کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے محکمہ پارکس کی انتظامیہ نے کورنگی نمبر 6 میں واقع کربلا گراؤنڈ میں برگد اور نیم کے 80 سال پرانے درخت کاٹنے کا مقدمہ درج کروانے سے انکار کر دیا۔
لانڈھی ٹاؤن کے حدود میں ہونے والی غیرقانونی سرگرمی کا ذمہ دار بھی لانڈھی ٹاؤن خود کو نہیں سمجھتا، جبکہ سندھ پلانٹیشن پروٹیکشن آرڈیننس 2002 کے تحت شہری علاقوں کے پارکس میں درختوں کی حفاظت کا ذمہ دار سندھ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ اور ان کے ادارے ہیں۔
کورنگی کربلا گراؤنڈ میں چند روز قبل 70 سے 80 سال پرانے برگد، نیم اور دیگر درخت اکھاڑ دیے گئے جبکہ ان درختوں کو ورثہ قرار دیا جانا چاہیے تھا، لیکن انہیں گرا دیا گیا۔
لانڈھی ٹاؤن کے چئیرمین کے مطابق قبضہ مافیا گروپ نے درخت گرائے ہیں۔ پولیس اور کے ڈی اے کو آگاہ کرنے باوجود کوئی روکنے نہ آیا۔جبکہ جیو نیوز کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکار درخت گرانے کے وقت موجود نظر آرہے تھے۔
اہل محلہ نے بھی الزام عائد کیا کہ پولیس کی سرپرستی میں درخت گرایا گیا ہے۔
محکمہ جنگلات سندھ کے مطابق ان درختوں میں چار جنگلی کیکر، تین کونوکارپس، ایک نیم اور سات برگد کے درختوں کو اکھاڑا گیا۔
ڈائریکٹر پارکس کے ڈی اے شکیل احمد خان نے جیو نیوز سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ وہ کوئی قانونی کارروائی نہیں کریں گے یہ کام متعلقہ تھانے کی پولیس کا ہے۔ زمین ہماری ہے، زمین پر غیرقانونی کارروائی متعلقہ ٹاؤن اور تھانے کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کے ڈی اے کی زمین پر قبضہ ہوا تو محکمہ کاروائی کرے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین اہم ہے اس پر موجود درخت نہیں۔
ماہرین کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے 2024 سے صوبہ بھر میں درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ عدالت کے حکم نامے میں میئر کراچی کو خاص طور پر ہدایت کی گئی وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر کے اندر اس وقت تک کوئی درخت نہ کاٹا جائے جب تک کہ یہ انتہائی ناگزیر نہ ہو۔ کسی درخت کو اگر کاٹنا ناگزیر ہوجائے تو متعلقہ ضلع کے سیشن جج سے اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کے ڈی اے کی عدم دلچسپی سے باقی درختوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، قبضہ مافیا باقی بچ جانے والے درختوں کو بھی گراسکتا ہے۔