• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طاقتور مصنوعی ذہانت کو تباہی پھیلانے کیلئے جسمانی اختیار حاصل ہونا ضروری نہیں: نوبیل انعام یافتہ سائنس دان کا انتباہ

مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن---فائل فوٹو
مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن---فائل فوٹو 

مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر کہلانے والے، نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 10 سال میں مصنوعی ذہانت کے باعث پوری انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد خطرہ ایک غیر معقول اندازہ نہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں جیفری ہنٹن نے کہا کہ انسانوں نے اس سے پہلے ایسی مخلوق نہیں بنائی تھی جو مستقبل میں ان سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے، اس لیے اے آئی کے نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔

جیفری ہنٹن کے مطابق اے آئی سے خطرے کو صرف 1 فیصد سمجھنا بھی انتہائی غیر ذمے دارانہ ہو گا جبکہ 10 فیصد کا اندازہ بھی نامعقول نہیں تاہم کوئی بھی شخص اس خطرے کی درست شرح بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

جیفری ہنٹن نے کہا کہ انتہائی طاقت ور مصنوعی ذہانت کو دنیا میں تباہی پھیلانے کے لیے حقیقی دنیا میں جسمانی اختیار حاصل ہونا ضروری نہیں، سپر اے آئی لوگوں سے بات چیت کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی ٹیکنالوجی خطرناک حیاتیاتی اور کمپیوٹر وائرس تیار کرنے، بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرنے اور دیگر ایسے نقصانات کا باعث بن سکتی ہے جن کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے۔

جیفری ہنٹن کے مطابق سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اس انداز میں تیار کیا جائے کہ وہ انسانوں کے لیے نقصان دہ مقاصد اختیار نہ کرے۔

سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید