سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ان دنوں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ’80ء کی دہائی‘ کے نئے ٹرینڈ نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
صارفین نے سوشل میڈیا فیڈز کو پرانی طرز کے فوٹو البمز میں تبدیل کر دیا ہے، تاہم تیزی سے مقبول ہونے والے اس ٹرینڈ نے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے ماحولیات پر اثرات کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
اے آئی سے ایک تصویر تیار کرنے میں صرف چند سیکنڈ لگ سکتے ہیں، لیکن اس عمل کے لیے بڑی مقدار میں توانائی استعمال کرنے والے ڈیٹا سینٹرز، پانی پر مبنی کولنگ سسٹمز اور وسائل کی زیادہ کھپت رکھنے والا ہارڈویئر درکار ہوتا ہے۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی اور ہگنگ فیس کی ایک تحقیق کے مطابق ایک اے آئی تصویر تیار کرنے میں 0.01 سے 0.29 کلو واٹ تک بجلی خرچ ہو سکتی ہے۔
یہ مقدار بظاہر معمولی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم جب لاکھوں صارفین ایک ہی تصویر کے متعدد ورژنز تیار کرتے ہیں تو اس کا مجموعی ماحولیاتی اثر نمایاں ہو جاتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ 2030ء تک دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب دگنی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جس کی بڑی وجہ اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرورز کو زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کو پانی کی بھی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریور سائیڈ کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ GPT-3 کی تربیت کے لیے تقریباً 7 لاکھ لیٹر میٹھا پانی استعمال ہوا تھا۔
ماحولیاتی لاگت صرف اے آئی کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ جی پی یوز اور دیگر ہارڈویئر کی تیاری تک بھی پھیلی ہوئی ہے، اس عمل میں کان کنی، سیمی کنڈکٹرز کی تیاری اور اہم معدنیات کا استعمال شامل ہے۔
مسئلہ لازماً اے آئی کو ترک کرنے کا نہیں بلکہ اسے زیادہ ذمے داری اور سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کا ہے۔
ایک تصویر تیار کرنا بظاہر بے ضرر معلوم ہوتا ہے لیکن مختصر مدت کے سوشل میڈیا ٹرینڈز کے لیے اے آئی ٹولز کا بار بار استعمال اس ٹیکنالوجی کے مجموعی ماحولیات پر اثرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
