پچھلے دنوں وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں جو بیان دیا ہے وہ یقیناََ تاریخی لحاظ سے درست تو ہے اور ایک طرح سے ہماری قومی غلطیوں کا اعتراف بھی لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں اس اعتراف سے کچھ سبق سیکھا جا سکتا ہے وہاں بھی کچھ برف پگھلی ہے یا نہیں ۔رانا صاحب نے سیدھے سیدھے اعتراف کیا ہے کہ جن طالبان کو ہم نے اپنے دشمن کے خلاف پالا پوسا تھا اور جو اب ہمارے لیے مصیبت بنے ہوئے ہیں ۔آزاد کشمیر کی حالیہ گڑبڑ میں بھی ایسے ہی شر پسند عناصر پیش پیش ہیں ۔رانا ثنا اللّٰہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ۔ان سے سیاسی اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی خاطر مختلف ادوار میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کا یہ بیان ہماری تاریخ کے ان رستے ہوئے زخموں کی نشاندہی کرتا ہے جن کی وجہ سے آج پاکستان اپنے خطے کا سب سے پسماندہ ملک بن چکا ہے جو اپنی بقا اور استحکام کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ہم نے قومی اور اجتماعی طور پر جو خوفناک غلطیاں کی ہیں انہیں تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے ان کے بارے میں ذکر کرنا بھی جرم ہے۔ آج اگر ہم اپنی افغان اور کشمیر پالیسی کے سراب سے باہر نہیں نکلتے تو شاید ہمیں پہلے سے بھی زیادہ گمبھیر صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔ ہماری ایسی پالیسیوں کی وجہ سے تاریخ عالم میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو اپنے قیام کے صرف 23 سال کے بعد ہی دولخت ہو گیا تھا۔ لیکن ہمارے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم اپنی غیر حقیقت پسندانہ سیاسی حکمتِ عملی کی جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اس میں سے نکلنے کی بجائے مزید دھنستے جا رہے ہیں۔ ہم اندرون ملک سیاسی عدم استحکام اور اپنی سرحدوں پر ہر طرف سے منڈلاتے ہوئے خطرات کے طوفانوں میں گھرتے جا رہے ہیں۔ جس کا بلوچستان اور کے پی میں ہونے والی دہشت گردی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں اب آزاد کشمیر بھی شامل ہو گیا ہے۔ وہ کشمیر جس کے لیے پاکستان نے اپنی سلامتی ترقی اور وجود تک داؤ پر لگا دیا ہے آج اسی راستے پر چل پڑا ہے جس راستے پر طالبان چل رہے ہیں یعنی۔۔۔ مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے۔۔۔ اب چین کے علاوہ ہمارا کوئی بارڈر محفوظ نہیں رہا ہمارے قومی وجود پر صرف ایک ہی زخم نہیں جس کا ماتم کیا جائے بلکہ غلطیوں اور حماقتوں کے انگنت زخم ہیں جو آج بھی رس رہے ہیں اور انصاف مانگتے ہیں۔ جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ دنیا کی تاریخ نے تو ہمیشہ ہی سے یہ حقیقت آشکار کیے رکھی ہے کہ ملکوں کی بنیاد ہمیشہ معاشی مفادات پر ہوتی ہے۔ مذہبی بنیادوں پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ عالم میں ہمیشہ ایک ہی مذہب کو ماننے والے بے شمار ملک اپنااپنا علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔حال ہی میں ساری دنیا میں اسلامی انقلاب کے نقیب طالبان نے مسلم دشمن بھارتی حکومت کی ایما پر اپنے مسلم محسنوں کے خلاف جس قسم کے خود کش حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے کیا ابھی تک وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کی جو آگ ہم نے امریکی سامراج کی خاطر لگائی تھی اس میں ہم خود جھلس رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المیہ عوامی حاکمیت سے مسلسل انکار ،طویل آمریت اور بھارت کے ساتھ غیر ضروری نفرت اور محاذ آرائی کا نتیجہ تھا ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ مشرقی پاکستان ہم سے ایک ہزار میل دور ہے اور درمیان میں ہم سے سات گنا بڑا ہمارا دشمن ملک بھارت واقع ہے۔ ہم نے سیاسی مفاہمت کی بجائے طاقت اور محاذ آرائی کی پالیسی اپنائی جس کا خوفناک نتیجہ سامنے آیا ۔پاکستان کا جغرافیائی اور سیاسی محلِ وقوع دیکھتے ہوئے عقل و دانش کا تقاضا تو یہ تھا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر اور دیگر مسائل کے باوجود جنگ کی نوبت نہ آنے دی جاتی لیکن وہ غلطیاں دہرانے کا سلسلہ ختم نہ ہو سکا جس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے پر مجبور کر دیا تھا۔ بقیہ پاکستان کو صرف پانچ سال ایسے ملے جس میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ کچھ بنیادی مسائل طے کیے جن میں سب سے بڑا مسئلہ آئین سازی کا تھا۔ اسی دور میں پاکستان کے اس ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی اور چین کے ساتھ خصوصی تعلقات کا آغاز ہوا جس نے گزشتہ سال کی پاک بھارت جھڑپ میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔پاکستان میں آزاد خارجہ پالیسی اپنائی گئی۔ لیکن اچانک ایک عالمی سازش کےتحت عوامی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ملک کو ایک نام نہاد جہادِ افغانستان کی نذر کر دیا گیا۔ جس کے نتائج ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔جب پاکستان کو اس سنگین صورتحال سے نکالنے کے لیے دو بڑی سیاسی جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تو نہ صرف مقبول ترین سیاسی رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک سازش کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔ بلکہ ایک غیر سیاسی اور نا تجربہ کار شخص کو اقتدار پر مسلط کر دیا گیا ۔جس کی وجہ سے معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی سمیت ہر میدان میں پاکستان دہائیوں پیچھے چلا گیا۔ اس سے نکلنے کی ہر کوشش ابھی تک ناکامی سے دوچار ہے۔ یاد رکھیئے مضبوط معیشت سب سے بڑا دفاع ہوتی ہے۔ جو اس وقت عالمِ نزاع میں ہے۔ کیا کوئی ان غلطیوں کا بھی اعتراف کرے گا یا صورتحال یہی رہے گی کہ
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا