• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’کیا آج مہنگائی کے دور میں صرف ایک ہزار روپے ماہانہ راشن الاؤنس پر کسی کا گھر چل سکتا ہے؟ یہاں جو ہیلی کاپٹر کھڑے ہیں وہ میرے پیسوں سے خریدے گئے ہیں، میرے جوانوں کا خون بہتا رہا،دو جوان اس لئے شہید ہوئے کہ کوئی بروقت پہنچ نہ سکاآپ کی حکومت مجھے ایک ہزار روپے راشن الاؤنس دیتی ہے، ایک ہزار روپے کی کیا ایک مرغی خریدی جا سکتی ہے؟میں تھانیدار ہوں 94ہزار روپے مجھے ملتے ہیں، میرے پٹرول کا خرچہ، میری گاڑی کا خرچہ کہاں سے پورا ہوگا؟ میں گاڑی کی مد میں 8 لاکھ روپے کا قرض دارہوںتم میرے بڑے ہو، اللّٰہ تم سے میرا پوچھے گا،تمہارے لئے میں نے بنی گالہ میں مار کھائی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کی وجہ سے میں جیل گیا، زمان پارک میں مجھے مارا گیا،اسلام آباد پولیس نے مارا، جیل میں رگڑا گیا، زیادہ سینہ نہیں تان سکتے تو اتنا سینا ہی سہلا دو جتنا ہم نے کیا ہے۔“ دیر پولیس کے ایک تھانیدار نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے اپنا اور خیبرپختونخوا پولیس کا زخمی دل کھول کر رکھ دیا ہے اور وزیراعلیٰ صاحب خاموشی سے اس کی درد بھری باتیں سن کر واپس چلے گئے۔

خیبرپختونخوا کی سرزمین کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سب سے بڑا میدان رہی ہے۔ جب ملک کے دوسرے حصوں میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہوتی ہے، تب خیبرپختونخوا کے کسی نہ کسی ضلع میں پولیس کا کوئی جوان دہشت گردوں کے مقابلے میں اپنی جان قربان کر رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی تھانے پر حملہ ہوتا ہے، کبھی کسی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو کبھی گشت پر مامور اہلکاروں پر گھات لگا کر فائرنگ کر دی جاتی ہے۔ اس مسلسل جنگ نے نہ صرف پولیس کے ہزاروں اہلکار ہم سے چھین لیے بلکہ سینکڑوں خاندانوں کو عمر بھر کا غم دے دیا۔بدقسمتی سے جب کوئی پولیس اہلکار شہید ہوتا ہے تو چند دن تک اس کی تصاویر میڈیا کی زینت بنتی ہیں، سرکاری بیانات جاری ہوتے ہیں، سلامی دی جاتی ہے، پھول چڑھائے جاتے ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ خاموش ہو جاتے ہیں۔ مگر اس شہید کی بیوہ ہر رات اپنے بچوں کو باپ کی کمی کا احساس دلاتی ہے، بوڑھی ماں دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے اور معصوم بچے اپنے والد کی وردی کو سینے سے لگا کر سوتے ہیں۔ یہ وہ درد ہے جو صرف وہی خاندان سمجھ سکتا ہے جس نے وطن کی خاطر اپنا سہارا کھو دیا ہو۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس صرف دہشت گردوں سے نہیں لڑتی بلکہ دیگر صوبوں کی طرح انہیں ہنگامی حالات میں بھی مسلسل ڈیوٹی سرانجام دینی پڑتی ہے۔ اکثر اہلکار چوبیس سے چھتیس گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹی کرتے ہیں، نہ انہیں مناسب آرام ملتا ہے اور نہ ہی انکی فلاح و بہبود پر وہ توجہ دی جاتی ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔

ایک اور تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں صرف پولیس اہلکار ہی نشانہ نہیں بنتے بلکہ ان کے خاندان بھی مسلسل خوف، بے یقینی اور ذہنی اذیت کی زندگی گزارتے ہیں۔ جب کسی پولیس اہلکار کو کسی حساس علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے تو اس کے اہل خانہ ہر فون کال پر چونک جاتے ہیں۔ رات گئے اگر دروازے پر دستک ہو تو دل دہل جاتا ہے کہ کہیں کوئی بُری خبر تو نہیں آ گئی۔

دیر میں تعینات پولیس اہلکار کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سامنے کی گئی گفتگو دراصل ایک فرد کی فریاد نہیں بلکہ پوری فورس کے احساسات کی ترجمان تھی۔ جب اس نے کہا کہ ’’یہ ہیلی کاپٹر بھی میرے ٹیکس کے پیسوں سے خریدے گئے ہیں، مگر میرے دو جوان صرف اس لیے شہید ہو گئے کہ بروقت مدد نہ پہنچ سکی‘‘، تو اس جملے میں صرف غصہ نہیں بلکہ ایک ایسے افسر کی بے بسی تھی جو اپنے ساتھیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھ چکا تھا۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنکی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم محاذ پر موجود پولیس اہلکار آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں؟ اگر ایک تھانیدار کو اپنی ذاتی گاڑی پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں، پٹرول بھی اپنی جیب سے ڈلوانا پڑے، علاج بھی خود کروانا پڑے اور گھر کا راشن بھی ایک ہزار روپے کے الاؤ نس سے لانے کا کہا جائے تو یہ کسی بھی فلاحی ریاست کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہو، پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملہ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی و جنوبی وزیرستان یا کرم کے واقعات، ہر جگہ خیبرپختونخوا پولیس نے فرنٹ لائن پر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا اور آخری گولی تک لڑتے ہوئے جانیں قربان کی ہیں۔اسکے باوجود جب کسی شہید کے بچے کی فیس ادا نہ ہو سکے، کسی زخمی اہلکار کے علاج میں رکاوٹ آئے یا کوئی ریٹائرڈ پولیس اہلکار بیماری کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہو، تو یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی اس کیلئے مضبوط حوصلہ، ریاستی اعتماد اور عوامی حمایت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر فرنٹ لائن پر لڑنے والے اہلکار یہ محسوس کریں کہ ریاست انکے ساتھ کھڑی ہے، انکے بچوں کی تعلیم، انکے علاج اور ان کے مستقبل کی ذمہ داری لے رہی ہے تو ان کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہیں، یہ بھی ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، ڈرون نگرانی، بکتر بند گاڑیاں، جدید اسلحہ اور مواصلاتی نظام فراہم کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مو ثر ہو سکیں۔ صرف اہلکاروں سے قربانیوں کی توقع کرنا کافی نہیں، انہیں وہ تمام وسائل بھی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جن سے وہ اپنی جانوں کو محفوظ رکھتے ہوئے بہتر انداز میں فرائض انجام دے سکیں۔پولیس اصلاحات کا مطلب صرف قوانین تبدیل کرنا نہیں بلکہ پولیس اہلکار کی زندگی کو آسان بنانا بھی ہے۔اگر آج ہم نے خیبرپختونخوا پولیس کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ قومی سلامتی بھی متاثر ہوگی۔ وطن کے محافظوں کاحوصلہ بلند رکھنا دراصل پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔میرا مقصد کسی حکومت یا جماعت پر تنقید نہیں بلکہ اس احساس کو اجاگر کرناہے کہ جو جوان ہمارے امن کیلئے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کھڑے ہیں، ان کی عزت، فلاح اور ان کے خاندانوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تازہ ترین