڑھے، نہ جلسہ سنے۔ گواہی خود ہندوستان کا طرزِ عمل ہے: اجازت 3.6 ملین ایکڑ فٹ ذخیرے کی، تعمیر چھ عشروں میں بمشکل آدھ ملین۔ بھارت کا مہندس بھی جانتا ہے کہ ڈھلان سے مقدمہ نہیں لڑا جا سکتا۔
اپریل 2025 سے دلی نے معاہدہ اپنے تئیں’معطل‘ کر رکھا ہے۔ تو کیا پانی رک سکتا ہے؟ دریا در دریا دیکھیے۔ سندھ لداخ میں تین ہزار میٹر پر سرد صحرا سے گزرتا ہے ، نہ کھیت، نہ آبادی، نہ کوئی نشیب جو اسے ہندوستانی میدانوں تک اتارےاور بڑا حجم تو گلگت بلتستان میں جمع ہوتا ہے، ہندوستانی عمل داری سے نیچے۔ جہلم پیر پنجال کے حصار میں ہے اس کا پانی ہندوستان لے جانا پانی کو پہاڑ چڑھانا ہے، اور پانی کسی کی سلطنت میں اوپر نہیں چڑھتا۔ لے دے کر چناب بچتا ہے، سو سارے منصوبے اسی پر ہیںچندرا سے بیاس تک ایک سرنگ گنجائش ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم اور اکھنور کی مجوزہ نہر، ہزار کیوسک، جو بھارتی اندازوں میں ’ایک دو عشرے‘ سے کم کا کام نہیں۔ حساب یہ بنا: دس پندرہ برس میں دو ملین سے کم اورنسل بھر کی تعمیر اور بے حساب خزانے بھی لگائیں توبمشکل پانچ یا چھ ملین ۔ ایک سو پینتیس میں سے۔
موسم کا داؤ الگ ہے۔ ہمارا مسئلہ ربیع کا ہے، جب دریا اترے ہوتے ہیں اور گندم کھیت میں۔ مگر اترے دریا سے موڑنے والے کے ہاتھ بھی کم ہی آتا ہے: سرنگ حجم نہیں، بہاؤ اٹھاتی ہے۔ اور ستم ظریفی یہ کہ منظور شدہ سرنگ کے سر چشمے جاڑوں میں برف تلے سوتے ہیں ، گویا جس موسم میں دشمن کا وار چل سکتا تھا، اسی میں ہتھیار جم جاتا ہے۔ اکھنور والی مجوزہ نہر سارا ربیع چلے تو کوئی 0.36 ملین ایکڑ فٹ: پونے دو لاکھ ایکڑ گندم، قومی رقبے کا پونا فیصد، پانچ چھ کروڑ ڈالر۔ اور ساون میں؟ مرالہ سے نوے ہزار کیوسک گزرتے ہوں تو ہزار کے اخراج کی دریا کو خبر تک نہیں ہوتی2025 جیسے سیلاب میں تو یہ خیر کی صورت ہوتی۔ دریا کا اپنا مزاج ہے، ایک ربیع فراخ، دوسری تنگ۔ تین چار ملین ایکڑ فٹ کا فرق تو اس کی اپنی ادا ہے۔ حریف کی اکھنور والی شرارت اس ادا کا دسواں حصہ۔
پھر دلی کےہاتھ میں ہےکیا؟ حجم نہیں وقت، گاد اور خبر۔ مئی 2025 میں بگلیہار کے دروازے گرا کر مرالہ کا بہاؤ چند دن نوے فیصد گھٹا دیاگیا، بھرا تالاب بہرحال کھلا، مگر بوائی کے دنوں میں دو چار دن کا جھٹکا بھی کاری ہے۔ سلال پر گاد نکاسی کی سرنگ منظور ہوئی ہے: فلشنگ میں بند کا پیٹ کھلتا ہے، برسوں کی گاد یکبارگی اترتی ہے، مرالہ کی نہروں میں ریت اس کا نتیجہ ۔ سب سے سستا ہتھیار خبر کی بندش: دریائی اعداد و شمار کی ترسیل معطل، سیلاب کی پیشگی اطلاع کا در بند اور 2025 کا خریف سیلابوں ہی کا تھا۔ چناب پر رن آف ریور منصوبے تیز ہیں ، پاکل دُل، کیرو، کوار، رتلےہر ایک معاہدے کی حد کے آس پاس ۔ یہ ہے اصل بساط: چھوٹی چھوٹی کمینگیاںکہ اس سے زیادہ کی اوقات نہیں۔
اب لاگت کا کھاتا۔ چندرا۔بیاس سرنگ ستائیس کروڑ ڈالر میں ملین ایکڑ فٹ سے کم اٹھاتی ہے،سستی اس لیے کہ وہاں دریا ابھی بچہ ہے۔ پیر پنجال کی زلزلہ خیز چٹانوں میں پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی موڑنے کا خرچ اٹھارہ سے پینتیس ارب ڈالر ؛ مغربی بہاؤ کا چار فیصد۔ یاد رہےپہاڑ سے جھگڑا ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے۔
مگر دلی کو نعرہ سستا پڑتا ہے اور عمل مہنگا: نعرے سے ووٹ، عمل سے عالمی عدالتیں، برہم پتر پر چین کیلئے نظیراور جنگ کا خطرہ۔ ہیگ کی ثالثی تین بار کہہ چکی کہ یک طرفہ معطلی کی گنجائش نہیں۔دلی ہر فیصلے کو’کالعدم‘ کہتا ہے، مگر ہر انکار کھاتے میں لکھا جا رہا ہے۔ ادھر اسلام آباد اپریل 2025 ءہی میں کہہ چکا کہ پانی روکنا اعلانِ جنگ ہے۔ یہیں توازن کی کنجی ہے جو ڈھانچہ بیس برس اور اربوں ڈالر میں بنے، وہ چند منٹ کے چند میزائلوں کا مہمان ہے۔ بند بیراج چھپائے نہیں چھپتے۔ سیٹلائٹ انہیں عشرہ بھر بنتے دیکھتا ہے، اور خالی ڈھانچے پر ضرب بھرے ہوئے سے سستی پڑتی ہے ،سو دھمکی تعمیر کے مکمل ہونے کی منتظر نہیں بنیاد ہی چنگاری ہے۔ نتیجہ سامنے ہے: شور بہت، پانی اپنی جگہ موجود ۔ اقبال کی موج نے ساحل سے کہا تھا ’’ہستم اگر میروم، گر نروم نیستم: چلتی ہوں تومیں ہوں۔ دریا رکنے کے لیے بنا ہی نہیں۔
تو کیا فکر بے جا تھی؟ نہیں صاحبو صحرا کا اپنے دریا کیساتھ چھیڑ چھاڑپر اضطراب میں آنا عین دانش ہے۔ اسی اضطراب سے قومیں ذخیرے بناتی، نہریں سنوارتی اورضیاع گھٹاتی ہیںاور یہی قرض ہے جو بھارت پر نہیں، ہم پر واجب ہے۔ مگر خوف کو خبر بننا چاہیے، ہذیان نہیں۔ فقیر کا حاصلِ مطالعہ اتنا ہے،سندھ طاس معاہدے پر دستخط نہرو کے ہیں نہ ایوب کے،ہمالہ کے نشیب کے ہیں۔ نشیب دیوتا ہے، اور دیوتا گیدڑ بھبکیوںسے نہیں ڈرتے ۔