ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا سے مذاکرات کی تردید کر دی۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے تمام ارکان فی الوقت ایران میں ہیں۔
چین کشیدگی کم کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کشیدگی میں کمی کے لیے کوئی نئے ثالث سامنے نہیں آئے ہیں، فی الحال کسی وفد کی میزبانی کرنے کا ارادہ نہیں نہ ہم کسی کے مہمان بنیں گے۔
ایران اور امریکا سے متعلق معاملات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، قطر بھی جہاں ضرورت ہو وہاں مدد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے، گزشتہ 7 سے 8 دنوں سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عارضی طور محفوظ راستے پر کام کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ زیر بحث نئے روٹ میں ایک گزرگاہ ہوگی، جس میں داخلے، اخراج کے لیے الگ راستے ہوں گے، تاہم آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے صرف عمان کے ساتھ معاہدے تک پہنچ جانا کافی نہیں ہے، جب تک امریکی جارحیت جاری رہے گی، صورتِ حال اسی طرح برقرار رہے گی۔
ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے کا انحصار خطے کی مجموعی صورتِ حال اور متعلقہ فریقوں کے اقدامات پر ہو گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے راستے پر اتفاقِ رائے اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ایک ضروری شرط ہے، تاہم صرف یہی شرط کافی نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بند نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتِ حال گزشتہ سال مارچ میں امریکا اور صہیونی ریاست کی فوجی جارحیت کے باعث پیدا ہوئی۔
یمن کے معاملے پر اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یمن کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، کسی بھی مسئلے کو ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا ذمہ داری سے بچنے کی ایک شکل ہے، موجودہ علاقائی مسائل کے لیے امریکا اور اس کے ساتھی ذمہ دار ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ صرف ایک ملک کے خلاف نہیں، بلکہ پورے خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے خلاف ہے۔ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر موجود ممالک کے علاقوں اور سہولتوں کا استعمال، خطے کے تمام ممالک کے لیے عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ کا باعث ہے۔