امریکا میں بھارتی نژاد ڈاکٹر ادویت دیشمکھ کو اسپتال کے عملے کے واش روم میں خفیہ کیمرہ نصب کر کے ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے جرم میں 6 ماہ قید، 3 سال پروبیشن اور 15 سال تک جنسی مجرم کے طور پر رجسٹر رہنے کی سزا سنا دی گئی۔
عدالت نے سزا کے ساتھ ذہنی صحت اور جنسی رویوں کے علاج، متعلقہ مشاورتی اجلاسوں میں شرکت اور دیگر شرائط پر عمل کا بھی حکم دیا ہے، بھارتی ڈاکٹر جون 2029ء تک سخت نگرانی میں رہے گا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم نے شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کے 1 اور خفیہ طور پر ویڈیوز بنانے کے 7 الزامات کا اعتراف کیا تھا۔
یہ معاملہ جون 2025ء میں اس وقت سامنے آیا جب امریکی ریاست اوہائیو کے ایک اسپتال کے مشترکہ واش روم میں ایک ملازم کو چھپایا گیا موبائل فون ملا، عینی شاہد کے مطابق جب فون ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ڈاکٹر نے اسے اپنا قرار دے کر واپس لے لیا۔
پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی مشترکہ تحقیقات میں موبائل فون سے فروری 2025ء سے مئی 2025ء کے دوران بنائی گئی 80 سے زائد تصاویر برآمد ہوئیں جبکہ 6 متاثرین کی شناخت ہوئی جنہوں نے ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی تھی۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد مزید ہو سکتی ہے اور ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ اس نوعیت کی ریکارڈنگ 2018ء سے جاری ہو سکتی تھی۔
واقعے کے وقت اَدویت دیشمکھ یونیورسٹی آف ٹولیڈو میں تیسرے سال کے میڈیکل ریزیڈنٹ تھے اور یورولوجی کے شعبے میں انٹرن شپ کر رہے تھے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد انہیں انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا اور داخلی تحقیقات کے بعد ان کی ریزیڈنسی کی مدت میں توسیع نہیں کی گئی۔
سزا سنائے جانے سے قبل ملزم نے متاثرین سے معافی مانگی جبکہ ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے رویے کی وجوہات سمجھنے کے لیے علاج اور مشاورت حاصل کر رہے ہیں تاہم عدالت نے قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔