• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھڑکتی آگ بہتا خون: آزادی کی سچی کہانی نانی جان کی زبانی

عائشہ بی

اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی . سارے بچوں نے مل کر اصرار کیا کہ ہمیں چھٹیاں گزار نے نانو جان کے پاس لاہور لے جائیں۔ امی اور ابو بھی خوشی سے مان گئے کیونکہ بچوں کو وہاں گئے دو سال ہوگئے تھے۔ امی نے بچوں سے پوچھا کیا کوئی خاص بات ہے جو تم لوگ نانو سے ملنےکے لیے بے چین ہو ؟ کعب نے کہا، جی ہاں امی جان ! ،دراصل ہم پاکستان کی آزادی کے بارے میں نانو سے تمام واقعات سننا چاہتے ہیں۔

نانو جان نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس لیے ۔‘‘ امی جان نے خوش ہو کر کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے میرے پیارے بچو! بالکل ٹھیک ہے میں تو بہت خوش ہوں کہ آپ لوگ پاکستان کی تاریخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور جاننا بھی چاہیے۔

پھوپھو ، تایا اور چچا کےبچے خوشی خوشی ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ سب لاہور جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوگئے پرجوش دعائیں کرتے اپنے والدین کے ہمراہ لاہور پہنچے ۔ تمام بچوں کی ایک ساتھ آمد پر نانو تو بہت خوش ہو گئیں۔ سعد نے کہا ، ’’نانو جان ،اس بار تو ہم سب آپ سے پاکستان کی آزادی کے واقعات سننے کے لیے خاص طور پر یہاں آئے ہیں۔‘‘

نانو نے کہا، ارے دم تو لو پہلے نہاؤ کچھ کھاؤ پیو پھر باتیں بھی ہوتی رہیں گی۔

سب نہادھوکر کھا پی کر آرام کرنے لگے لیکن ارتضی نے بے چینی سے نانو کے پاس لیٹ کر کہا، پاکستان کیسے بنا تھا نانو جان ؟

نانو نے کہا شام میں سب مل کر چائے پیئیں گے تو پھر آپ سب سے اس موضوع پر بات کروں گی۔

شام میں سب تازہ دم ہوکر چائے بسکٹ سے لطف اندوز ہوئے اور نانو سے پاکستان بننے کے واقعات سننے کے لیے ان کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھ گئے۔ نانو تخت پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں۔ کہنے لگیں کیا تم کو پتہ ہے پاکستان کیوں بنایا گیا ؟

کعب نے کہا ،پاکستان کا مطلب کیا ؟ سب نے مل کر کہا لا الہ الااللہ۔ معاذ نے کہا ،’’ اسلام کے لیےپاکستان بنایا گیا‘‘۔ ’’ میرے پیارے بچو! یہ بات بالکل ٹھیک ہے لیکن یہ آزادی ہمیں اتنی آسانی سے نہیں ملی اس کے لیے بڑی جدوجہد اور قربانیاں دی گئی تھیں ۔ مرتضی نے کہا، نانو ہم وہی جاننا چاہتے ہیں۔‘‘

یادوں کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے نانو کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی بہنے لگی ۔

عثمان نے پوچھا آپکو کیا ہوا نانو ، آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ سارے بچے پریشان ہوگئے۔ نانو نے ہمت جمع کرکے بچوں سے کہا ، کہ ارے بیٹا ! مجھے وہ تمام بچھڑے ہوئے لوگ یاد آگئے جو اس وقت ہم سے جدا ہوگئے تھے۔ سعد نے حیرت سے کہا ,آپ ابھی تک سب کو یاد کرتی ہیں‘‘ ؟ نانو نے کہا،’’ ارے بیٹا میں کیسے بھول سکتی ہوں ؟ یہ سب کچھ تو میرے دل و دماغ میں بسا ہوا ہے میں یہ کبھی بھی بھول نہ پاؤں گی۔ سارا بولی ! نانوکچھ تو بتائیں نا۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے، پیارے بچو! پاکستان کی آزادی کے وقت وہ تمام واقعات جو میں نے اپنی انکھوں سے دیکھے اور دوسروں سے سنے تھے، انہیں یاد کرکے آج بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اف خدایا کیسا کڑا وقت تھا ، اس پاک سر زمین کے لیے ہم نے اپنی جان ، مال ، گھر بار اور خاندانوں عزت و آبرو کی بھی قربانیاں دی تھیں۔ پاکستانکے حصول میں آگ اور خون کے بہتے ہوئے دریا پار کرنا پڑے تھے۔

لبیب نے حیرت سے کہا، ’’وہ کیسے نانو؟ ‘‘ ’’بتاتی ہوں، جب مسلمانوں کے مطالبے پر جیسے ہی انگریزوں نے الگ خطہ زمین کا اعلان کیا تو اس کو سنتے ہی مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، لیکن دوسری جانب ہندوؤں اور سکھوں پر یہ خبر سنتے ہی مسلمانوں پر حکومت کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا، یہ بات بجلی بن کر ان کے اعصاب پر گری ،انتقام کی آگ بھڑک اٹھی انہوں نے اندھا دھند مسلمانوں پر ظلم اور تشدد کرنا شروع کر دیا۔

’’ کیسے ظلم کیا‘‘ ارسلہ نے پوچھا، نانو، جلدی بتائیں نا۔‘‘

’’مت پوچھو بیٹا ، ارے ان ظالموں نے ہنستے بستے گھروں کو مکینوں سمیت آگ لگا دی ، کھیت کھلیان جلا دیے ،گھروں میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری شروع کردی۔ وہ وقت میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی . جب ایک جانب مسلمانوں کے لیے الگ وطن پاکستان کا مطالبہ منظور ہونے پر قائد اعظم کی قیادت میں مسلمان خوشی سے سرشار تھے۔

فضا میں نعرہ تکبیر، لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعروں کی صدائیں گونج رہی تھیں. دوسری جانب مسلمانوں کے گلی محلو ں میں ہندوؤں اور سکھوں نے جتھوں کی صورت میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنا شروع کردی تھی۔

’’پھر کیا ہوا نانو‘‘؟ حمدان نے دلچسپی سے پوچھا۔’’پھر کیا ہونا تھا ، ہندوؤں اور سکھوں میں مسلمانوں سے نفرت کی وہ آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے مسلمانوں کا جینا حرام ہوگیا۔ کچھ علاقوں سے بمشکل کچھ مسلمان چھپتے چھپاتےبچے کچھے لوگوں کے ساتھ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے نکل پڑے۔ ہندوؤں اور سکھوں کے ان جتھوں نے مسلمانوں کی بستیاں اجاڑ دیں۔ چہار سو

گولیوں کی خوفناک آواز اور بھڑکتی آگ اور بہتے خون سے ماحول ہیبت ناک ہو چکا تھا۔ آگ کے شعلے دھواں راکھ کے ڈھیر ہر جگہ خون ، جگہ جگہ شہیدوں کے لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

زویانے کہا، ’’نانو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے‘‘۔

سعد نے کہا ، ’’جیسا آج کل اسرائیل، فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے یہ تو ویسا ہی لگ رہا ہے‘‘۔ نانو نے کہا ہاں بیٹا کچھ ایسا ہی تھا، سکھوں نے تو حد کر دی تھی کہ کرپانیں لہراتے ننھے بچوں کو ماؤں کے سامنے نیزوں سے چیر کر شہید کرکے نیزوں پر لہراتے . رفحہ اور زینب تو زور زور سے رونے لگیں۔’’ ظالم لوگ ہیں ۔ ان کومارو کوئی‘‘۔

نانو بھی روتی جا رہی تھیں اور انہوں نے پاکستان آنے والی ٹرینوں میں گھس کر مسلمانوں کا قتل عام کیا، پیارے بچوں! اسکے باوجود ہزاروں لوگ خون میں لت پت لٹے پٹے زخموں سے چور قافلوں کی صورت میں پاک سر زمین کی طرف پیدل یا بیل گاڑیوں پر سفر کرتے ، بالآخر وہ کسی نہ کسی طرح پاک سر زمین پہنچ ہی گئے اور رب کے آگے سجدہ ریز ہو گئے اور شکر اور سکھ کا سانس لیا۔

’’پیارے بچو! یہ ہے پاکستان کی داستان، یاد رکھنا کہ پاکستان کسی نے ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا تھا یہ ارض پاک ہزاروں مسلمانوں بچوں، بڑوں، بوڑھوں عورتوں کی قربانی کے بعد حاصل ہوا ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ تمام بچوں نے نانو سے وعدہ کیا کہ ہم بڑے ہوکر پاکستان کی ترقی کے لیے اسے مضبوط بنانے کے لیے ضرور کام کریں گے ۔ہم محنت سے پڑھیں گےان شاءاللہ۔ نانو نے کہا ان شا اللہ، اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اسکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ بچے آبدیدہ تھے لیکن پھر بھی جوش میں ہم آواز ہوکر نعرہ تکبیر، اللہ اکبر لگانے لگے۔

نانو کے دل سے صدا آرہی تھی "ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر اس دیس کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر....."