• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری مسلم ورلڈ کیلئے یہ خبر دلچسپی اور یورپ کیلئے پریشانی و تشویش کا باعث ہے کہ پچھلے دنوں مسلم ملک مراکش کے ساٹھ ہزار نوجوان اسپین میں داخل ہو گئے۔ جن دوستوں نے سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز دیکھی ہیں، وہ ادراک کر سکتے ہیں کہ یہ نوجوان بڑے بڑے گروہوں کی صورت دوڑ لگاتے اور ہلہ بولتے ہوئے اسپین میں داخل ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی وجہ سے 57کے قریب افراد ہلاک بھی ہو گئے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ حکومت ساٹھ ہزار میں سے سینتیس ہزار افراد کو واپس مراکوبھیجنے میں کامیاب ہوئی ہے مگر بقیہ 23ہزار نوجوانوں کو تلاش کرنا، قابو پانا ایک ایسا ایشو ہے جس پر یورپ میں اچھی خاصی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فرانس، اٹلی، جرمنی اور یورپی ممالک نے اسپین سے سرحدی کنٹرول سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپ کی تشویش اس وجہ سے بھی ہے کہ یورپی یونین کی وجہ سے ایک یورپی ملک میں داخلے کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ لوگ اگلے ملک میں بھی جا سکتے ہیں کیونکہ سرحدوں پر اس نوع کی کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں۔ اس لیے یورپی ممالک کی پریشانی قابل فہم ہے۔ویسے بھی امیگریشن کے حوالے سے اسپین کو فرینڈلی کنٹری سمجھا جاتا ہے ایک مرتبہ درویش نے اپنے ایک ڈپلومیٹ فرینڈ سے پوچھا یورپ کا ویزہ لگوانے کیلئے سب سے بہتر ملک کونسا رہتا ہے، اس کا جواب تھا اسپین۔ درویش عرض گزار ہے کہ اگرا سپین گورنمنٹ کل کو انھیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو بھی جائے پھر بھی کچھ سوالات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

مراکش ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جہاں کے شاہ محمد ششم ملک کی سب سے بڑی قابل احترام اور مؤثر شخصیت ہیں۔ پرائم منسٹر عزیز اخنوچ کی منتخب حکومت بھی موجود ہے۔ آخر یہ نیک لوگ اپنے اسلامی ممالک کو اتنا اچھا خوشحال اور ترقی یافتہ کیوں نہیں بناتے کہ غیر مسلم یہاں رہنے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھیں۔ مراکو تو رہا ایک طرف، خود ہمارا پیارا پاکستان جسے ہم نے انگریزوں سے لڑکرایک ماڈل اسلامی مملکت کے خواب دکھا کر حاصل کیا تھا۔ 1947ءمیں ہمارے مسلمان جس ذوق شوق سے یہاں پہنچے تھے، آج اسی ذوق شوق سے اسے چھوڑ کر یورپ پہنچ جانا چاہتے ہیں۔ اسی تگ و دو میں وہ بیچارے کبھی ٹریولرز یا انسانی اسمگلرزکے ہاتھوں لٹتے ہیں اور کبھی چوری چھپے غیر قانونی یورپ جانے والی کشتیوں میں ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی لاشیں جب گھروں میں پہنچتی ہیں تو ایک نوع کی قیامت برپا ہوتی ہے مگر بہتر مستقبل کے شوق میں یورپ پہنچنے کی لگن ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لوگ آخر اپنے ملکوں کو کیوں اس قابل نہیں بناتے، یہاں ترقی، خوشحالی، آزادی اور انسان دوستی وانسان نوازی جو آج مغرب یا یورپ کا طرۂ امتیاز ہے، ہم لوگ اپنے ملکوں اور اپنے لوگوں کو اس سے بہرہ ور کیوں نہیں کرتے؟ وہ انسانی حقوق اور انسانی آزادیاں ان معصوموں کو کیوں نہیں دیتے؟ ہم مغربی تہذیب کو گندے انڈے اور نہ جانے کیا کچھ بول جاتے ہیں۔ ان کی ڈیموکریسی کو ویسٹ کا شیطانی نظام کہتے ذرا نہیں جھجکتے،انکی لبرٹی و فریڈم کو مادر پدر آزاد،کھلی بے حیائی و گندگی قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے، ان کی مغربی تہذیب کو برا ثابت کرتے ہوئے پیشگوئیاں فرماتے ہیں کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی

شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہوگا

آج اسی مغرب اور مغربی تہذیب کو بالخصوص ہماری مسلم اقوام سے ایک نوع کا خوف ہے کہ یہ لوگ ہمارے ممالک میں آ کر مذہبی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہماری تہذیبی اقدار پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ یہاں آ کر شریعت نافذ کرنے کے مطالبات شروع کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہمارے ممالک میں چائلڈ ابیوز جیسے سنگین اور ایسے دیگر مختلف النوع جرائم میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آج پورا مغرب ہماری اس اسلامی یلغار سے خوفزدہ ہے اور اپنے امیگریشن قوانین کو تبدیل کرنے کیلئے ان کی حکومتوں پر عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ لوگوں کے پاس اعلیٰ ضابطہ حیات موجود ہے، کتاب مقدس کی صورت آخری خدائی یا الہامی پیغام بعینہ آپ کے پاس محفوظ ہے تو اس کی برکت سے آپ خود اپنے معاشروں کو اتنا اچھا کیوں نہیں بنا لیتے ہو کہ تمہارے نوجوان مغرب کا رخ کرنے کی بجائے اپنے مذہب اور اپنی مذہبی اقدار کے گیت گائیں اور بہتر زندگی تلاش میں یورپ جانے کا خبط ذہنوں سے نکال پھینکیں۔ ویسے بھی اسلامی تعلیمات میں یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اسلامی مملکت ہی دارالسلام یعنی جائے امن و سلامتی ہوتی ہے جبکہ غیر اسلامی مملکت کو دار الکفر سے بڑھ کر دار الحرب قرار دیا گیا ہے۔ یعنی بد امنی لڑائی اور جنگ والی جگہ۔ مسلمانوں کو روز اول سے حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو! دار الکفر یا دار الحرب یعنی غیر اسلامی ملک سے ہجرت کرتے ہوئے دارالسلام یعنی اپنے اسلامی ملک میں لوٹ آؤ۔ سوائے انتہائی ناگزیر مجبوری کے وہاں رہنے کو بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ہماری بنیادی اسلامی تعلیمات ہی نہیں بلکہ چودہ صدیوں پر محیط اسلامی شریعہ و فقہ کی کتابیں ان مباحث سے بھری پڑی ہیں۔ نا جانے ہمارے نوجوان ان کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے ۔ لہٰذا درویش کی اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی خدمت میں التماس ہے کہ یا تو آپ لوگ ان مغربی کافر ممالک کو خیرباد کہہ دیں، ان کا لباس وضع قطع ، رہن سہن سب ترک کر دیں، خالص اسلامی رنگ میں رنگے جائیں اگر یہ نہیں ہو سکتا تو پھر ان کی تہذیب اور تہذیبی اقدار سے نفرت کرنا اور برا کہنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ کھلی منافقت ہے۔

تازہ ترین