• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے اور شاید یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، اپوزیشن تنقید کرتی ہے، الزامات لگتے ہیں، جوابی بیانات آتے ہیں اور پھر وقت آگے بڑھ جاتا ہے۔ تاہم کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقتی سیاست سے بلند رکھنا ہی قومی مفاد ہوتا ہے۔ شہداء کا احترام، ریاست کی سلامتی اور قومی یکجہتی انہی معاملات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے فوج، شہداء، صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے متعلق بیانات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کی بھی کوئی حد ہوتی ہے یا نہیں؟

جمہوریت میں حکومت پر تنقید ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ وزیراعظم کو ناکام قرار دینا، صدر مملکت کی کارکردگی پر سوال اٹھانا یا حکومتی پالیسیوں کو چیلنج کرنا کسی بھی اپوزیشن کا آئینی اور جمہوری حق ہے لیکن جب گفتگو ان لوگوں تک پہنچ جائے جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کی ہوں تو وہاں الفاظ صرف سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی جذبات کا معاملہ بن جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن اس ملک کی سیاست میں نووارد نہیں۔چار دہائیوںسے زیادہ عرصہ اقتدار،اپوزیشن،پارلیمنٹ اور ریاستی معاملات میں گزارنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ اسکے ہر لفظ کا وزن کیا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انکے حالیہ بیانات پر صرف حکومت ہی نہیں بلکہ مختلف سماجی اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ سوال یہ نہیں کہ مولانا کو تنقید کا حق ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا شہداء کے بارے میں ایسا لہجہ اختیار کرنا ایک قومی رہنما کو زیب دیتا ہے؟

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایسی جنگ لڑی ہے جسکی قیمت ہزاروں خاندانوں نے اپنے خون سے ادا کی ہے۔

فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی، انٹیلی جنس اداروں اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ یہ ملک محفوظ رہ سکے۔ ہر شہید کے پیچھے ایک ماں ہے جس کی آنکھ آج بھی اپنے بیٹے کو تلاش کرتی ہے، ایک بیوہ ہے جس نے عمر بھر کی رفاقت کھو دی اور ایسے بچے ہیں جو اپنے والد کو صرف تصویروں میں پہچانتےہیں۔ ان قربانیوں کو محض ملازمت یا تنخواہ کے تناظر میں بیان کرنا نہ صرف غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے بلکہ ان خاندانوں کے زخم بھی تازہ کرتا ہے جنہوں نے وطن کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

چند ماہ قبل بھارت کے ساتھ ہونیوالی کشیدگی نے پوری قوم کو یہ یاد دلایا کہ سرحدوں پر کھڑے سپاہی صرف ایک سرکاری ملازم نہیں ہوتے۔ جب خطرہ دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ اپنی جان کو داؤ پر لگا کر ملک کے کروڑوں شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ دنیا کی ہر ریاست اپنے شہداء کو اسی لیے احترام دیتی ہے کہ انہوں نے اپنی ملک و قوم کیلئےجان کا نذرانہ دیا۔ اگر قربانی کا معیار صرف تنخواہ ہوتا تو دنیا میں کوئی بھی قوم اپنے شہداء کو قومی ہیرو نہ مانتی۔

مولانا فضل الرحمن نے ” لشکر “کی بات بھی کی جس پر مختلف تشریحات سامنے آئیں۔ اگر اس سے مراد ایک ایسی باشعور، منظم اور قانون کی پابند کمیونٹی ہے جو دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات اور جرائم کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑی ہو تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے مہذب ممالک میں یہی ماڈل رائج ہے۔ برطانیہ نے آئی آر اے دہشت گردی کے دوران عوام کو سیکورٹی اداروں کا معاون بنایا۔ امریکہ نے نائن الیون کے بعد سٹیزن کورپس اور کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز جیسے رضاکارانہ پروگرام شروع کیے جبکہ انڈونیشیا میں علماء اور سول سوسائٹی نے انتہاپسندی کے خلاف مؤثر سماجی بیانیہ تشکیل دیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک بات مشترک تھی، عوام ریاست کے ساتھ کھڑے تھے، ریاست کے مقابل نہیں۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب الفاظ اس انداز میں ادا ہوں کہ ان سے متوازی قوت یا ریاستی اداروں کے مقابل کھڑے ہونے کا تاثر پیدا ہو۔ ایک سینئر سیاست دان اور مذہبی رہنما کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن پر یہ ذمہ داری دوسروں سے کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی ابہام کو جنم نہ دیں جو قومی وحدت کو نقصان پہنچائے۔

مولانا فضل الرحمن کا سیاسی سفر تضادات سے خالی نہیں۔ وہ مختلف ادوار میں اقتدار کا حصہ رہے، وفاقی حکومتوں کے اتحادی رہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے۔ مگر سیاسی حالات بدلنے پربسا اوقات ان کا لہجہ بھی بدل جاتا ہے۔ قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کیا قومی اداروں کے بارے میں مؤقف اصولوں سے طے ہونا چاہیے یا سیاسی مفادات سے؟ اگر اقتدار میں ہوں تو ادارے قابلِ قبول اور اگر اقتدار سے باہر ہوں تو وہی ادارے ہدفِ تنقید بن جائیں، تو اس سے اصولی سیاست کے بجائے موقع پرستی کا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔

مذہبی قیادت کا اصل کردار قوم کو جوڑنا ہے، تقسیم کرنا نہیں۔ اگر ایک مذہبی رہنما کے الفاظ ہی معاشرے میں کشیدگی پیدا کریں تو اس پر تنقید بھی جمہوری حق ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مذہبی رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قوم کے جذبات کو سمجھتے ہوئے ایسے الفاظ کا انتخاب کرے جو اتحاد پیدا کریں، نہ کہ مزید تقسیم۔ اس سارے معاملے میں حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور متعدد وفاقی وزراء نے مولانا فضل الرحمن سے اپنے الفاظ واپس لینے اور معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگر واقعی ان کے بیان کا مفہوم وہ نہیں تھا جو عوام نے سمجھا تو ایک وضاحت ان کی سیاسی بصیرت کا ثبوت ہوگی۔ بڑے رہنما وہی ہوتے ہیں جو یہ تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ اگر ان کے الفاظ سے بڑے پیمانے پر دل آزاری ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کو آج نعروں، محاذ آرائی اور اشتعال انگیز بیانات سے زیادہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ وطن پر جان قربان کرنے والے شہداء ہمیشہ قوم کے ماتھے کا جھومر رہتے ہیں۔ ان کی قربانی کو سیاسی بحث کا موضوع بنانا کسی کے حق میں نہیں۔

اختلاف ضرور کیجیے، حکومت پر تنقید بھی کیجیے، مگر وہ لکیر کبھی عبور نہ کیجیے جہاں ایک شہید کی ماں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کے بیٹے کی قربانی کی قدر کم کی جا رہی ہے۔ یہی وہ حد ہے جہاں سیاست ختم ہو جانی چاہیے اور پاکستان شروع ہونا چاہیے۔

تازہ ترین