• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذمہ دار تھے اور پاکستان کو دو لخت کرنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تھے۔ جناب بھٹو کے سیاسی مخالفین مختلف حوالوں سے ان پر یہ سنگین الزامات عائد کرتے رہے ہیں جو غداری کے زمرے میں آتا ہے لیکن غالباً یہ الزام رانا ثناء اللّٰہ جیسے شخص نے پہلی مرتبہ لگایا ہے جو ایک طویل عرصے تک بھٹو صاحب کو اپنا سیاسی لیڈر اور قائد عوام مانتےرہے اور انکی پارٹی کے فعال کارکن رہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ محض اپنے وقتی فائدے کیلئے تاریخ کو مسخ کیا جائے اور لوگوں کو یہ سوال پوچھنے کا موقع دیا جائے کہ جب رانا صاحب یہ جانتے تھے کہ بھٹو نے ملک توڑنے جیسی غداری کی تو وہ اس غدار کی پارٹی میں کیوں شامل ہوئے اور جناب بھٹو کو پاکستان کا نجات دہندہ اور قائدِ عوام کیوں قرار دیتے رہے؟

جہاں تک پاکستان کے دو لخت ہونے میں جناب بھٹو کے کردار کا ذکر ہے تو اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے پھر بھی عوامی یادداشت کو تازہ کرنے کیلئے تاریخی حقائق کا پھر سے تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ جناب ذوالفقار علی بھٹو قائد اعظم کے بعد پاکستان کے سب سے مقبول زیرک اور کرشماتی لیڈر تھے تاریخ دو طرح کے لیڈروں کو کبھی فراموش نہیں کرتی ایک وہ جو کسی ملک کے بانی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو ریفارمر یا مصلح ہوتے ہیں۔ قائد اعظم پاکستان کے بانی اور جناب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو 25 سال بعد متفقہ آئین دینے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اس پر انکی اور انکے بچوں کی شہادت نے انہیں تاریخ کی ان معدودے چند شخصیات میں شامل کر دیا ہے جو افسانوی کردار کی حامل ہیں۔ ایسے شخص پر جسے قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں سزائے موت دیدی گئی جس کا اعتراف بھی تقریباً نصف صدی کے بعد اسی عدالت نے کر دیا ہے، اس کے ایک پرانے ڈائی ہارڈ ورکر کی طرف سے ایسا بے بنیاد الزام لگانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ بھٹو صاحب کے مشرقی پاکستان کے دو لخت ہونے میں کسی کردار کی صورت میں پہلی دلیل تو یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو جنرل ضیا جو ہر قیمت پرجناب بھٹو کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا وہ انہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں سزائے موت دینے کی بجائے ملک توڑنے کی سازش کے الزام میں یہ سزا دیتا تو نہ صرف اسکی مخالفت نہ ہوتی بلکہ اسے سراہا بھی جاتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیادیں تو کئی سال پہلے ہی رکھ دی گئی تھیں جب بنگالیوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اکثریت میں ہونے کے باوجود بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے سے انکار کر دیا گیاتھا۔ جنرل ایوب کی طویل فوجی آمریت نے بنیادی حقوق سے محرومی کی اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا تھا اور 70 کے الیکشن تک وہ تحریک تقریباً علیحدگی کی تحریک میں تبدیل ہو چکی تھی جس کا اظہار عوامی لیگ کے چھ نکاتی پروگرام کی شکل میں سامنے آگیا تھا۔ یاد رہے 70 کے الیکشن کوئی عام الیکشن نہیں تھے یہ آئین ساز اسمبلی کے الیکشن تھےجن کا بنیادی مقصد پاکستان کیلئےنیا دستور بنانا تھا اگر یہ اسمبلی دستور بنانے میں ناکام ہو جاتی تو وہ خود بخود تحلیل ہو جاتی۔ جنرل یحییٰ اور اسکے حواریوںنے اپنے 30 مارچ 1970 کو جاری ہونے والے لیگل فریم ورک آرڈر میں آئین سازی کے متعلق جو شرائط رکھی تھیں وہ انکے عزائم کی کھلی تصویر تھیں۔ 70 کے عام انتخابات اسی ایل ایف او کے تحت ہو رہے تھے جس میں آئین ساز اسمبلی کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کا دستور 120 دنوں کی قلیل مدت کے اندر بنائے ورنہ وہ تحلیل ہو جائیگی اگر وہ پھر بھی کوئی آئین بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے غیر منتخب صدر یعنی جنرل یحییٰ کے روبرو منظوری کیلئے پیش کرے اگر صدر اسے منظور نہیں کرتا تو وہ اسے دوبارہ غور کیلئے اسمبلی کو واپس بھیجے گا اگر اسمبلی کا نظرِ ثانی شدہ آئین بھی غیر منتخب صدر کو پسند نہیں آتا تو بھی وہ اسمبلی کو تحلیل کر سکتا ہے گویا چت بھی میری اور پٹ بھی میری کے مصداق الیکشن کے بعد بھی انتقالِ اقتدارکے سارے حقوق غیر منتخب صدر کے پاس تھے۔ شیخ مجیب الرحمن نے چھ نکات کی بنیاد پر مشرقی پاکستان میں یہ الیکشن دو سیٹوں کے علاوہ تمام سیٹوں پر جیت لیا تھا لیکن مغربی پاکستان میں وہ ایک بھی سیٹ پر کامیاب نہ ہو سکا جہاں جناب بھٹو کی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی تھی۔ اب آئین تو پورے ملک کا بننا تھا اسلئے جناب بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر اُدھر یعنی مشرقی پاکستان میں تم اکثریت میں ہو تو اِدھر یعنی مغربی پاکستان میں ہم اکثریت میں ہیں لہٰذا آئین سازی کے سلسلے میں اسمبلی اجلاس سے پہلے دونوں حصوں کی ترجمان پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان اسمبلی سے باہر اتفاق رائے ہونا ضروری ہے کیونکہ اسمبلی کے اندر اپنی عددی اکثریت کی وجہ سے عوامی لیگ چھ نکات کی بنیاد پر آسانی سے آئین بنا سکتی تھی جس کیلئے مغربی پاکستان نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ مسٹر بھٹو شیخ مجیب کے ساڑھے پانچ نکات تک مان گئے لیکن ڈیڈ لاک ملیشیا اور پیراملٹری فورسز پر رہا بقول راؤ رشید آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بھٹو نے شیخ مجیب کے پورے چھ نکات کیوں نہ مانے پھر یہ کہہ رہے ہوتے کہ مشرقی پاکستان تو جا ہی رہا تھا بھٹو نے شیخ مجیب کے چھ نکات مان کر ملک کے پانچ ٹکڑے کر دیے ہیں۔ یہ جنرل یحییٰ اور اس کے ساتھی تھے جو سیاہ و سفید کے مالک تھے اور انتقالِ اقتدار نہیں چاہتے تھے لیکن اس کشمکش میں ملک ٹوٹ گیا اور انہیں مجبوراً اقتدار بقیہ پاکستان کی اکثریتی پارٹی کے حوالے کرنا پڑا لہٰذا مسٹر بھٹو پر علیحدگی کا الزام تاریخی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔

تازہ ترین