• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک کہاوت ایک کہانی سے انتخاب: وہی مرغے کی ایک ٹانگ

اطہر اقبال

یاسر نے صبح سے بس ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ اسے ناشتے میں مرغ چھولے کھانے ہیں، آج اتوار کا دن تھا اور عام تعطیل کی وجہ سے اس کے ابو گھر پر ہی تھے، یاسر کے ابو ہر اتوار کی صبح گھر میں ناشتے کے لیے بازار سے کھانے، پینے کی مختلف چیزیں لایا کرتے تھے، جو وہ سب اپنے گھر میں بیٹھ کر مزے، مزے سے کھاتے، کبھی حلوہ پوری تو کبھی پراٹھے انڈے اور کبھی گرم کچوریاں اور کھیر یاسر کو بھی اب عادت سی ہوگئی تھی اور اسے اتوار کا دن آنے کا انتطار رہتا تھا تاکہ اتوار کو اس کے ابو بازار جائیں اور وہ بھی ان کے ساتھ جائے اور اپنی من پسند چیزیں، ناشتے کے لیے لے آئے۔

اتوار کے جس دن یاسر نے مرغ چھولے کھانے کی فرمائش کی تھی، اس دن شہر میں کوئی بڑا جلسہ تھا، اس لیے اس کے ابو نے سمجھایا کہ آج شہر میں جلسہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام ملے گا اور ہوسکتا ہے کہ مختلف گلیاں اور راستے بھی بند ہوں، اس لیے آج مرغ چھولے رہنے دو اور قریب ہی سے حلوہ پوری لے آتے ہیں اور ہم سب کا اس کا ناشتا کرلیں گے۔

’’بھئی یاسر، تم اپنے ابو کی بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے ہو؟ مرغ چھولے قریب نہیں ملتے، دور ملتے ہیں، وہاں جانے اور آنے میں آج بہت مشکل پیش آئے گی، لہٰذا تم اپنی ضد چھوڑ دو اور مرغ چھولے آئندہ اتوار کو کھالینا۔‘‘ اس کی امی نے یاسر کو سمجھاتے ہوئے کہا۔

’’نہیں میں آج ہی مرغ چھولے کھاؤں گا۔‘‘ یاسر نے اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے منہ بناکر کہا۔

اب اس نے ضد کرلی ہے مرغ چھولے کھانے کی تو میں کوشش کرلیتا ہوں کہ جاکر لے آؤں۔‘‘ یاسر کے ابو نے گویا ہار مانتے ہوتے کہا۔

’’یاسر یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، اس طرح کسی بات کی ضد نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ تمہیں اتنا سمجھالیا مگر تم ہوکہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہو اور ایک ہی بات کے پیچھے پڑ گئے ہو، یعنی ’’وہی مرغے کی ایک ٹانگ‘‘ اس کی امی نے مصنوعی ناراضی کے ساتھ کہا۔

‘‘مرغے کی ایک ٹانگ نہیں، میں تو دو ٹانگوں والا مرغا ہی کھاؤں گا اور وہ بھی مرغ چھولے۔‘‘ یاسر نے معصومیت سے کہا اور اس کے اس انداز پر اس کی امی اور ابو ہنسنے گے، یاسر کے ابو نے اپنی موٹر سائیکل پر یاسر کو بٹھایا اور اس علاقے میں جہاں مرغے چھولے ملتے تھے جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوگئے۔

بڑی مشکل سے وہ مطلوبہ جگہ پہنچے اور ناشتے کے لیے گرما گرم نان اور مرغ چھولے خرید کے واپس اپنے گھر آئے۔

’’مل گئے مرغ چھولے۔‘‘ گھر پہنچتے ہی یاسر کی امی نے پوچھا۔

’’ہاں مل گئے، مگر بڑی مشکل سے آنا جانا کیا ہے، راستے کئی جگہ سے بند تھے۔‘‘ اس کے ابو نے اپنا پسینہ صاف کرتے ہوئے ہکا۔

’’یاسر اب تو تم خوش ہو نا، مرغ چھولے لے آئے۔‘‘ امی نے پوچھا۔

’’جی… میں خوش ہوں، اور اس لیے بھی زیادہ خوش ہوں کہ ان چھولوں میں جو مرغا ڈالا گیا ہے، وہ ایک ٹانگ کا نہیں بلکہ پوری دو ٹانگوں والا ہے‘‘ یاسر نے مسکراتے ہوئے کہا اور جلدی جلدی پلیٹ جانب کرتے ہوئے اس میں مرغ چھولے ڈالے اور پھر سب ناشتے میں مصروف ہوگئے۔