کراچی (اسٹاف رپورٹر ) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سال 2026ء میں اب تک کے سب سے زیادہ داخلوں کا سنگ میل عبور کرلیا ہے، جو یونیورسٹی کی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی تبدیلی کے سفر میں ایک اہم کامیابی ہے۔ اس کامیابی کا اظہار ڈائرریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز اینڈ سیکورٹی انجینئر ڈاکٹر صدام علی کھچی کی نگرانی میں یونیورسٹی میں منعقدہ بیچ 2026ء کی اورینٹیشن تقریب کے دوران ہوا جہاں نئے داخل ہونے والے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو داؤد یونیورسٹی فیملی میں خوش آمدید کہا گیا۔ سال 2026ء میں یونیورسٹی کو 5489 درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ 2023ء میں یہ تعداد 4568 تھی جو 20فیصد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی عرصے کے دوران دستیاب نشستوں کی تعداد 828سے بڑھ کر 1582ہوگئی ۔ سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ طلبہ کے داخلوں کی تعداد 2023ء میں 580 سے بڑھ کر 2026 ء میں 1256 ہوگئی یعنی دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ یہ پیشرفت داؤد یونیورسٹی میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین (ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) کی قیادت میں جاری منظم تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے2026ء کے بیج کا تعارفی اجلاس اور محفل میلاد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یونیورسٹی کی ترقی محض اعداد و شمار میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ اس کی اصل عکاسی تعلیمی پروگرامز کے معیار، معنویت اور استقامت میں ہوتی ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ داؤد یونیورسٹی کی ترقی کو صرف اعداد و شمار سے نہیں پرکھا جاسکتا، اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ یونیورسٹی کس قدر مضبوط، بامعنی اور معیاری تعلیم فراہم کررہی ہے۔ہمارا مقصد ایسی یونیورسٹی کی تعمیر ہے جو معنویت اور استقامت دونوں کی حامل ہو۔ صنعت کی ضروریات اور آنے والے کل کے چیلنجز سے ہم آہنگ پروگرامز میں سرمایہ کاری کرے ۔ نئے طلبہ اور ان کے والدین کی سہولت کیلئے اورینٹیشن تقریب دو سیشنز میں منعقد کی گئی۔ وائس چانسلر کے خطابات کے بعد تمام نئے داخل ہونے والے طلبہ میں خیرمقدمی اور داؤد یونیورسٹی فیملی سے وابستگی کے اظہار کے طور پر خوبصورت اور دیدہ زیب اسٹوڈنٹ کٹس تقسیم کی گئیں، جن میں بیگز، واٹر بوٹلز اور دیگر ضروری اشیاء شامل تھیں۔ طلبہ اور ان کے والدین میں فوڈ باکسز بھی تقسیم کیے گئے۔دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام عقیدت و احترام سے منعقدہ ایک روح پرور محفل میلاد النبی ﷺ پر ہوا، جس کا اہتمام حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بابرکت حیاتِ طیبہ اور تعلیمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔