کراچی کے علاقے قائد آباد میں گھر سے چند دن قبل ڈھائی سال کی بچی کی تشدد زدہ لاش ملنے کے معاملے پر سگی چاچی کو گرفتار کرلیا گیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیر زادہ کا کہنا ہے کہ بچی کی چاچی نے اسے قتل کیا اور کمرے میں لاش رکھی، ملزمان کو لاش ٹھکانے کا موقع نہیں مل سکا اس لیے گھر کے باہر چھوڑ دی۔
ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے بتایا کہ قائد آباد میں ڈھائی سالہ بچی کا قتل کیا گیا تھا، ابتدائی اطلاعات تھیں کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، قتل کیس کے اصل ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گھر کے مین گیٹ کے اندر سے بچی کی لاش بوری میں بند ملی، گھر کے لوگ ہی ابتدا میں شک کے دائرے میں آئے تھے، کیس میں 50 سے زائد لوگوں کو شامل تفتیش کیا گیا تھا، جن لوگوں پر شک تھا ان کے ڈی این اے نمونے لیے گئے۔
ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ بچی کے قتل میں چچی اور رشتہ دار ملوث ہیں، بچی کی چاچی نے اسے قتل کیا اور کمرے میں لاش رکھی، ملزمان کو لاش ٹھکانے کا موقع نہیں مل سکا اس لیے گھر کےباہر چھوڑ دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے، ممکن ہے کہ دیگر افراد بھی ملوث پائے جائیں، مضبوط کیس بنائیں گے تاکہ ملزموں کو سخت سزا مل سکے، خاتون کے شوہر کا اس کیس میں کوئی کردار سامنے نہیں آیا ہے، فیملی کی طرف سے تفتیش کے دوران عدم تعاون کا سامنا رہا۔