• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوئٹزر لینڈ: آواز کی لہروں سے چلنے والے ننھے ڈرونز تیار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

سوئٹزر لینڈ کے ماہرین نے آواز کی لہروں کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی چھوٹے ڈرونز کو حرکت دینے کا نیا طریقہ تیار کر لیا۔

سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لوزان (EPFL) کے سائنسدانوں نے ایسے ننھے ڈرونز تیار کیے ہیں جو آواز کی لہروں کے ذریعے ہوا اور پانی میں حرکت کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ماہرین نے ان چھوٹی گاڑیوں اور ڈرونز میں خاص کھوکھلے ڈھانچے نصب کیے ہیں جنہیں ’کیویٹیز‘ کہا جاتا ہے، یہ ڈھانچے آواز کو حرکت دینے والی قوت میں تبدیل کرتے ہیں، جبکہ پیدا ہونے والی تھرسٹ کی مقدار آواز کی فریکوئنسی پر منحصر ہوتی ہے۔

EPFL کی مائیکرو بائیو روبوٹک سسٹمز لیبارٹری نے گول اور گھنٹی نما کیویٹیز تیار کی ہیں، آواز کی لہروں سے ان کے اندر موجود ہوا میں ارتعاش (vibration) پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہوا ایک مرکوز جیٹ کی صورت میں باہر نکلتی ہے۔

 ہوا کے اندر آنے اور باہر نکلنے کے انداز میں فرق ڈرون کو آگے بڑھانے کے لیے تھرسٹ پیدا کرتا ہے۔

محققین نے اس مقصد کے لیے ’ہیلم ہولٹز ریزوننس‘ نامی اصول استعمال کیا ہے، جسے خالی بوتل کے منہ پر ہلکی پھونک مارنے سے پیدا ہونے والی آواز کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے تقریباً 1 سینٹی میٹر لمبی ماڈل کشتیاں بھی تیار کی ہیں، جن میں 3 تک کیویٹیز نصب کی گئی ہیں اور ہر کیویٹی کو مختلف فریکوئنسی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

اسپیکر سے آواز کی فریکوئنسی تبدیل کر کے مختلف کیویٹیز کو فعال کیا جا سکتا ہے، جس سے کشتیاں مختلف سمتوں میں حرکت کرنے، رکاوٹوں سے بچنے اور پہلے سے طے شدہ راستوں پر خودکار طور پر چلنے کے قابل ہوئیں، اسی نوعیت کے تجربات اڑنے والے مائیکرو ڈرونز کے ساتھ بھی کیے گئے۔

محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں روایتی موٹرز، گیئرز یا مقناطیسی پرزوں کی ضرورت نہیں، جس کی وجہ سے ایسے آلات کو انتہائی چھوٹا اور ہلکا بنایا جا سکتا ہے۔

EPFL لیبارٹری کے ڈائریکٹر کے مطابق مستقبل میں ایک ہی لچک دار ڈیوائس میں مختلف آوازوں کے لیے حساس کئی ڈھانچے نصب کیے جا سکتے ہیں، جو مختلف فریکوئنسی کی آواز سن کر ڈیوائس کے مخصوص حصوں کو حرکت، خم یا ارتعاش دے سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے ایرو ڈائنامک روبوٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو آواز کے ردِعمل میں اپنی شکل یا سمت تبدیل کر سکیں۔

 آواز کی لہروں کو استعمال کرتے ہوئے اشیاء کو فضا میں معلق رکھنے کے تجربات بھی پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید