وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ سسٹم کو ناکام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کسی نئے سیاسی اور انتظامی سسٹم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جبکہ اسی دور میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ موجودہ ہائبرڈ سسٹم بڑی کامیابی سے چل رہا ہے جس میں ہماری مقتدرہ اور منتخب سیاست دانوں کا اشتراکِ عمل نہ صرف ابھی تک باہمی تنازعات سے پاک ہے بلکہ خطے میں پاکستان کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو بھی چار چاند لگارہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ محسن نقوی اسی سسٹم کو ناکام قرار دے رہے ہیں جو انہیں برسر اقتدار لایا ہے ۔دراصل ملکی سطح پر کسی سسٹم کی کامیابی کا حقیقی دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ عوام کی زندگی، معاشی ترقی، جدید علوم کے حصول اور بہتر امن و امان کی صورتحال میں کتنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان تینوں اہداف کو اگر صرف ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو اسے خوشحالی کا نام دیا جا سکتا ہے درحقیقت خوشحالی ہی وہ منزل ہے جسکی تلاش میں دنیا کا ہر فرد سرگرداں ہے ۔
کچھ کویہ منزل حاصل ہو جاتی ہے اور کچھ اس تلاش میں مزید بھٹک جاتے ہیں۔ ہمارا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے جنہوں نے منزل کی تلاش کے نام پر پاکستان کو دنیا بھر کے ناکام سیاسی تجربوں کی لیبارٹری بنا رکھا ہے حالانکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے بڑے واضح الفاظ میں پاکستانی قوم کی منزل کی نشاندہی کر دی تھی۔ وہ پاکستان کو ایک جمہوری، لبرل اور سیکولر ملک دیکھنا چاہتے تھے جہاں عوام کی اپنے ووٹ سے منتخب حکومت تمام مذاہب کے پیروکاروں کو یکساں معاشی ،سماجی اور دیگر انسانی حقوق فراہم کرے۔ قائد اعظم ایک ماڈرن اور روشن خیال شخص تھے جنہوں نے اپنی پہلی کابینہ میں ایک ہندو قانون دان جو گندر ناتھ منڈل کو پاکستان کا وزیر قانون مقرر کیا جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ پاکستان کا دستور اور قوانین کسی مذہبی ریاست کو مدنظر رکھ کر نہیں بنائے جائیں گے ۔ان کے نزدیک پاکستان کا قیام ہندوؤں کی مذہبی تنگ نظری کا رد عمل تھا نہ کہ مسلم انتہا پسندی کا مظہر ۔۔لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ قائد کی وفات کے صرف چھ ماہ بعد پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد کے ذریعے جہاں نہ صرف قائد کے لبرل اور روشن خیال پاکستان کو پسِ پشت ڈال دیا بلکہ ہمیشہ کیلئے پاکستان کی شناخت پر ناختم ہونیوالے اختلافات کو جنم دے دیا ۔
اس وقت سے لے کر آج تک ہم اپنی منزل کی وضاحت نہیں کر پائے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے اپنی نامعلوم منزل کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں ۔ دوسری جانب ہندوستان نے آزادی کے صرف دو سال بعد اپنا مستقل آئین بھی بنا لیا لیکن ہم 25سال تک سرزمینِ بے آئین رہے آخر خدا خدا کر کہ ہم نے 1973ءمیں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ایک متفقہ آئین تو بنا لیا مگر افسوس اس آئین کو بھی آج تک حقیقی معنوں میں نافذ العمل نہیں ہونے دیا گیا۔
قیام پاکستان کے صرف 10سال بعد جنرل ایوب خان اور اسکندر مرزا نے پاکستان میں اس ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جسکی بنیاد یعنی 1946ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اب سیاسی تجربات کے ایک طویل اور نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے۔
ایوب خان نے پاکستان کی منزل بنیادی جمہوریت کا نظام یعنی بی ڈی سسٹم قرار دیاجس نے نہ صرف پاکستان کے قیام کے بنیادی نظریے یعنی پارلیمانی جمہوریت کو ختم کر دیا بلکہ دونوں حصوں میں علیحدگی کی بنیادیں بھی رکھ دیں۔ جسکی تکمیل جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کے دوران اس طرح ہوئی کہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ واحد دور تھا جس میں پاکستان کی منزل کی شناخت ایک جمہوری پاکستان کے طور پر ابھری جسکی بنیادوں پر1973ءکا آئین تشکیل دیا گیا اور یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب پاکستان اپنی جمہوری شناخت کے ذریعے آگے بڑھے گا ۔لیکن صرف پانچ سال کے بعد ایک اور طالع آزما نے اس سارے عمل کو ایک مرتبہ پھر تباہ کر دیا جنرل ضیا نے امریکی مفادات کی جنگ کو اسلامی جہاد قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سرزمین کو ہاتھیوں کی لڑائی میں جھونک دیا ۔
امریکہ تو یہ جنگ جیت گیا لیکن پاکستان کے عوام یہ جنگ ہار گئے۔ پاکستان نے اس نام نہاد جہاد افغانستان میں جو طالبان پیدا کیے اور جنہیں وہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کے محافظ قرار دیتا رہا ۔ وہ آج پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور بقیہ پاکستان کے وجود اور سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ جنرل ضیا کے نظام کی ناکامی کے بعد جنرل پرویز مشرف نے ضلعی گورنمنٹ سسٹم یعنی ڈی جی سسٹم کے تحت پاکستان کی ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ناکام ہو گئی آج کل ملک میں ہائبرڈ سسٹم کے نام سے پاکستان کو ایک اور شناخت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے اسی نظام کے وزیر داخلہ نے خود ہی ناکام قرار دے دیا ہے ۔
اب آگے کیا ہوگا کیا ہم سیدھے سادے حقیقی جمہوری عمل اور اسکے نتیجے میں ابھرنے والی عوام کی حقیقی قیادت کو راستہ دینے کی بجائے اپنی نامعلوم منزل کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اور ملک کو کسی اور بڑے سانحے سے دوچار کر دیں گے یا تاریخ سے کچھ سبق سیکھتے ہوئے پاکستان کو ایک نارمل ریاست میں تبدیل کریں گے جو صرف اسی طرح ترقی یافتہ اور مستحکم ہو سکتی ہے جیسے دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام عروج پر پہنچی ہیں۔