• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہاوت یا ضرب ا لمَثل اور محاورہ

اطہر اقبال

پیارے بچو! اس ہفتے سے ہم آپ کے لیے’’کہاوت کہانی ‘‘ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں لیکن پڑھنے سے قبل اس کے بارے میں سمجھ لیں۔

کہاوت یا ضرب المثل ایک مختصر اور عام فہم جملہ ہوتا ہے۔ جو تجربات، روایات اور دانش مندی پر مبنی ہوتا ہے۔ کہاوت اردو اور ضرب المثل فارسی کا لفظ ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں۔ کہاوت ایک جملہ ہوتا ہے جسے تبدیل کیے بغیر لکھا اور کہا جاتا ہے۔ مثلاََ ’اندھوں میں کانا راجا‘ اس کہاوت میں اندھوں کو بہروں یا کانا کوسیانا سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

محاورہ: ایسے الفاظ کا مجموعہ ہے جو اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی (غیر حقیقی) معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ زبان میں خوبصورتی پیدا کرنے اور بات کو موثر انداز میں پیش کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ یہ کم از کم دو الفاظ پر مشتعمل ہوتاہے۔ اس میں اپنی مرضی سے الفاظ تبدیل نہیں کیے جا سکتے ،جیسے پانی بھرنا کی جگہ ’آب بھرنا‘نہیں کہہ سکتے۔

آج کی کہاوت کہانی میں ملاحظہ کریں، ’’بدن پر نہیں لتا، پان کھائیں البتہ‘‘

معنی: غربت میں امیرانہ ٹھاٹھ، پاس کچھ نہیں مگر اللے تللے (فضول خرچی) کرے۔

چھیل چھبیلو کے لیے کہا جاتا ہے جن کے پلے کچھ نہیں ہوتا۔

’’ناصر، دیکھو دروازے پر کون ہے۔‘‘ ناصر کی امی نے دروازے پر دستک سن کر کہا۔

’’جی امی جان، ناصر جو اس وقت کتاب پڑھ رہا تھا، اس نے کتاب میز پر رکھتے ہوئے جواب دیا اور دروازہ کھولنے چلا گیا۔

’’کون ہے ناصر؟‘‘ ناصر کی امی نے پوچھا۔

’’امی جان، پڑوس والی خالہ ہیں، کہہ رہی ہیں کہ انہیں چینی چاہیے، ان کے گھر چینی ختم ہوگئی۔‘‘ ناصر نے دروازے پر کھڑے کھڑے ہی امی جان کو بتایا، اس کی امی ایک چھوٹے برتن میں چینی لے کر آگئیں اور دروازے پر کھڑی اپنی پڑوسن کو دے دی۔

’’امی جان آپ بھی خوب ہیں، یہ پڑوس کی خالہ آئے دن ہمارے گھر آجاتی ہیں، کبھی کچھ مانگتی ہیں تو کبھی کچھ اور مگر…‘‘ ناصر نے گھر کے اندر آتے ہوئے ناگواری کے ساتھ مزید کچھ اور کہنا چاہا۔

’’نہیں بیٹا اس طرح نہیں کہتے، وہ غریب خاتون ہیں، کسی کو دینے سے کسی کا کچھ کم نہیں ہوتا ہے۔‘‘

امی نے ناصر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

’’مگر امی جان اگر یہ لوگ غریب ہیں تو اتنی فضول خرچیاں کیوں کرتے ہیں کہ ان کے پاس گھر کے راشن خریدنے کے لیے بھی رقم نہیں بچے، ناصر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ تم صحیح کہہ رہے ہو بیٹا مگر پھر بھی اگر کوئی تمہارے پاس اپنی ضرورت لے کر آئے اور وہ چیز ضرورت سے زائد مقدار میں تمہارے پاس موجود ہو تو پھر منع نہیں کرنا چاہیے۔ ناصر کی امی نے پیار سے بات سمجھاتے ہوئے کہا۔

’’مگر امی…‘‘

’’ناصر لگتا ہے تم بحث کے موڈ میں ہو۔‘‘ امی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے مصنوعی غصے سے کہا۔’’امی جان، آپ ہی بتائیں کہ غربت میں امیرانہ ٹھاٹھ اچھے لگتے ہیں بھلا۔‘‘ ناصر نے بوڑھوں کی طرح کہا۔

’’نہیں بالکل اچھے نہیں لگتے، مگر کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خود کو بڑا ظاہر کرنا چاہتے ہیں، جب کہ اصل میں ان کے پاس ہوتا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ ناصر کی امی نے کہا، آپ تو ان لوگوں کو بہت پہلے سے جانتی ہیں یہ تو بہت پرانے رہنے والے ہیں، مگر میں نے انہیں ہمیشہ فضول خرچی کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ جو چیز ضرورت کی نہیں ہوتی، وہ بھی لے آتے ہیں اور اپنے گھر کا راشن دوسروں کے گھروں سے مانگتے ہیں۔‘‘ ناصر نے ناگواری کے تاثر کے ساتھ کہا۔

’’ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو، مگر کچھ لوگ اپنی عادت سے بھی مجبور ہوتے ہیں اور کچھ لوگ چھیل چھبیلے ٹائپ بھی ہوتے ہیں، جن کے پلے ہوتا کچھ نہیں ہے، مگر غربت میں بھی خود کو امیر ظاہر کرتے ہیں۔ بس یوں سمجھ لو کہ ’’بدن پر نہیں لتا، پان کھائیں البتہ، ناصر کی امی نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر ناصر بھی ہنستا ہوا دوبارہ اپنی کتاب پڑھنے میں مشغول ہوگیا۔