میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ آگ اچانک ہی لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے، اے سی میں شارٹ سرکٹ ہوا۔
کے ایم سی آفس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ آگ سے فرنیچر جلا ہے تاہم اس پر قابو پا لیا گیا ہے، میرا کمرہ جل گیا کوئی فائل ایسی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ میرے پاس جو فائلیں ہوتی ہیں وہ بغیر دستخط شدہ ہوتی ہیں، میرے دستخط کے بعد وہ فائلیں متعلقہ افسران کے دفاتر تک پہنچا دی جاتی ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ میں الزامات سے گریز کرتا ہوں، اب یہ الزام نہ لگ جائے گا کوئی ریکارڈ جل گیا، چیف فائر افسر کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
میئر کراچی نے کہا ہے کہ لانڈھی میں فیکٹری میں لگی آگ بجھانے میں عملہ رات سے لگا ہوا ہے، آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا۔