سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں واضح حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث امریکا کے جنگی مقاصد بار بار تبدیل ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عراق اور کویت میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ شروع کرتے وقت تہران میں ایرانی حکومت کے خاتمے کے علاوہ کوئی واضح مقصد طے نہیں کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو سکا تو ٹرمپ نے آنے والے ہفتوں میں مزید 5 یا 6 مقاصد پیش کیے تاہم اب یہ مقاصد ایک بار پھر تبدیل ہو گئے ہیں۔
ڈگلس سلیمان نے کہا کہ ٹرمپ اب آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے یا ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں۔
سابق امریکی سفارت کار کے مطابق ان مقاصد میں تبدیلی کو وائٹ ہاؤس میں موجود ریپبلکنز جنگی حکمتِ عملی کو واضح کرنا قرار دے سکتے ہیں جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنگ شروع کرتے وقت امریکا کو معلوم نہیں تھا کہ اسے کیا حاصل کرنا ہے اور اب جنگ سے نکلنے کے لیے اہداف کا معیار کم کیا جا رہا ہے۔