غالب کی عظمت کو تو اردو لٹریچر میں نہ کوئی پہنچ سکا ہے نہ کوئی گہنا سکا ہے لیکن اردو ادب اورانسانیت کی خدمت میں عصر حاضر کے شعراء میں جو مقام ساحر لدھیانوی کو ملا وہ انہی کی عظمت ہے۔ ان کا لکھا کلام براستہ ممبئی آج دنیا کے کونے کونے میں گونج رہا ہے۔ ساحر کا جنم لدھیانہ کے ایک ظالم زمیندار فضل محمد کے گھر ہوا اور اس نے ان کا نام اپنے ایک دشمن عبدالحئی کے نام پر رکھا جسے بڑے ہو کر ساحر نے اس طرح ٹھکرا دیا جس طرح جبر کے سامنے ڈٹ جانیوالے اس ذہین بچے نے اپنے باپ سے زندگی بھر کیلئے ناتہ توڑ لیا۔ ظلم کی یہ ایک درد ناک طویل داستان ہے جس میں پل کر یہ تیکھے نین نقوش والا نونہال جوان ہوا۔ اس کی کل کائنات اس کی وہ دکھیاری ماں سردار بیگم تھی ،جسے اسکے شباب میں ہی مارپیٹ کرنیوالے خاوند نے طلاق دے دی تھی۔ پھر اس مامتا کے واحد سہارے کو اس سے چھین لینے کیلئے اسے عدالتوں میںگھسیٹا، پھر ایک دن یہ 13سالہ بچہ اپنی ماں کا واحد سہارا بن کر عدالت میں بولا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نہیں اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ زمیندار فطرت بھلا ایسی جسارت کو کیسے گوارا کر سکتی تھی جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں، غریب ماں کو نہ جانے کن کن مصائب سے گزرتے ہوئے اپنی اور اپنے نور نظر کی حفاظت کیلئے گارڈ تک رکھنے پڑے۔ اسکی تفصیلات آئندہ پر چھوڑتے ہوئے ہم خالصہ اسکول اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ کی یادیں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ کالج کی یادیں بھی تلخ ہی رہیں۔ یوں پیدائش سے جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ساحر کو جس تلخ زندگی کا سامنا کرنا پڑا وہ بالآخر اس کے عظیم شعری شاہکار ’’تلخیاں‘‘ میں ڈھل گیا۔
اس پس منظر میں ساحر نے اپنی والدہ کے ساتھ پنجاب کے بڑے شہر لاہور میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور یہیں سے ان کا متذکرہ مجموعہ کلام شائع ہوا۔ یہاں وہ ’’ادب لطیف‘‘ کے ساتھ ”پریت لڑی“،”شاہکار“اور ’’سویرا‘‘ جیسے ادبی و علمی میگزینز یا رسالوں کے ایڈیٹر رہے یہ وہ حالات تھے جب ہندوستان کا بھارت اور پاکستان کے ناموں سے بٹوارہ ہو گیا۔ حالات ایسے دردناک تھے کہ گویا آگ اور خون کی آندھی میں اس زرخیز خطے کی باسی نسل انسانی بے گھر ہی نہیں ہوئی اجڑ کر رہ گئی۔
نوجوان اور پرعزم ساحر زندگی کے جس کرب سے گزر کر آئے تھے ۔ ابھی تک وہ اس زمیندار کلچر کے جبر کی تلخیوں سےباہر نہیں نکل پائے تھے کہ یہاں نظریاتی جبر کی اندھیر نگری نے ان کے فکر و نظر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ان کے اس کرب کو اس دور کے ’’سویرا‘‘ کی تلخ تحریروں میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا قلم ظلم و جبرپر لفظوں کے گولے برسانے لگا ۔ یوں ان کے ایک آرٹیکل پر ان کے خلاف مقدمہ بنا اور پھر اس باغی شاعر اور دانشور کی گرفتاری کے احکامات جاری ہو گئے یہ تھے وہ حالات جن میں اس عظیم قلمکار نے لاہور ہی نہیںپاکستان کو بھی ہمیشہ کیلئے چھوڑ جانے کا فیصلہ کر لیا ، پھر ایک شام وہ لاہورکو الوداع کہتے ہوئے دہلی اور پھر دہلی سے بھی آگے بڑھتے ہوئے بالآخرممبئی جا پہنچے۔ ممبئی کی جادونگری نے اپنے ساحر کو ایسی جلا بخشی کہ شاید ان کی تخلیق ہی اس کیلئے ہوئی تھی۔
دکھوں کی بھٹی سے اگر کچھ چیزیں خاک بن جاتی ہیں تو کئی کندن بن کر نکلتی ہیں۔ ساحر نےجہاں یہ کہا کہ’’ میں ہر پل کا شاعر ہوں ‘‘ وہیں کہا کہ’’میں پل دو پل کا شاعر ہوں ...پل دو پل میری کہانی ہے ...مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئے... وہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوں... کل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوں‘‘۔
اگر ساحر تلخیوں بھرا یہ سفر نہ کرتے تو دیگر سینکڑوں شعراء کی طرح وہ بھی ایک شاعر کی عمومی زندگی گزار کر چلے جاتے، مصروف زمانہ ان کی یادوں میں کیوں پریشان ہوتا، ان کی یادوں کو تازہ کرنے میں کیوں وقت اپنا برباد کرتا مگر فطرت نے ان سے جو بڑا کام لینا تھا انکی انسان نواز فکر، نظریے اور سوچ نے فلمی گیتوں میں ڈھل کر جس طرح پوری دنیا میں امر ہو جانا تھا یہ فطرت و قدرت کا خصوصی اہتمام تھا کہ ان کیلئے آگے بڑھنے اور عامۃ الناس تک اپنا محبت بھرا پیغام پہنچانے کی راہیں کھل گئیں۔ میر ؔنے کہا تھا کہ
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یادیہ باتیں ہماریاں
میرؔ صاحب کو یہ شرف نصیب ہوا یا نہیں ہوا کاتب تقدیر نے ساحر کے نام وہ سب لکھ دیا۔ شاید یہ اعزاز ساحر سے بڑھ کر یا اس سے آگےکسی شاعر کو نصیب نہیں ہوا ہے کہ اتنی رسیلی اور میٹھی مدھر آوازوں میں ان کے گیت ایسے گائے گئے کہ جنوبی ایشیا چھوڑ دنیا کا کون سا خطہ ارضی ہے جہاں اردو اور ہندی کے سمجھنے والے گلیوں بازاروں جھونپڑیوں، دیہات، شہروں بلکہ محلات تک ان گیتوں کو گنگناتے، گاتے اور سناتے نہیں تھکتے ، اور یہ معاملہ کسی ایک نسل تک محدود نہیں ، نئی نسلیں بھی ایک تسلسل کے ساتھ اسکی سدا بہار شاعری سے لطف اندوز ہی نہیں ہو رہیںبلکہ اپنی زندگیوں کیلئے اس نئی روشنی و رہنمائی کےسحر میں مبتلا ہیں۔ فلم ’’آزادی کی راہ‘‘سے ’’بازی‘‘ تک محنت اور لگن کی امر کہانی ہے جس میں تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنانے اور اپنی شعوری صلاحیتوں پر بھروسےکا عزم ہے اور پھر ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آنی تھیں سو بھرپور آئیں یوں بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا ساحر بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا۔
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا