ملک نعمان حیدر حامی
پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک سرسبز اور خوبصورت جنگل میں طرح طرح کے جانور رہتے تھے۔ کہیں ہرن دوڑتے پھرتے ، خرگوش کھیلتے کودتے ، بندر درختوں پر جھولتے اور کہیں رنگ برنگے پرندے چہچہاتے تھے۔ جنگل اپنی خوبصورتی اور خوش حالی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔
اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔وہ بہت چالاک، مکار اور خود غرض تھی، اسے دوسروں کو تنگ کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ وہ کبھی خرگوش کو دھوکا دیتی، کبھی ہرن کو پریشان کرتی، کبھی بندروں کے درمیان جھگڑا کروا دیتی اور کبھی پرندوں کے گھونسلوں کے قریب جا کر ان کے بچوں کو ڈرا دیتی۔
جنگل کے تمام جانور اس کی حرکتوں سے بہت تنگ آ چکے تھے۔ کوئی بھی جانور اس پر بھروسا نہیں کرتا تھا، جب وہ کسی کے قریب جاتی تو جانور فوراً محتاط ہو جاتے۔ ایک دن خرگوش نے افسوس سے کہا،’’کاش لومڑی اپنی عادتیں بدل لے۔‘‘
ہرن نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی بدلے گی۔‘‘
بندر بولا،’’جو دوسروں کو تکلیف دے، آخر ایک دن اسے خود بھی اس کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔‘‘
ایک صبح لومڑی جب جاگی تو اُسے بہت بھوک لگی، رات کو بھی اسے کھانے کو کچھ نہیں ملا تھا۔
وہ کھانے کی تلاش میں جنگل کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک گھومتی رہی، مگر اسے کہیں بھی کچھ نہ ملا۔
گرمی بڑھنے کے ساتھ لومڑی کی بھوک بھی بڑھتی جا رہی تھی۔وہ تھک چکی تھی لیکن پھر بھی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔
کافی دیر بعد وہ جنگل کے ایک ایسے حصے میں پہنچ گئی جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گئی تھی۔ وہاں ایک پرانا اور بلند بیر کا درخت تھا۔ درخت کے ساتھ ایک بیل لپٹی ہوئی تھی جو اوپر تک چڑھی ہوئی تھی۔اچانک لومڑی کی نظر بیل پر پڑی، اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔
بیل پر ایک عجیب سا پھل لٹک رہا تھا۔ وہ شکل میں خربوزے جیسا ، رنگ سنہرا پیلا تھا۔ سورج کی روشنی اس پر پڑ رہی تھی جس سے وہ اور بھی دل کش نظر آ رہا تھا۔ لومڑی نے خوش ہو کر کہا،واہ! آج تو قسمت مجھ پر مہربان ہو گئی۔‘‘اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔
اس نے سوچا، یہ پھل یقیناً بہت میٹھا ہوگا، اگر میں اسے کھا لوں تو میری ساری بھوک ختم ہو جائے گی۔
پھل کافی اونچائی پر تھا۔ اس نے اندازہ لگایا کہ ایک چھلانگ میں شاید وہ اسے حاصل نہ کر سکے۔ وہ بیل کے اردگرد چکر لگانے لگی۔ کبھی ایک طرف سے دیکھتی، کبھی دوسری طرف سے۔ پھر اس نے پہلی چھلانگ لگائی، مگر وہ زمین پر آ گری۔ اس نے دوسری پھرتیسری بارزور لگایا لیکن ناکام رہی۔وہ ہانپنے لگی ،وہ خود سے بولی،’’نہیں! میں ہار نہیں مانوں گی۔ یہ پھل مجھے ضرور حاصل کرنا ہے۔‘‘
اس نے کچھ دیر آرام کیا۔پھر کافی دور جا کر کھڑی ہو گئی۔اس نے پوری طاقت سے دوڑتے ہوئے اس نے زور دار چھلانگ لگائی۔
اس بار اس کے پنجے بیل تک پہنچ گئے،وہ بمشکل خود کو سنبھالتی ہوئی اوپر چڑھ گئی، آخرکار اس نے وہ پھل توڑ لیا۔
خوشی سے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ آخرکار میں کامیاب ہوگئی وہ خوشی سے بولی۔
اُس نے جلدی سے پھل توڑ کر اس کا ایک بڑا ٹکڑا منہ میں رکھا، مگر اگلے ہی لمحے اس کا چہرہ بگڑ گیا۔
پھل انتہائی کڑوا تھا۔اتنا کڑوا کہ اس کی زبان سن ہونے لگی،اس نے فوراً تھوک دیا۔ ’’اوہ، وہ چیخی۔ پھل کے اندر کوئی ایسی چیز تھی جس نے اسے چکرا دیا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا،وہ لڑکھڑانے لگی۔’’مجھےکیاہو رہا ہے؟‘‘کچھ ہی لمحوں بعد وہ زمین پر گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی۔
پورا دن گزرگیا مگر کسی جانور نے لومڑی کو نہیں دیکھا۔خرگوش نے حیرانی سے کہا،’’آج لومڑی کہیں نظر نہیں آئی۔‘‘
بندر بولا،’’واقعی! یہ تو عجیب بات ہے۔‘‘
ہرن نے سوچتے ہوئے کہا،’’وہ روز کسی نہ کسی کو تنگ کرتی ہے، آج پورا دن گزر گیا مگر اس کا کہیں پتا نہیں۔‘‘
جانوروں کی باتیں سن کر جنگل کا ایک ہاتھی آگے آیا، اس نے کہا،’’دوستو! یہ درست ہے کہ لومڑی نے ہمیشہ سب کو پریشان کیا، لیکن مشکل وقت میں کسی کو تنہا چھوڑ دینا اچھی بات نہیں۔ ہمیں جا کر معلوم کرنا چاہیے کہ لومڑی کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔‘‘
تمام جانور ہاتھی کی بات سے متفق ہو گئے۔ خرگوش، ہرن، بندر، طوطا، مور اور چند دوسرے جانور ہاتھی کے ساتھ روانہ ہو گئے اور جنگل کے مختلف حصوں میں لومڑی کو ڈھونڈنے لگے۔ طوطا آسمان سے نگرانی کر رہا تھا، کافی تلاش کے بعد طوطا اچانک بولا،’’ادھر آؤ، مجھے کچھ نظر آرہا ہے۔‘‘
سب جانور دوڑتے ہوئے اس سمت گئے، بیر کے درخت کے قریب پہنچے تو حیران رہ گئے۔ لومڑی زمین پر بے ہوش پڑی تھی، اس کے پاس آدھا کھایا ہوا پیلا پھل بھی پڑا تھا۔ ہاتھی نے فوراً کہا،’’جلدی پانی لاؤ‘‘۔
قریب ہی ایک چھوٹا سا چشمہ تھا۔بندر اور ہرن جلدی سے پانی لے آئے۔ لومڑی کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، کچھ دیر بعد لومڑی نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں، جب اُسے مکمل ہوش آیا تو اس نے اپنے اردگرد دیکھا، اس کے پاس جنگل کے وہی جانور کھڑے تھے جنہیں وہ ہمیشہ ستایا کرتی تھی، یہ دیکھ کر وہ شرمندہ ہوگئی اس نے کمزور آواز میں پوچھا،’’تم سب یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
خرگوش نے مسکرا کر جواب دیا،’’تمہاری خبر لینے۔‘‘
یہ سن کرلومڑی کو مزید ندامت محسوس ہوئی،اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔وہ بولی،’’میں نے ہمیشہ تم سب کو تکلیف دی، پریشان کیا۔ لیکن آج جب میں مشکل میں تھی تو تم سب میری مدد کے لیے آ گئے،مجھے معاف کر دو۔‘‘
جانور خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔کچھ دیر بعد ہاتھی نے پوچھا،’’ آخر تمہارے ساتھ ہوا کیا تھا؟‘‘
لومڑی نے گہرا سانس لیا اور سارا واقعہ سنایا۔جانور حیرت سے سنتے رہے۔
لومڑی نےکہا،’’آج میں نے دو باتیں سیکھی ہیں۔‘‘
’’پہلی یہ کہ دوسروں کے ساتھ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھاتا ہے، دوسری یہ کہ ہر چمکنے والی چیز والی چیز فائدہ مند نہیں ہوتی۔‘‘
جانوروں نے سر ہلا کر اس کی بات کی تائید کی۔
اس دن کے بعد لومڑی واقعی بدل گئی۔ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرتی تھی بلکہ سب کی مدد کرتی، پرندوں کے گھونسلوں کی حفاظت کرتی، اگر کسی جانور کو مشکل پیش آتی تو وہ سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچتی۔
پہلے جو جانور اس سے نفرت کرتے تھے، اب آہستہ آہستہ اس پر اعتماد کرنے لگے۔ایک شام جب تمام جانور اکٹھے بیٹھے تھے تو ہاتھی نے مسکراتے ہوئے کہا،’’ اچھائی اور محبت دلوں کو بدل سکتی ہے۔‘‘