ملک کے ہر گوشے میں آج کل نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کے بارے میں مباحث جاری ہیں۔ عوام اور خواص اپنے علم، تجربے اور سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر اس کی موافقت اور مخالفت میں دلائل پیش کررہے ہیں۔ اگر چہ مباحث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر مسائل کا حل پیش کرتے ہیں، لیکن اس ضمن میں کچھ شرائط بھی بتائی جاتی ہیں، مثلا، وہ کھلے دل سے کیے جائیں، ہر فریق کی رائے توجہ سے سنی جائے، گفتگو دلائل کے ساتھ کی جائے، کسی بھی فریق کی رائے کو حقیر نہ سمجھاجائے اور معاشرتی، تاریخی، ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور عمرانی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ انداز میں سب کو ساتھ لے کر چلنےکی نیّت سے موثر اور قابلِ عمل حل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ سوال وقتا فوقتا سر اٹھاتا رہتا ہے، کبھی کسی سیاست داں کی زبان سے نکلنے والے لفظوں کی وجہ سے اور کبھی کسی علاقے کے لوگوں کی جانب سے چلنے والی تحریک کی وجہ سے۔
اِن دنوں یہ سوال پھر اُٹھا ہے۔ لیکن اس مرتبہ اسے اس لیے زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ ملک کے ایک طاقت ور وفاقی وزیر نے یہ بات کی ہے۔اس کے اہمیت حاصل کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ ،محسن نقوی نے نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے کی تجویز یہ کہہ کر پیش کی کہ ہمارا ملکی نظام تباہ ہوچکا ہے۔
تیس جولائی کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ موجودہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، مسائل کے حل کے لیے نئ انتظامی اکائیوں اور نئے راہ نماوں کی ضرورت ہے، موجودہ نظام ڈھے چکا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولتیں درکار ہیں، جو ہم نہیں دے پاتے، آج بھی لوگ دس گھنٹے سفر کر کے عدالت جاتے ہیں، عام آدمی کو انصاف، روزگار، تعلیم چاہیے، جس روز نوجوان اکٹھا ہوگئے، اس نظام کو گرادیں گے، اس سے پہلے کچھ کرنا ہوگا، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سے لے کر ملک کے ایک ایک مسئلے کو حل کرنا پڑے گا، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے، ملک اسی حالت میں رہے گا۔
وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، وہ چاہتے ہیں کہ نظام کو ٹھیک کیا جائے، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے، نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے۔ نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔
اصل ضرورت کیا ہے؟
وزیرِ داخلہ نے جو باتیں کیں، وہ ملک کے اربابِ دانش طویل عرضے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن اب یوں محسوس ہورہا ہے کہ ملک کا نظام چلانے والےبھی کسی وجہ سے اس بارے میں غوروخوض کرنے لگے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بڑے صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے طرزِ حکم رانی ،وسائل کی تقسیم اور عوامی مسائل کے حل میں بہتری آئے گی یا اصل ضرورت مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی ہے۔
ان مباحث میں نئے صوبوں کے حق میں دلائل دینے والے کہہ رہے ہیں کہ :چھوٹے صوبوں سے انتظامیہ عوام کے قریب آسکتی ہے اور عوام کو ان کے گھر کے قریب مسائل کا حل مل سکتا ہے، متوازن انداز میں ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو سکتی ہے، علاقائی شناخت کا تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا ہوسکتا ہے، طرزِ حکم رانی میں بہتری آسکتی ہے، پس ماندہ علاقوں کو زیادہ سیاسی نمائندگی مل سکتی ہے، ان کی غربت میں کمی آسکتی ہے اور انہیں ترقی کے زیادہ مواقعے مل سکتے ہیں۔
نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی مخالفت کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ: صوبوں کی تعداد بڑھانے سے خودبہ خود طرزِ حکم رانی بہتر نہیں ہوتی، اصل مسئلہ شفافیت، انتظامی صلاحیت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔ نئی اکائیاں بنانے سے ملک پر مالیاتی بوجھ بڑھ جائے گا، اخراجات میں کمی کرنا مشکل ہوگا اور قومی یک جہتی متاثر ہوسکتی ہے۔
درپیش مسائل
ایک جانب یہ حقیقت ہے کہ سیاسی مفادات اور اختیارات کی جنگ نے ایسی کوششوں کا پہلے بھی کئی مرتبہ کام یابی سے راستہ روکا ہے۔ دوسری جانب یہ کام کرنے کے لیے درکار آئینی اور قانونی مراحل بہت طویل اور پے چیدہ نظر آتے ہیں۔ تاہم بعض حلقوں کا یہ موقف ہے کہ موجودہ حالات میں اگر مقتدرہ چاہے گی توان مشکلات اور پے چیدگیوں پر بہ حسن و خوبی قابو پالیا جائے گا۔
نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے کےلیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان میں آئینی طور پر درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔ بعض آئینی ماہرین کے بہ قول اس کام کے لیے آئین کی شقوں 1، 51، 59، 106 اور 239 میں ترامیم درکار ہوں گی۔ دوسری جانب موجودہ پارلیمانی صورت حال میں وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر نئے صوبوں کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے۔
حل کیا ہے؟
ملک میں جو سیاسی صورت حال ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کام جلد ہوتا نظر نہیں آتا(سوائے کسی مخصوص صورت حال کے)۔اس ضمن میں بہت سی آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ باتیں ہیں، لیکن ان سب کا نچوڑ یہ نظر آتا ہے کہ ڈول تو ڈال دیا گیا ہے، مگر اس کوشش کا انجام کیا ہوگا؟ یہ شاید کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔
ایسی صورت حال میں آئینی،قانونی، سیاسی اورسماجی شعبوں کے بہت سے ماہرین اس نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ مشکلات کی وجہ سے بہ جائے اس کے کہ نظام کو بہتر بنانے کی کوشش ہی ترک کردی جائے، ہمیں متبادل اور آسان حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔ ان کا موقف ہے کہ نئے صوبوں کےبہ جائے آئین کی شق نمبر 140-A کے تحت مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ فوری حل ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آج کے پاکستان کا اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے مسائل کا حل نئے صوبے ہیں، یا موجودہ صوبوں کی حدود میں رہتے ہوئے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرناہے؟وہ کہتے ہیں کہ محض جغرافیائی تقسیم کسی نظام کو کبھی بہتر نہیں بنا سکتی۔ نظام کو بہتر بنانے کے لیے آج کی دنیا میں اختیارات کا عدم ارتکاز پہلی ترجیح قرار دیا جاتا ہے۔
ان ماہرین کا موقف ہے کہ عوام مشکلات جھیل کر تھک چکے ہیں،اُن کی اکثریت کو نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی بحث میں کوئی دل چسپی نہیں، وہ بس ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں زندگی گزارنا آسان ہو۔ آج پاکستان کے عوام اختیارات کا عدم ارتکاز چاہتے ہیں۔
ان کی شدید خواہش ہے کہ فیصلہ سازی، وسائل اور انتظامی اختیار اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ اضلاع، شہروں اور مقامی حکومتوں تک منتقل ہوں۔ حالیہ مباحث میں بھی یہ نکتہ نمایاں ہے کہ مسئلہ صرف نئے صوبوں کی تعداد نہیں، بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کاہے۔
ملکی سطح کے کئی سیاست دانوں نے بھی نئی انتظامی اکائیاں تشکیل دینے کا مقصد اختیارات اور وسائل کو عوام کے قریب لانا قرار دیا ہے۔ بہت سے سیاسی اور سماجی حلقوں نے مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام کو بہت سے مسائل کے بنیادی حل کے طور پر پیش کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ نئے صوبے یاانتظامی اکائیاں بنانے سے انتظامی فاصلے کم ہوسکتے ہیں، بڑے صوبوں کا بوجھ تقسیم ہوسکتا ہے اور بعض علاقوں کی نمائندگی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے آئینی، سیاسی اور مالی سطح پر بڑی تبدیلیاں درکار ہوں گی، پھر بھی اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ اس سے عوام کی مشکلات کم ہوجائیں گی یا طرزِ حکم رانی بہتر ہوجائے گی۔
دوسری جانب اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنا کر تعلیم، صحت، صفائی، پانی، ٹریفک اور دیگر روزمرہ مسائل کے فیصلے عوام کے قریب کیے جا سکتے ہیں۔
مذکورہ ماہرین کے مطابق اگر آج جاری مباحث کی بنیادی وجہ طرزِ حکم رانی اور عوامی خدمات کا معیار بہتر بنانے کی خواہش ہے تو اس ضمن میں سب سے پہلے مؤثر، بااختیار اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتیں قائم کرنا زیادہ فوری حل ہو سکتا ہے اور نئی اکائیاں بنانے کا فیصلہ اس قدم کے بعد انتظامی کارکردگی اور عوامی مطالبے کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔
بلدیاتی نظام کے تجربات
پاکستان میں بلدیاتی نظام کا آغاز جنرل ایوب خان کے دورِ آمریت میں ہوا۔ اس وقت ملک دولخت نہیں ہوا تھا اور دو صوبوں، مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔ ایوب خان نے 1959ء میں بی ڈی ایکٹ (B.D.Act)نافذ کیا اور اسی ایکٹ کا سہارا لیتے ہوئے مشرقی اور مغربی پاکستان میں یک ساں طور پر بی ڈی سسٹم متعارف کرایا، باوجود اس امر کے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کی آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔
ایوب خان نے دونوں صوبوں میں بی ڈی ممبرز کی تعداد چالیس، چالیس (40/40)ہزار رکھی۔ ان بی ڈی ممبرز کا انتخاب عوام ووٹ کے ذریعے کرتے تھے، جس کے بعد منتخب بی ڈی ممبرز کو الیکٹورل کالج کی حیثیت حاصل ہوجاتی تھی اور یہی بی ڈی ممبرز، یونین کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب کرتے تھے۔ یہ نظام 15جون 1971ءکواوربی ڈی ایکٹ 1959ءکو 1972ء میں ختم کردیا گیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت برطرف کرکےجنرل ضیاءالحق نے ملک میں ماشل لا نافذ کیا اورنیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے لوکل گورنمنٹ آرڈی نینس مجریہ 1979ءنافذ کیا۔ اس آرڈی نینس کے تحت ملک بھر کو چھوٹے چھوٹے پنچاہتی حلقوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ہر حلقے کا سربراہ اور چیئرمین کونسلر ہوتا تھا جوبہ راہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا تھا۔ ضلعے کاسربراہ میئر ہوتا تھا جس کا انتخاب اس حلقے کے کونسلرز کے ذریعے عمل میں آتا تھا۔
اس بلدیاتی نظام کی وجہ سے عام لوگوں کو اپنے ہی علاقوں سے کسی بھی شخص کو بہ حیثیت کونسلر اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا موقع حاصل ہوا اور اسی نظام کی بہ دولت عوام کو اپنے بنیادی بلدیاتی مسائل، مثلاً پانی، سیوریج، سی سی فلورنگ، سڑکوں کی تعمیر، کھیل، صحت اور دیگر بنیادی مسائل حل کرانے کی سہولت حاصل ہوئی۔ اس نظام میں عوامی نمائندوں کو انتظامی اختیار تو حاصل تھا، مگر مالی اختیار نہیں مل سکا تھا۔
تاہم اتنا ضرور ہوا کہ بلدیاتی نمائندے کسی نہ کسی حد تک عوامی مسائل حل کرانے میں کام یاب ہو جاتے تھے۔ مالی اختیار بیوروکریسی کے پاس ہونے کی وجہ سے بلدیاتی نمائندے بدعنوانی وغیرہ پر قابو پانے میں ناکام رہتے تھے اور ان کے تمام ترترقیاتی منصوبے بیوروکریسی کے رحم وکرم پر رہتے تھے۔
اس نظام کے تحت ملک میں تین مرتبہ یعنی، 1987 1983, 1979 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے چوتھی مرتبہ1991میں سرحد، پنجاب اور بلوچستان میں انتخابات کرائے گئے لیکن سندھ کو عوامی نمائندگی سے محروم رکھا گیا۔
پھر ایک تجربہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے دور میں بھی کیا گیا۔ اُس نئے بلدیاتی نظام کے تحت پہلی مرتبہ 2 جولائی 2001 ءکو غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرائے گئے۔ دوسری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 18 اگست 2005 ءکو ہوئے۔
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا آخری تجربہ جنرل (ر) مشرف کے Devolution پلان کے تحت تھا۔ اگرچہ ہیئت مقتدرہ کے بابو آج اس منصوبے میں سے بھی کیڑے نکالتے نظر آتے ہیں، تاہم میک میں اختیارات کی تقسیم در تقسیم کا یہ یاک اچھا منصوبہ تھا جس کے ذریعے پاکستان میں انتظامی اختیارات افسر شاہی کے ہاتھوں سے عوامی نمائندوں کو منتقل ہونے کی بِنا پڑی۔
اس سے ایک طرف تو عوامی نمائندگان کے اختیارات میں اضافہ کرنا مقصود تھا اور د وسری طرف افسر شاہی کے کارندوں کو یہ باور کروایا گیا تھاکہ ملک کے اصل حاکم عوام ہیں اور ہیت مقتدرہ کا ٹولہ مملکت کا ما لک نہیں، نوکر ہے۔ یہ ایک بہت ضروری پیش رفت تھی اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں انگریز دور کی مخصوص ضروریات کے تحت افسر شاہی کو اختیارات اور طاقت کا منبع بنا دیا گیا تھا، کو جدید زمانے اور جدید ریاست کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے اس قسم کی منصوبہ بندی ناگزیر تھی۔
اگرچہ مشرف کے بلدیاتی نظام کے آڈٹ کے نظام میں کئی سقم تھے، جنہیں مناسب اقدامات کے ذریعے درست کیا جا سکتا تھا، تاہم یہ نظام بلدیاتی طرز حکومت کی اچھی مثال تھا جس میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی سطح کے نمائندوں کا کام ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ جاری کروانے، ٹھیکے دینے اور مال بٹورنے کے بہ جائے صرف قانون سازی تک محدود کر دیا گیا۔ مشرف کے اس منصوبے میں خوبیاں زیادہ اور خامیاں کم تھیں۔
اسی وجہ سے آج بھی بہت سے سیاسی حلقےاس نظام کی بحالی کا مطالبہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ منصوبہ بہ ظاہر حکم رانوں کی سیاسی انا کی نذر ہوگیا۔دوسری طرف افسر شاہی کے کارندے اس کے خلاف کمر بستہ رہے، کیوں کہ اس نظام نے افسر شاہی کے اختیارات پر کاری ضرب لگائی تھی۔
چناںچہ اناکے اسیر سیاست دانوں اور طاقت کے رسیا افسروں نے مل کر اس نظام ہی کا قلع قمع کر دیا جس سے عوام کو اختیارات منتقل ہونے کا آغاز ہوا تھا اور امید کی جا رہی تھی کہ اسمبلی کے اراکین کے علاوہ ایک متوازی قیادت بھی اُبھرسکتی ہے، جو حقیقی عوامی نمائندوں پر مشتمل اور بااختیار ہوگی۔
اشرافیہ، اقتدار اور اختیار
تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں اشرافیہ اقتدار اور اختیار کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے۔ چناں چہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اگر ملک میں بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوئے ہوتے تو یہاں حقیقی جمہوریت کو پنپنے کا غیر معمولی موقع مل سکتا تھا۔ اس طرح بلدیاتی نمائندے، جو آج ارکان اسمبلی کے مرہون منت ہیں، ان کے پاس اصل طاقت آ جاتی۔ تاہم ایسا ہوا نہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ سیاست داں جمہوریت کے فروغ کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کی تجویز تو دیتے ہیں، لیکن خود بلدیاتی انتخابات سے بھاگتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ توترقیاتی فنڈز کا معاملہ ہے جو بلدیاتی نمائندوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ تاہم فنڈز سے بھی زیادہ خطرہ اس بات کا ہوتاہے کہ بلدیاتی انتخاب باقاعدگی سے کرانے سے مقامی سطح پر بہت جلد ایک نئی سیاسی قیادت اُبھرسکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آبادی کا بیش تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس نئی متوازی قیادت کے ابھرنے کے امکانات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔چنان چہ سیاست داں خود اس نظام کی راہ میں رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اس کا توڑ یہ نکالا ہے کہ جنرل مشرف کے دور کے بلدیاتی نظام کی جگہ ضیاکے زمانے کے ماڈل کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دیا ہے۔
اس طرح عوامی نمائندے ضلعے اور تحصیل کی سطح کے سرکاری افسروں کے عملاً ماتحت کام کررہے ہیں۔ یوں افسر بھی خوش اور دوسری طرف صوبائی حکومتوں کے زیر ِاثر ہونے سے مقامی نمائندے، صوبائی یا قومی اسمبلی کےاراکین کے حکم کے بندے بھی بن جاتے ہیں۔ اس نظام میں پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ ٹھیکے ضلع کونسل کا چیئرمین جاری کرتا تھا اور افتتاحی تقریب کا دلہا صوبائی یا قومی اسمبلی کا رکن ہوتا تھا۔
اشرافیہ کی اصطلاح سے مرادوہ اقلیتی گروہ ہے جو مراعات حاصل کرتا ہے یا معاشرے کے بالائی طبقے پر قابض ہے۔ عام طور پر ، اشرافیہ کا تعلق حکم راں طبقے یا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو کسی خاص علاقے میں اپنی بالادستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ متعدد مرتبہ مختلف اشرافیہ کے مابین اپنے شعبے اور اثر و رسوخ کے مطابق تفریق پیدا کی جاتی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے استاد، شمس رحمان خان نے اپنے مضمون The Sociology of Elite میں ویبر اور مارکس کی تعریفوں کو یک جا کر کے اشرافیہ کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوں ان کے مطابق اشرافیہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے پاس وسائل (یعنی دولت، سرمایہ) موجود ہیں یا وہ سماجی (جیسے کہ مذہبی عہدہ، دانش ور) اور سیاسی (جیسے کہ فوجی افسران، بیورو کریٹس) رتبے کے حامل ہیں۔
پولیٹیکل اکانومی کے لٹریچر کا ایک بڑا حصہ اس بات پر بحث کرتا ہے کہ ایک سیاسی و معاشی، یہاں تک کہ سماجی نظام ،جب مستحکم ہو تو اس سے مراد یہ ہے کہ اشرافیہ کے تمام گروہ اس کی اس حالت (Equilibrium) پر متفق ہیں اور یہ کہ تمام بڑی تبدیلیاں اشرافیہ کے گروہوں کے درمیان تصادم (دوسرے لفظوں میں Disequilibrium ) کے سبب آتی ہیں جس کی سب سے بڑی مثال میں سول وار شامل ہے۔ یوں پاکستان کی موجودہ کس مپرسی اور ابتر حالت کے ذمے دار پاکستان میں اشرافیہ کے وہ تمام گروہ ہیں جو اس کی موجودہ حالت پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ہنوز اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے تین برس قبل جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اشرافیہ، کارپوریٹ سیکٹر، جاگیرداروں اور اسٹیبلیشمنٹ کو دی گئی اقتصادی مراعات ایک اندازے کے مطابق 17.4 ارب ڈالرز یا ملکی معیشت کا تقریباً 6 فی صد کے برابر تھیں اور ملک میں مراعات حاصل کرنے والا سب سے بڑا شعبہ کارپوریٹ سیکٹر ہے جو مجموعی طور پر 4.7 ارب ڈالرز کی مراعات یا سبسڈیز حاصل کررہا ہے۔
ان مراعات میں ٹیکس بریکس، چیپ اِن پُٹ پرائس، اعلیٰ آؤٹ پُٹ پرائس یا سرمائے تک ترجیحی رسائی، زمین اور خدمات تک ترجیحی رسائی سمیت دیگر مراعات شامل ہیں۔ دوسرے اور تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ مراعات ملک کے امیر ترین، ایک فی صد افراد حاصل کرتے ہیں جو ملک کی مجموعی آمدن کے نوفی صدکے مالک ہیں اور جاگیردار، جو آبادی کا1.1فی صد ہیں، لیکن تمام قابلِ کاشت زمین کے 22فی صدحصّے کے مالک ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی پارلیمان میں جاگیرداروں اور کارپوریٹ مالکان کی بھرپور نمائندگی ہے اور زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدوار جاگیردار یا کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی مراعات ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو غریب عوام کو دی جانے والی مراعات اور سبسڈیز کے خاتمے پر بحث کی جاتی ہے۔ اشرافیہ کو ملنے والی مراعات زیرِ بحث ہی نہیں آتیں کیوں کہ پارلیمان میں موجود نمائندگان طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اولی گارچی یا چند سری حکومت
انگریزی زبان میں ایسی حکومت کو جو محدود طبقے کی ہو،کےلیے Oligarchy کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اردو زبان میں اسے چند سری حکومت یا امرا شاہی کہا جاتا ہے۔ یہ امرا شاہی ہی ہے جس کی بدعنوانیوں کی وجہ سے قوانین کا نفاذ نہیں ہو پاتا۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ڈی پی میں بڑے معاشی شعبوں کا ٹیکس نیٹ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ چوبیس فی صد کے قریب ہے، لیکن ٹیکس نیٹ میں اس کا حصہ صرف ایک فی صد ہے۔
زراعت، ٹرانسپورٹ، ہول سیل، ری ٹیل اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے ٹیکس نیٹ سے تقریبا باہر ہی ہیں۔ حالاں کہ اگر انہیں پوری طرح ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور کم از کم ٹیکس بھی لیا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے سرکاری خزانے کو بارہ سو ارب روپے سالانہ مل سکتے ہیں۔ اسمگلنگ پرقابو پاکر بھی عوام کو کافی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔