• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ اکیسویں صدی کے آغاز کی بھیانک تصویر ہے۔ جب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے جس کا فوجی اور اقتصادی لحاظ سے کوئی مد مقابل نہیں۔ اس صورتحال نے اسے ایک ایسا بدمست ہاتھی بنا دیا ہے جو طاقت کے نشے میں اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تباہ و برباد کر دینے پر تلا ہوا ہے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا پر امریکی تسلط جمانا ہے۔ وہ اور اسکا لے پالک اسرائیل جس طرح غزہ کے بعد اب ایران کیخلاف مسلسل جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اسے دنیا کی رائے عامہ ،نہ ہی اقوام متحدہ کے کسی منشور یا قرارداد کی پروا ہے۔امریکی جھوٹ اور مکر کی سیاست کا بھیانک چہرہ اس وقت سے زیادہ کھل کرسامنے آیا جب دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔جسکے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے نیو ورلڈ آرڈر کی نوید دنیا کو سنائی جو بظاہر دنیا میں غیر جمہوری حکومتوں کے خاتمے اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کیلئے تھی لیکن درحقیقت یہ امریکی سامراج کی توسیع پسندی، تیل کے چشموں پر قبضہ اور دنیا کے دیگر مالی وسائل کو امریکی تصرف میں لانے کی ایک گہری سازش تھی۔ جسکے آغاز میں عراق ایران جنگ میں امریکہ نے صدام حسین کو غیر مشروط حمایت اور فوجی امداد مہیا کی ۔پھر امریکہ نے خلیج میں تیل کے چشموں پر قبضہ جمانےکیلئے ،صدام حسین کو کویت پر حملہ کرنے پر اکسایا اور پھر اس حملے کو جواز بنا کر کویت میں اپنی فوجیں اتار دیں اور اپنی فضائیہ کے ذریعے عراقی افواج کوبھون کر رکھ دیا۔ اس موقع پر امریکی حکام نے پہلی مرتبہ اپنے ان ہتھیاروں کا استعمال کیاجن کے ذریعے سے وہ اپنی بے انتہا طاقت کا مظاہرہ کر کے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ کوئی اس کےمقابل آنے کی جرات نہ کرے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ پہلی امریکی جارحیت تھی جو اسکے آئندہ منصوبوں کا ٹریلر تھا۔ اسکے بعد سے اب تک دنیا امریکی جارحیت کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔

نائن الیون کی آڑ میں افغانستان پرآتش وآہن کی بارش، پھر افغانستان پر قبضہ ،عراق میں، جھوٹے الزام میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروںکابےدریغ استعمال، اور پھر عراق پر بھی امریکی قبضہ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ افغانستان پر حملہ اسلامی بنیاد پرستوں کو روکنے کیلئے کیا گیا جو درحقیقت امریکی سامراج کے پروردہ تھے لیکن صدام حسین تو نہ صرف سیکولر بلکہ ان کا دست راست تھا اسے راستے سے ہٹانا اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ خطے میں کوئی ایسی طاقت باقی نہ رہے جو امریکہ اور اسرائیل کے عزائم کیلئے کبھی خطرہ بن سکے۔عراق کے بعد اب ایران کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسکے بعد کس کی باری ہوگی یہ سب کو پتہ ہے ۔ طاقت کا ایسا خوفناک استعمال اور ایسی چنگیزیت مہذب دنیا نےاس سےپہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ہر کوئی جانتاہے کہ تباہی و بربریت کا دوسرا نام امریکہ اور اسرائیل ہے کیونکہ آج وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے ۔

امریکہ کی وجہ سے آج دنیا جس خوفناک صورتحال سے دوچار ہے اسکے ذمہ دار کون ہیں؟ جنہوں نے اس کے واحد سپر پاور ہونے کا راستہ ہموار کیا اورپوری انسانیت کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا،ان میں نام نہاد دانشور، پیشوااور ان غیر جمہوری حکمرانوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ داری کے وہ ایجنٹ بھی ہیں جو کبھی مذہب اور کبھی انسانی آزادیوں کے نام پر دنیا کو سوویت یونین کے خلاف بھڑکاتے رہے تاہم سب سے زیادہ المناک کردار پاکستان کے ان ڈکٹیٹروں کا ہے جنہوں نے محض اپنے اقتدار اور ذاتی مفادات کیلئے افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑی اور بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ وہ سوویت یونین کی تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔کاش آج وہ فاتحین ِ افغانستان زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ انکی فتح نے پاکستان، اسلام اور انسانیت کو کس مقام پر پہنچا دیا ہے اور جن طالبان کو ہم نے سینچا تھا وہ آج کس طرح ہم پر حملہ زن ہیں۔ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ امن کی بقا کیلئے کوئی غنڈہ موجود نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر ہوں تو پھر دو غنڈے ہوں تاکہ ایک دوسرے کے خوف سے وہ اپنی من مانی نہ کر سکیں۔ ایک غنڈہ جتنا خوفناک ہو سکتا ہے اس کا دردناک مظاہرہ آج ساری دنیا کے سامنے ہے۔ سوویت یونین کی موجودگی، تیل کے چشموں تک پہنچنے کی دیرینہ امریکی خواہش کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی کیونکہ مڈل ایسٹ کے اکثر ممالک سوویت بلاک سے تعلق رکھتے تھے ۔وہ کیوبا کا بحران ہو یا عرب اسرائیل تنازع ،سوویت یونین کی وجہ سے امریکہ ایک قدم آگے بڑھتا تھا تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ لیکن اب ہر طرف امریکی جارحیت ہے جسے روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ جنرل ضیا کے افغان جہاد نے پاکستان اور مسلم دنیا کو کیا دیا؟ کیا سوویت یونین کے زوال کے بعد پاکستان سپر پاور بن گیا یا پہلے سے مضبوط ہوا ؟کیا مسلم دنیا تمام خطرات سے محفوظ ہو گئی ہے؟ سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری اس وقت کے ڈکٹیٹر نے سب سے زیادہ مہلک وار ہی پاکستان اور مسلم دنیا پر کیا ۔ پاکستان کو اس نام نہاد افغان جہاد نے مذہبی منافرت، علاقائی تعصب، بدامنی اور غربت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آج پاکستان ہر لحاظ سے جتنا غیرمستحکم ہو چکا ہے اتنا کبھی نہ تھا، مسلم دنیا جتنی اب غیر محفوظ ہے ،کبھی نہ تھی اور پوری انسانیت جتنی بے یار و مددگار ہو چکی ہے،پہلے کبھی نہ تھی۔ تاریخ ایسے سامراجی ایجنٹوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دَہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

تازہ ترین